BBC navigation

’لاپتہ جہاز کے ملبے کی تصاویر صحیح نہیں تھیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 مارچ 2014 ,‭ 14:22 GMT 19:22 PST

ان تصاویر میں جنوبی چین کے سمندر میں بڑے حجم کی چیزوں کو تیرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ چینی مصنوعی سیارے سے لی جانے والی تصاویر جن میں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کا ملبہ دکھایا گیا تھا غلطی سے عام کی گئی تھیں۔

حشام الدین حسین نے اس امریکی اطلاع کی بھی تردید کی ہے کہ ایم ایچ 370 نامی ملائیشیا ایئر لائن کا یہ طیارہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد بھی کئی گھنٹے محوِ پرواز رہا تھا۔

’امکان ہے کہ طیارہ فنی خرابی کے باعث واپس مڑا‘

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سے چینی شہر بیجنگ جانے والا یہ مسافر طیارہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب پرواز کے بعد غائب ہوگیا تھا۔

اس پر کل 239 افراد سوار تھے جن میں سے اکثریت چینی باشندے تھے۔

ملائیشین وزیر کا کہنا تھا کہ کسی طیارے کے اس طرح غائب ہونے کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

حشام حسین نے کوالالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چینی سفارت خانے نے کہا ہے کہ مصنوعی سیارے سے حاصل شدہ تصاویر غلطی سے جاری کی گئی ہیں اور ’ان میں سے کسی میں پرواز ایم ایچ 370 کے ملبے کا کوئی سراغ نہیں تھا۔‘

یہ دھندلی تصاویر چینی حکام نے بدھ کو جاری کی تھیں اور ان تین تصاویر میں بحیرۂ جنوبی چین میں بڑے حجم کے تین اجسام کو تیرتا دکھایا گیا تھا۔

"جہاز سے آخری معلومات رات ایک بج کر سات منٹ پر ملیں جن کے مطابق سب ٹھیک تھا۔ایم ایچ 370 کو ڈھونڈنے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس وقت بحیرۂ جنوبی چین اور آبنائے ملاکا میں 43 بحری جہاز اور 40 طیارے تلاش کے عمل میں مصروف ہیں۔"

حشام الدین حسین، وزیرِ ٹرانسپورٹ ملائیشیا

ویت نام میں بھی حکام نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جمعرات کو پانچ بحری جہاز اور تین طیارے سیٹیلائٹ سے حاصل ہونے والی تصویر کے مقام پر بھیجے گئے لیکن وہاں کچھ نہیں ملا۔

ملائیشیا کے وزیر حشام حسین نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی اس خبر کو بھی رد کر دیا کہ جہاز کے انجنوں سے اس کے لاپتہ ہونے کے چار سے زیادہ گھنٹے بعد بھی معلومات مل رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھیوں نے ملائیشین ایئر لائن اور انجن بنانے والی کمپنی رولز رائس دونوں سے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ اطلاع ’غلط‘ ہے۔ ان کے مطابق ’جہاز سے آخری معلومات رات ایک بج کر سات منٹ پر ملیں جن کے مطابق سب ٹھیک تھا۔‘

ملائیشین وزیر نے کہا کہ لاپتہ جہاز کی تلاش کا عمل جاری ہے اور ’ایم ایچ 370 کو ڈھونڈنے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق اس وقت بحیرۂ جنوبی چین اور آبنائے ملاکا میں 43 بحری جہاز اور 40 طیارے تلاش کے عمل میں مصروف ہیں۔

ادھر چین کے وزیراعظم لی کیچیانگ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک ’امید کی کرن‘ نظر آتی ہے وہ اس وقت تک لاپتہ ملائیشیا ایئر لانز کے جہاز کی تلاش جاری رکھیں گے۔

چین کے سالانہ پارلیمانی سیشن کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس کے دوران چینی وزیرِاعظم نے کہا کہ’ہم کسی بھی مشتبہ نشان کو نہیں چھوڑیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ’یہ ایک بین الاقوامی بڑی سطح کا سرچ آپریشن ہے جس میں کئی ممالک شریک ہیں۔‘

وزیرِاعظم لی کیچیانگ نے ملائیشیا پر تلاش کے لیے اقدامات کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ’چینی حکومت نے متعلقہ پارٹیوں سے کہا کہ وہ آپس میں رابطوں کو بڑھائے، جہاز کے لاپتہ ہونے کی وجہ کی تحقیقات کریں، جتنے جلدی ہو لاپتہ جہاز کو ڈھونڈیں اور اس سے متعلقہ معملات کو نمٹائیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔