| بلاگز | اگلا بلاگ >>

نئے شہر سے پناہ ہی بہتر

اصناف:

ہارون رشید | 2011-06-09 ،15:43

پاکستان کے جیسے حالات چل رہے ہیں اس میں بڑی تعداد میں اس کے شہری ناامیدی اور پژمردگی کا شکار ہو رہے ہیں۔

انہیں لگتا ہے کہ اب بہتری کا امکان کم ہے۔ نہ تو امن عامہ میں بہتری کی امید ہے اور نہ ہی گلی نالی کی تعمیر کے لیے فنڈز ہیں۔ ایسے میں محسوس ہوتا ہے کہ ریاست اور حکومت کے اعلی ترین عہدے پر کام کرنے والے صدر آصف علی زردای بھی لاتعلق ہوچکے ہیں۔

عدالتی حکم کے بعد وہ ایوان صدر میں سیاسی اجلاس تو منعقد نہیں کر پا رہے لیکن آخر اتنے بڑے محل میں کچھ تو کرنا ہے۔ باغبانی سے تو وہ رہے۔ لگتا ہے انہوں نے بھی پاکستان کی حالت بہتر بنانے کی حد تک ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ وہ اب ایک نیا، غالبا چھوٹا اور زیادہ 'مینج ایبل' شہر آباد کرنے میں مصروف ہیں۔ ہر دوسرے روز وہ ذوالفقار آباد سے متعلق اجلاسوں کی صدارت کر رہے ہیں۔

اس نئی آبادی کا ماسٹر پلان اس سال کے اواخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس شہر کے لیے ضلع ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے پسند کیے گئے ہیں۔ لیکن سرکاری بیان کے مطابق یہاں بیچز اور ٹرانسپورٹ کا جدید نظام ہوگا۔ مجھے بھی اس نئے شہر میں ایک پلاٹ چاہیے لیکن میری چند شرطیں ہیں۔

نمبر ایک: اثاثہ سمجھے جانے والے طالبان اور القاعدہ کو پلاٹ نہیں دیے جائیں گے۔

نمبر دو: یہاں سکیورٹی ادارے اپنے لوگوں کو نہیں ماریں گے۔

نمبر تین: بجلی/پانی چوبیس گھنٹے دستیاب رہیں گے۔

نمبر چار: مہنگائی قابو میں رہے گی۔

نمبر پانچ: انصاف سستا اور فوری ملے گا۔

نمبر چھ: تعلیم و صحت کی مفت سہولیات دستیاب ہوں گی۔

اگر یہ بھی باقی ملک کی طرح کا کوئی شہر ہے تو میں کم از کم دلچسپی نہیں رکھتا۔ پاکستان کو تو چھوڑ نہیں سکتا لیکن اس نئے شہر سے پناہ ہی بہتر۔

تبصرےتبصرہ کریں

  • 1. 16:25 2011-06-09 ,Najeeb-ur-Rehman، لاہور :

    کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں نہتے سرفراز نامی نوجوان کی دن دھاڑے ہلاکت پر وزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے ذاتی طور پر تحقیقات کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم بڑے پرجوش انداز میں کیا ہے۔ بندہ پوچھے کہ رینجرز کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت کی ویڈیو ٹی وی چینلز پر دکھائی گئی ہے جس میں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ رینجرز اہلکار نے کمزور سے نوجوان کی نہ ہی بات سُنی، نہ ہی اسے نزدیک آنے دیا گیا اور سرفراز پر کمانڈو ایکشن تانی رکھا حالانکہ مقتول نے مقتول نے کوئی مزاحمت بھی نہیں بس اپنی گذارشات پہنچانے کی بار بار کوشش کی مگر رینجرز کے سپاہیوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور نہ ہی ذرا بھر بھی رحم کے جذبات اُمڈے اور کھڑے کھڑے ایک شہری کو چنے سمجھتے ہوئے بھون ڈالا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اب کیا تحقیقات کرنے کو باقی ہیں؟ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کونسی رکاوٹ باقی ہے؟ انصاف میں تاخیر بذاتِ خود سب سے بڑی نا انصافی ہوتی ہے لہذا انکوائری یا تحقیقات کا قطعآ کوئی جواز باقی نہیں رہتا جب قاتل رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں۔ قادری کو اگر سزا ہو جاتی تو شاید ہی ایسا واقعہ رونما ہوتا۔ سزائیں بر وقت نہ ملنا، جرائم میں اضافہ اور جرم کے ارتکاب کرنے والوں کو حوصلہ بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، شدت پسندوں، بنیاد پرستوں، دہشتگردوں اور قاتلوں کے لیے محفوظ ترین جگہ ہے۔ اس تناظر میں بھارت کا یہ کہنا بہت وزن رکھتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین قانون شکنوں کے لیے ‘پناہ گاہ‘ ہے۔

  • 2. 17:12 2011-06-09 ,Najeeb-ur-Rehman، لاہور :

    محترم ہارون رشید صاحب، میں آپ کی شرائط سے بالکل متفق ہوں۔ جہاں جان و مال و صحت کے تحفظ کی کوئی ضمانت ہی نہ ہو، اس شہر میں اڈا لگانے سے تو کہیں بہتر ہے کہ سادھو لوگ کی طرح کسی جنگل میں اڈا لگا لیا جائے۔ جانور تو پھر بھی تب حملہ کرتے ہیں جب ان کو طیش دلوایا جائے، یا کچھ کہا جائے۔ جبکہ شہروں میں رہنے والے اور ان شہروں کے رکھوالے “سماجی جانور“ تو خود باشندوں کو طیش دلواتے ہیں تاکہ انہیں اپنے “حیوانی جذبات“ کو خارج کرنے کے لیے کوئی بہانہ مل سکے۔

  • 3. 17:54 2011-06-09 ,ڈاکٹر الفريڈ چارلس :

    ہارون رشيد صاحب ! آپ شايد بھول گئے کہ صدر محترم کا ديگر کے علاوہ ايک شغل تعميراتی کام بھی ہے۔ سياست ميں سرگرم ہونے اور شہيد محترمہ بے نظير بھٹو سے رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے سے قبل وہ ايک تعمیراتی کمپنی چلا رہے تھے۔ اب تک کے ان کے تمام سياسی و سماجی فيصلے اس بات کے عکاس ہيں کہ ان کے پس پردہ ان کا تجربہ کار دماغ کام کر رہا ہے۔ ذوالفقار آباد بسانے کا خيال بھی اسی زمرے ميں آتا ہے۔ ٹھٹھ کے قريب جگہ کا انتخاب اور اسے ذوالفقارآباد کا نام دينا بھی ان کی دورانديش و کامياب حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ٹھٹہ کو اب بھٹو يا مخدوم امين فہيم اپنا حلقہ نہيں کہہ سکيں گے۔ يہاں بسنے والے اب بلاول بھٹو ذرداری کے مستقبل کے ووٹر ہونگے۔ ٹھٹھ کے شيرازي،ملکاني، جوکھيو،پليجو اب شير کی کچھارسے اپنا حصہ نہيں مانگ سکيں گے۔ حال ہی ميں مفاہمت کی سياست پر انہوں نے شيرازيوں کو سندھ حکومت ميں شامل کرنے کا فيصلہ کيا تو کچھ ہلچل مچی تھی ليکن صدر نے اپنے رفقاء کو رام کرکے ايک با پھر سے اس عضيم الشان منصوبہ پر بھرپور توجہ دی ہے۔ اور ہاں ہارون صاحب اس بات کی وضاحت ضرور کر ديں کہ پلاٹ لينے والی بات محض ايک خام خيالي، محض استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ کئی يار دوست اور عام لوگ آپ کو تو اس فہرست ميں شامل کرديں گے جس کا مطمع نظر محض حصول پلاٹ ہے۔ دوسرے زرداری صاحب اور ان کے مصاحبين وترجمان کہيں گے کہ صحافی بھی اس منصوبے ميں پلاٹ لينے کے خواہش مند ہيں! اس کو بطور مفت کی مشہوری کے ليے استعمال کرسکتے ہيں۔

  • 4. 18:07 2011-06-09 ,فیاض امر :

    خیالی نرگ میں رہتے خیالی سورگ "یوٹوپیا" کی مالا جپتے۔ اگر ہمارے ریاستی ادارے اس طرح کا نہ سوچیں تو کیا سوچیں؟ ہماری مقدس گائے ماتا جیسے ادارے اپنا کام ویسے ہی کر رہے ہیں جیسے ستر کی دہائی سے کرتے آر ہے ہیں۔۔۔ حضور والا، ہم نے شکرے یار بنائے ہیں جو ہمارے خون پر ڈریکولا کی طرح پلتے ہیں۔۔۔ جناب نجیب الرحمٰن صاحب نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اب یہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے والے ہیں، دکھ صرف اس بات کا ہے کہ ابھی پتہ نہیں کتنا خون درکار ہوگا اس منزل تک پہنچتے پہنچتے۔۔۔

  • 5. 19:06 2011-06-09 ,Najeeb-ur-Rehman، لاہور :

    ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
    اک حشر اُس زمیں پہ اُٹھا دینا چاہیے

  • 6. 20:19 2011-06-09 ,ساحر خان رياستہاۓ متحدہ امريکہ :

    تحقيقاتی کميٹی بنانے کی تو ضرورت ہی نہيں جبکہ جرم تو ثابت ہی ہو چکا ہے۔ حکومتوں کی سطح پر يہ کميٹيوں کا رواج بس کسی معاملے کو طول دينے اور ختم کرنے کی ايک پرانی روش چلی آرہی ہے۔ ميں تو کہتا ہوں کہ اس کميٹی بازی کو ختم کرکے اب آگے بڑھا جاۓ۔ بات سيدھی سی ہے کہ ملزموں کو سيدھا عدالت لے جايا جاۓ اور عدالتيں بھی خدا کی ليۓ مقدمات کو طول دينے والی روش ختم کريں تاکہ لوگوں کو جلد انصاف ملے۔ رہی بات صدر صاحب کے نۓ شہر تعمير کرنے کی تو وہ بے چارے بھی کام نہ ہونے کی وجہ سے بور ہو جاتے ہونگے اس لی کوئی نہ کوئی مشغلہ تو چاہيۓ۔ اب بلاول زرداری کی عوام سے جوشيلی خطابت کی ٹريننگ بھی ختم ہوچکی ہوگی تو کرنے کو کچھ نہيں بچا۔ ميں تو صدر صاحب کو مشورہ ديتا کہ کيوں نہ گھر بسايا جاۓ؟ اس طرح آپکا خيال رکھنے والی مل جاۓ گی بچوں کو ممی اور عوام کو ملکہ نصيب ہو جاۓ گی جس کی کمی آپ بہرحال محسوس تو کر ہی رہے ہونگے۔ يہ تعميراتی کام تو فارغ وقت کے ليۓ اچھے ہوتے ہيں مگر يہ کام ريٹائرمنٹ کے بعد (جب بلاول وزير اعظم بن جاۓ) بھی تو ہو سکتے ہيں۔

  • 7. 21:55 2011-06-09 ,گل بادشاہ پرديسي،سڈنی :

    پاکستان ميں ايک نيا شہر تو بن سکتا ہے مگر ايسا جيسی آپ کی توقع ممکن نہيں کيونکہ آپ کے چھ نکات پہ عمل کروانے کے ليے کچھ مزيد اقدامات کی ضرورت ہوگی مثلاً ُٹيکس کی وصولی کا بہتر انتظام ( تعليم اور صحت مفت ہوگي) کيونکہ موجودہ حالات ميں سرکاری ملازم تو ٹيکس ديتے ہيں مگر دو سو روپے کلو دال بيچنے والے ڈنڈی مارتے ہيں تو شہری اپنے پيسوں سے حکومت چلائيں نہ کہ بيرونی امداد سے۔ ايسا صرف اسی صورت ممکن ہے اگر اس شہر کو ايک آزاد اور خود مختار رياست کا درجہ ديا جائے اور اس کا اپنا سيکولر آئين ہو اور جو بھی وہاں پلاٹ خريدے اسی آئين کے تحت حلف اٹھائے اور مسجدوں ميں سرکاری مولوی بھرتی کيۓ جائيں جو کہ صرف حکومت کا لکھا ہوا خطبہ پڑھيں اور زيادہ تشريح سے پرہيز کريں۔ شہرکے گرد باڑ بھی لگانا ہوگی جيسی بھارت نے اپنی سرحد پر لگا رکھی ہے ورنہ کوئی امريکہ کو مطلوب دہشت گرد بھی آکر چھپ سکتا ہے۔ اگر ايسا شہر بن جائے تو بہت بہتر کيونکہ اس انفراديت کو ديکھ کر ہوسکتا ہے کہ باقی شہروں کے لوگ بھی سبق سيکھيں آخر خربوزے کو ديکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔

  • 8. 23:00 2011-06-09 ,گل بادشاہ پرديسي،سڈنی :

    نا اميدي اور پژمردگی کی بنيادی وجہ يہ ہے کہ بحثيت قوم ہم اپنی شناخت کھو چکے ہيں اور قانون تو بناتے ہيں مگر صرف قانون شکنی کے ليۓ، نماز يا مذہبی رسومات صرف دکھاوے کے ليۓ،شراب پہ پابندی سب پيتے ہيں، زنا کی سزا کچھ بھی ہو مگر کھلے عام ہوتا ہے، چور وہ جو پکڑا جائے، رشوت کے بغير سرکاری کام کروانا ممکن ہی نہيں، عام آدمی کی عدالت تھانے دار تک ہوتی ہے، سياستدان اپنی سياست ملک کا وقار بيچ کر کرتے ہيں، غنڈہ عناصر نے مذہبی تنظيموں کی چادر اوڑھ لی اور ايسے ميں کالجوں اور يونيورسٹيوں ميں عليحدگی پسند تنظيموں کے ناگ نوجوانوں ميں انتشار پيدا کر رہے ہيں۔ تعليمی اداروں ميں اساتذہ طلباء کو وطن سے محبت کا درس دينے ميں ناکام اور والدين کا بے تحاشہ بچے پيدا کرنا بغير پلاننگ کے تو ايسے ميں آپ بدامنی کو کيسے روکيں گے۔ صرف سياستدان، فوج اور ميڈيا حب الوطنی دکھائيں جيسا کہ بھارت ميں ہے تو کم از کم برے حالات سے بھی خندہ پيشانی سے نمٹا جاسکتا ہے اور بھارت ايسا کر رہا ہے حالانکہ وہاں بھی عام آدمی کی حالت بہتر نيں اور قانون شکنی بھی ہوتی ہے مگر بدنام نہيں۔

  • 9. 2:01 2011-06-10 ,Daniyal Danish :

    آپ کی شرائط ملکی مفاد کے خلاف ہیں۔ اگر کسی بھی شہر میں آپ کی شرائط کے مطابق سہولیات فراہم کر دی گئیں، تو سارے ملک کے لوگ وہاں رہائش اختیار کرلیں گے، آبادی میں اضافہ ہوجائے گا اور لوگ بےلگام ہوجائیں گے، لہٰذا آپ کی شرائط یکسر مسترد کی جاتی ہیں۔

  • 10. 3:58 2011-06-10 ,Muhammad suleman :

    ہارون صاحب کے اس بلاگ سے اندازہ ہوگیا کہ ہمارے صدر محترم اور دوسرے حکومتی کارندوں کی ترجیحات کیا ہیں۔ ان ترجیحات کے ہوتے ہوئے کون سرفراز شاہ کے قتل کی تحقیقات کرےگا۔ اس ملک کے محافظ ہیں ان کا یہی کا م ہے کہ نہتے شہریوں پر گولیا ں چلائیں ،کیا اس ملک میں ان کے لیے کوئی عدالت نہیں جہاں ان سے بدلہ لیا جاسکے ؟

  • 11. 13:26 2011-06-10 ,اظہر :

    ميرے پاس پلاٹ کے پيسے آئے تو باہر کہيں کا ويزہ لگوا لوں گا۔

  • 12. 13:53 2011-06-10 ,محمد احمد خان :

    ہارون رشيد صاحب ! یہ تو پلاٹ نہ لینے والی باتیں کر رہے ہیں، ایسا پاکستان کا کوئی شہر نہیں جہاں ان مافیا کا قبضہ نہ ہو۔ لوگ دن دیہاڑے اپنے ہی اداروں کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں، کیا اب بھی آپ کی آنکھیں نہیں کھلیں؟

  • 13. 13:56 2011-06-10 ,محمد احمد خان :

    رینجرز نے ایک ماں سے بیٹا چھین لیا ہے۔ یہ قتل ریاستی دہشت گردی ہے۔ یہ ملک ہے یا کوئی جنگل۔ کوئی لکھتا ہے تو سلیم شہزاد بنا دیا جاتا ہے۔یہ ہمارے نگہبان ہیں یا قاتل؟ زرداری کو شہر کی پڑی ہے اور ملک ہاتھ سے جا رہا ہے۔ اب تو ان تجزیوں پر یقین آنے لگا ہے جن میں پاکستان کو ایک فیل سٹیٹ کہا جاتا ہے یا پھر کہا جاتا ہے کہ یہ ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ہم بیوقوفوں کی طرح باہر دشمن ڈھونڈ رہے تھے، معلوم ہی نہیں کہ جن اداروں کو ہم اپنا خوں دے کر مضبوط کر رہے ہیں وہی یہ کام کر رہے ہیں۔

  • 14. 15:01 2011-06-10 , رضا :

    چليۓ ايک شہر ہم بھی بساتے ہيں
    نام ہو گا پاکستان
    بنے گا اس ووٹ سے
    جو ميرٹ پر ديا

    وہاں کسی عفريت کا گزر نہ ہوگا
    وہي ہوگا جو ہم چاہيں گے
    ہم ہی تو ہوں گے کرتا دھرتا
    اس ووٹ کی طاقت سے
    جو ميرٹ پر ديا

  • 15. 16:19 2011-06-10 ,khan :

    رینجرز کو صرف ربڑ بلٹ دیں۔

  • 16. 17:00 2011-06-10 ,Najeeb-ur-Rehman، لاہور :

    ‘یہاں تو شہد کی مکھی بھی خوش نہیں رہتی
    یہ شہر چادریں پھولوں پہ تان دیتا ہے‘

  • 17. 18:38 2011-06-10 ,نصیر احمد عباسی :

    مجھے بھی انہی شرائط پر وہاں ایک پلاٹ چاہیے۔

  • 18. 1:22 2011-06-11 ,غلام صفدر- قاہرہ، مصر :

    خیر یہ تو اچھی تجویز ہے اور اس سے دور رس نتائج حاصل ہونگے۔ اس سے ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی آباد ہوگی جو ابھی ویران ہے، اگر بیچز بنیں تو اس سے ضلع ٹھٹھہ میں سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔ ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی کی اپنی ایک اہمیت ہے جس سے انکار ممکن نہیں، اس سے سندھیوں کو سستی اور قریب سیاحت بھی میسر آئے گی۔
    باقی رہی بات ہارون صاحب کی تو اس سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان میں اس وقت جو ظلم کا بازار گرم ہے نہ جانے یہ کب ختم ہوگا۔خاص طور پر جو سندھ اور بلوچستان میں ہو رہا ہے۔اہل کاروں کی طرف سے جو دھشت گردی کے واقعات روز پیش ہو رہے ہیں تاریخ میں اس کی مثال نہین ملتی۔اتنے جانور نہیں مرتے جتنے انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔

  • 19. 3:37 2011-06-11 ,محمد احمد خان :

    تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
    اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
    کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
    کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے!
    کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
    کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
    تم ملامت بنو گے شب تار کی
    کل بھی غاصب کے تم تخت پردار تھے
    آج بھی پاسداری ہے دربار کی
    ایک آمر کی دستار کے واسطے
    سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی
    تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
    ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
    پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
    کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
    کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
    اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں

    آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
    اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
    خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا
    قاتلوں تم سپاہی نہیں

  • 20. 9:23 2011-06-11 ,sadam hussain waziristani :

    ہارون بھائی ہمارے علاقے میں کراچی جیسے واقعات روزانہ ہوتے ہیں کسی سیاستدان نے تنقید کبھی نہیں کی۔ سرفراز تو خوش قسمت تھا۔

  • 21. 12:23 2011-06-11 ,خاور کھوکھر :

    پاکستان ميں نظام جتنا خراب ہو چکا ہے
    یہ سب افسروں کو یہ کہنے سے کے برادران اسلام اپنے اپنے فرائض پورے کریں
    تو؟
    کیا یہ لوگ ایسا کرنے لگیں گے؟؟

    سر جی یہ کمیٹیاں شمیٹیاں
    یہ آہنی ہاتھ
    یہ نظریاتی سرحدیں
    یہ محفوظ ہاتھ
    یہ قومی مفاد

    یہ اجازت نان دینے کی بڑکیں
    مدتوں سے سنتے آ رہے ہیں

    اب تو جی بغیر اجازت یہ لوگ فوج کے اڈوں پر حملے کرنے لگے ہیں
    ان کو اہنی ہاتھ کی بھی حقیقت معلوم ہے غالباً

  • 22. 2:27 2011-06-12 ,Nouman Ahmed Malik :

    پاکستان شاید افغانستان بنت جا رہا ہے۔ اتنا ظلم اتنی بربریت؟ اللہ تعالی ہمارے ملک اور پریشان قوم کو اپنی امان میں رکھ۔ آمین

  • 23. 18:53 2011-06-12 ,KashifUddinSyed :

    خیبر پختونخوا حکومت نے بھی پشاور کے مضافات میں چودہ ہزار ایکڑ اراضی پر اسفندیار ولی سٹی بسانے کا اعلان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے لئے میری ایک شرط ہے کہ اسفندیار ولی خان صاحب اس شہر میں خود رہائش اختیار کریں گے۔۔۔۔۔۔

  • 24. 22:57 2011-06-15 ,Syed Imran Zaidi :

    میری ایک خواہش ہے کہ ہماری عوام خودکش حملوں اور بم دھماکوں کی بھی اسی طرح مذمت کریں جس طرح فوج، رینجرز اور پولیس کے غیرقانونی اقدامات کی کر رہے ہیں۔

  • 25. 22:04 2011-06-16 ,shrief :

    میرا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ آج کل کوئٹہ کے ایم این اے سید ناصر علی شاہ مختلف ٹی وی چینلوں پر ہمارے بدمست ہاتھی یعنی ایجنسیوں اور نئے شہر بنانے اور پرانے شہر اجاڑنے والی سرکار اور اس کے وزیر اعظم گیلانی پر طرح طرح سے برس رھے تھے۔ حالانکہ شاہ صاحب اسی سرکاری پارٹی کا حصہ بھی ہیں لیکن کلمہ حق کہنے پر سخت تلے ہوے ہیں اور ہم سب کو پتہ ہے جو اس ملک میں کلمہ حق کہنے کی جرات کرے اسے تیل میں تلنا پڑے گا۔ سو ایسا ہی ھوا بالکل ھماری توقع سو فیصدی بجا نکلی، شاہ صاحب قصایوں کو تو ہاتھ نا آے لیکن آج ان کے چچا زاد بھائی سابق اولمپین باکسر اور بلوچستان اسپورٹس بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکڑ سید ابرار حسین شاہ کو گولیاں مار کر بیدردی سے قتل کر دیا اور حسب روایت خراما خراما فرار بھی ہوگیے۔ اس سرکار سے میری ایک ہی التجا ہے نئے شہر آباد کرتے کرتے پرانے شہر برباد مت کرو۔

  • 26. 14:51 2011-06-19 ,وحیداللہ آفریدی :

    کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے
    تیراشہر کتنا عجیب ہے۔

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔