| بلاگز | اگلا بلاگ >>

تصویر کہاں ہے؟

عنبر خیری | 2011-05-02 ،14:23

امریکی حکام کے مطابق اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں امریکی سپیشل فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس سنسنی خیز خبر کے اتنی دیر بعد اس سے متعلق کوئی تصویر کیوں نہیں جاری ہوئی ہے؟


عراق کے معزول صدر صدام حسین کے بیٹوں کی ہلاکت کے بعد امریکیوں نے فوراً ان کی لاشوں کی تصاویر جاری کی تھیں۔ اسی طرح طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ان کی لاش کی بھی تصاویر اس خبر کی تصدیق کا اہم جزو تھا۔

امریکہ کے ' میڈیا مینیجرز' کے پاس اس لمحے کی تیاری کے لیے دس سال تھے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اتنے لمبے عرصے میں بھی تیاری یا تو کی نہیں گئی یا پھر ایسا کوئی مسئلہ پیدا ہو گیا جو ان کے سکرپٹ میں موجود نہیں تھا۔

اسامہ کی طرح کے بھی رہنما کی ہلاکت کو حکام سوچ سمجھ کر مینیج کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ حکام کو درپیش یہ چیلنج ہوتا ہے کہ سب سے پہلے تو لوگ ان کی خبر پر یقین کریں اور دوسرا یہ کہ مقتول کی لاش کی تدفین اس طرح کی جائے کہ ان کی قبر کسی مزاحمت کا جذباتی مرکز نہ بن سکے۔

یوں سرد جنگ کے دوران 1967 میں امریکیوں نے جنوبی امریکہ کے چے گیوارا کی لاش کی تصاویر تو بنا لیں لیکن پھر لاش کو ایک نا معلوم مقام پر دفن کردیا۔ تدفین سے پہلے گیوارا کے ہاتھ کاٹ کر فنگر پرنٹس کی تصدیق کے لیے آرجنٹینا بھیج دیا گیا۔

اسی طرح 1961 میں افریقی ملک کونگو کے عوامی سوشلسٹ رہنما پتریس لمومبا کو ہلاک کر کے ان کی لاش کو نا معلوم مقام پر پہلے دفن کیا اور بعد میں اس قبر کو بھی کھول کر ان کی میت کو تیزاب سے جلانے کی کوشش کی گئی۔

اسامہ کی ہلاکت کے بعد پہلے تو ایک تصویر ٹوئٹر اور انٹرنیٹ پر گردش کرنی شروع ہوگئی جو کئی برس پہلے ان کی ایک فوٹو سے بنائی گئی تھی۔ اس میں اسامہ بن لادن کی بال سفید نہیں ہیں اور ان کا چہرہ جوان ہے۔ اس کی جلد وضاحت ہو گئی کہ کہ یہ حقیقی فوٹو نہیں ہے۔

لیکن اس کے باوجود کوئی اور فوٹو نہیں جاری کی گئی۔

اب سوال یہ ہے کی نیو میڈیا کے اس جدید دور میں امریکہ نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں کوئی میڈیا مینیجمنٹ پلان کیوں نہیں بنایا؟ کیا لاش اس حالت میں نہیں تھی کہ اس کی تصویر بنائی جاتی؟ یا پھر امریکی اور پاکستانی حکام ابھی اس بات پر متفق نہیں ہو سکے ہیں کہ ان کا اس بارے میں حتمی بیان کیا ہوگا؟

تبصرےتبصرہ کریں

  • 1. 14:53 2011-05-02 ,Najeeb-ur-Rehman، لاہور :

    دال میں جب کالا کالا ہو تو تصویر وغیرہ نہیں جاری کی جاتی تاکہ ڈرامہ کہیں فلاپ نہ ہو جائے۔

  • 2. 15:05 2011-05-02 ,فیاض امر :

    حق بات تو یہ ہے کہ یہ سب سیاسی شطرنج کی چالیں ہیں، مجھے تو یہ فکر ہے کہ اب کس کی باری آئے گی؟ گورباچوف کی رشیا سے عراق کے صدام تک اور اس کے بات سیاسی ہیری پوٹر کے ولن کی طرح اسامہ بن لادن۔۔۔۔ اب وہ بھی ڈلیٹ ہوگیا، اب امریکی پروگرام کا اگلا ولن کون ہوگا؟

  • 3. 16:32 2011-05-02 ,ایچ شاکر :

    یه بھی مزه لینے کا ایک نیا چسکه ہے کسی کو خوش کرنے کے لیے اورکسی کو خوف میں مبتلا کرنے کے لیے ۔
    لیکن آخر کب تک ؟؟؟یه کھیل جاری رہے گا جس کے ہر سین پر شکوک وشبھات کے بے شمار پردے لگے ہوئے ہیں۔

  • 4. 17:23 2011-05-02 ,خان عالم :

    تصویر ہے نہیں، لاش ڈبو دی گئی - یہ سب کھیل تماشا ہی لگتا ہے
    کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکا افغانستان سے نکلنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ سب اس کو فاتح دکھانے کی کوشش ہے - اسامہ تو شائد سالوں پہلے ہی مر گیا تھا.

  • 5. 17:54 2011-05-02 ,ڈاکٹر الفريڈ چارلس :

    آپ کا سوال خالصتا” تيکنيکی نوعيت کا ہے جبکہ يہ خبر جس انداز سے جاری کی گئی ہے اس لحاظ سے يہ بات ثانوی حيثيت کی حامل ہے۔لوگ تو انگشت بدنداں ہيں کہ وہ پاکستانی حدود ميں مارا گيا۔تصوير جاری ہو بھی جائے تو خبر کی اہميت اپنی جگہ برقرار ہے ۔تصوير سے زيادہ اہم ڈی اين اے ٹیسٹ تھا جو اطلاعات کے مطابق کيا گيا ہے۔ ويسے بھی مسخ شدہ چہرہ يا نعش دکھانا معيوب سمجھا جاتا ہے

  • 6. 18:23 2011-05-02 ,محمد بوٹا :

    یہ ڈرامہ اتنا اچھا نھیں بن سکا کیوں کہ ساری دنیا کی فوج ایک بندے کو پکٹرنے میں لگی ہوئی تھی اور پھر اس کو زندہ کیوں نھیں پکڑا گیا ارو اگر مارا بھی تو آخر میڈیا کو کوریج کیوں نہیں دی گئ

  • 7. 22:41 2011-05-02 ,Akhlaq ahmad suadi arabia :

    سب کھیل تماشا ہی لگتا ہےکیوں کہ ساری دنیا کی فوج ایک بندے کو پکٹرنے میں لگی ہوئی تھی دال میں جب کالا کالا ہو تو تصویر وغیرہ نہیں جاری کی جاتی
    کیونکہ یہ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

  • 8. 22:48 2011-05-02 ,iqbal jehangir :

    انسانی زندگی کی حثیت سطح آب پر پانی کے ایک بلبلے کی مانند ہے اور ہوا کا اک معمولی ساجھونکا اس کا کام تمام کر سکتا ہے۔ اسامہ کی موت سے القائدہ کی طرف سے شروع کیا ہوا ، دہشت گردی و قتل و غارت گری کا ایک باب اختتام پزیر ہوا۔ اسامہ اور القائدہ لازم ملزوم تھے، اس کے جانے سے القاعدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا خاتمہ یقینی ہو گیا۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ اسامہ میدان جنگ سے دور ایبٹ ٓباد کے ایک پر تعیش بنگلے مین چھپا بیٹھا تھا۔مزید براں قتل و غارت گری کرنے والوں کی زندگی لمبی نہیں ہوتی اور ان کی موت اسی طرح واقع ہوتی ہے۔
    اسامہ بن لادن سالہا سال سے پاکستان مین تھا اور طالبان نے اسے تحفظ فراہم کیا ہوا تھا۔ لگتا ہے انہیں نے پیسے کی خاطر اسامہ کی مخبری کر دی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والا اپنے انجام کو پہنچا۔ اب القاعدہ کے دوسرے چھوٹے موٹے لیڈران ،طالبان سے خوفزدہ رہین گے۔
    ۔اسامہ کے جانے سے القاعدہ کے مصری اور دوسرے گروپوں مین جانشینی کا جگھڑا اٹھ کھڑا ہو گا

  • 9. 23:16 2011-05-02 ,Riffat Mehmood :

    يہ باکل ويسی ہی اسٹوری لگتی ہے جيسے 11/9 کا متنازعہ حادثہ جسے بڑی ہوشياری سے پلاٹ کر کے طالبان پر الزام عائد کر کے انکے خلاف کارروائی کی گئی ثبوت نہيں ديے گئے- ايسے ہی صدام کے اوپر غلط الزامات عائد کر کے کسی خطرناک ہتھيار کی موجودگی کا کوئی سرا نہيں ملا اسی طرح بن لادن کا حوا اور القاعدہ کا ڈرامہ مسلمان ممالک کو برباد کرنےکی کارروائی کا تسلسل ہے- جس کی ابتدا عراق سے ہوئی اور اس کی انتہا پاکستان پر کرنے کے عزائم ہيں- کہيں صدام دہشت گرد کہيں قزافی دھشت گرد کبھی شاہ فيصل خطرہ اور بھٹو قابل سزا- کبھی ضياء ان کی راہ کا پتھر -
    طاقت کا بيجا استعمال امريکہ اور يورپی ممالک کو مدد فراہم کرتا رہا ہے- ليکن ان دھشتناک قوتوں کے باوجود ايک بن لادن اور طالبان نے ان کو زمين چاٹنے پر مجبور کر ديا جانے يہ اقوام اپنی قوم کو مہنگائ کے عزاب ميں دھکيل کر مفت کی جنگ ميں بلينز ڈالرزجھوکتے رہے ہيں اور انکا فوجی مورال پہاڑوں ميں دفن ہو چکا- ہا-

  • 10. 3:34 2011-05-03 ,مہربان :

    اب پاکستان میں دوبارہ حالات خراب ھونگے اور کہا جائے گا یہ اسامہ کا بدلہ لیا جا رہا ہے۔ حالانکے کر نے والے اور لوگ ہیں۔ یہ سب ایک ڈراونا مزاق ہے۔

  • 11. 8:26 2011-05-03 ,محسن علی :

    اسامے کا اتنی آسانی سے مارا جانا ايک سوال ہے-
    فوجی اکيدمی کے نزديک مارا جانا يا ”مار کر لايا جانا” سوال ہے-
    اتنے آسان اپريشن ميں ژندہ نہ پکڈا جانا ايک سوال ہے-
    پاکستانی فوج يا حکومت کو علم نہ ہونا ايک سوال ہے-
    امریکی کماند کو یہ کارروائی ٹی وی پر لائيو ديکھنے کی تصوير ہونا مگر نہ دکھيا جانا ايک سوال ہے-
    لاش امريکيوں کے علاوہ کسی اور کا نہ ديکھنا ايک سوال ہے-
    لاش فوراً سمندر کے ہوالے کيے جانا يا کرنے کا بہانہ کيا جانا ايک سوال ہے-

  • 12. 15:01 2011-05-03 ,SYED TAUSEEF HAIDER :

    اسامہ بن لادن کی موت کے بعد سوال بہت ہیں ، جواب کے لیے وکی لیکس کے جولین آسائنژ کے انکشاف
    کا انتظار کرنا ہوگا، یا پھر کوئی امریکی فوجی جو اس مہم میں شامل تھا، اگر وہ جلد فوج سے فارغ ہوگیا
    تو میڈیا میں ، یا کتاب شائع کروا کر حقیقت بیان کر دے گا، اس وقت تک انتظار کرنا ہوگا-

  • 13. 23:49 2011-05-03 ,Nadeem Ahmed :

    امريکی عوام اور دنيا کی اہم طاقتوں نے يقين کر ليا ہے، جنہيں يقين نہيں آ رہا، انکی کوئی حيثيت نہيں- خاص طور پر پاکستانيوں کو سوال نہيں، بہت سے جواب دينے ہيں- افسوس ہے جنہيں اپنے گھر کی پرواہ ہے نہ خبر، وہ وائٹ ہاؤس کے اندر کی خبريں بتا رہے ہيں-

  • 14. 11:42 2011-05-04 ,Najeeb-ur-Rehman، لاہور :

    دس سال تک جس شخص کو ڈھونڈھنے اور مار نکانے کے لیے ساری دنیا بالخصوص ’سامراجی دنیا‘ اور اس کے لوکل و نان لوکل چمچے اور عالمی استعمار کی فوج نے اربوں ڈالر جہاں خرچ کیے وہیں پر ہزاروں افراد میں بیگناہ مارے اور لاکھوں لوگوں کو خوفزدہ کیے رکھ کر نفسیاتی مریض بنایا، اس شخص کو رات کے اندھیرے میں مبینہ طور پر ایک آپریشن کر کے ہلاک کر دیا گیا اور لاش تہہ آب دفنا دی۔ یہ کس منطق کے درست قیاس کیا جا سکتا ہے؟ اتنی بڑی خبر کا کوئی ٹھوس ثبوت دنیا کی عوام کے سامنے نہ لانا سمجھ سے بالاتر ہونے کے ساتھ ساتھ دو نمبر آپریشن کو واضح کرتا ہے۔

  • 15. 17:39 2011-05-04 ,sajjadulhasnain :

    بجا فرمايا نجيب صاحب آپ نے ہر گذرتے دن کے ساتھ يقين جڑ پکڑ رہا ہے کہ يہ دو نمبر دھندا ہی ہے-

  • 16. 0:16 2011-05-05 ,Abbas Khan :

    يہ بھي امريکہ کی چالاکی ہے کہ دشمن کو ختم کرنے کے بعد عام لوگوں کو غير يقينی کے گرداب ميں پھنسا کر فوری ردعمل سے بچ جاتا ہے- اسی چالاکی کی بدولت اسامہ کے ہمدرد عام لوگوں کو بھڑکا کر سڑکوں پر نہيں لاسکے- اسامہ کے ہمدرد، عام لوگ کو يقين دلانے کے ليۓ غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھ رہے ہيں، ليکن يہ لوگ تصوير ديکھے بغير يقين نہيں کريں گے اور اسی کے انتظار ميں سب بھول جائيں گے

  • 17. 12:37 2011-05-05 ,گل بادشاہ پرديسی، سڈنی :

    تصوير نہ دکھانا ہی ايک مہذب طريقہ ہے۔ جن کو يقين نہيں وہ تصوير ديکھ کر بھی يقين نہيں کريں گے۔ اگر کسی کو تصوير ديکھنا ہی ہے تو کوئی پرانا اخبار اٹھا کر کسی بم دھماکے کے شکار يا کسی وزير کے قتل کی ہی ديکھ ليں آخر ہيں تو سارے انسان۔

  • 18. 16:46 2011-05-05 ,Tanveer Arif :

    تصویر اور وڈیو کی یہ بھوک۔۔۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔۔ انٹرنیٹ کے رسیا، ٹی وی چینلز کے دیوانے، پوری سوسائٹی لاشیں دیکھنے کو تڑپ رہی ہے، اچھا ہے۔۔۔اوباما ان کو خوب تڑپاؤ

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔