BBC navigation

ایران کے معاملے پر امریکہ بیوقوف نہیں ہے: جان کیری

آخری وقت اشاعت:  پير 11 نومبر 2013 ,‭ 22:50 GMT 03:50 PST

ہم اندھے نہیں ہیں اور میرے خیال میں نہ ہی ہم بیوقوف ہیں: جان کیری

امریکہ وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اب بھی خدشات ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں توسیع بند نہیں کرے گا۔

امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نہ تو اندھے نہیں ہیں اور نہ ہی بیوقوف ہیں۔‘

جان کیری کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ایک روز قبل جنیوا میں ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام پر تین روز تک مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے اختتام تک کوئی معاہدہ تو طے نہ پا سکا تاہم بیشتر سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ عالمی برادری کے رہنماؤں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جلد بازی میں کسی ’برے معاہدے‘ میں نہ پھنس جائیں۔

بنیامن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی خواہش ضرور ہے مگر حکومتوں کو انتظار کرنا چاہیے اور معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

مغربی ممالک کو شک ہے کہ ایران ہتھیار بنانے کے لیے یورینیئم افزودہ کر رہا ہے جبکہ ایران اس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

فرانس کی تشویش

فرانسیسی وزیرِ خارجہ لورین فابیئس نے فرانس انٹر ریڈیو کو بتایا تھا کہ ان کا ملک کسی ’بیوقوفوں کے معاہدے‘ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں چند نقات پر اصرار کر رہا ہے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے مطابق مذاکرات میں ایک تنازع یہ تھا کہ کیا ایران اپنے اراک تحقیقی ریئکٹر کو بند کر دے گا جو کہ پلٹونیئم کو ہتھیاروں میں استعمال کے قابل بنا سکتا ہے۔

مذاکرات میں زیرِ غور تجاویز میں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے بدلے میں اس پر عائد چند پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں۔

تین روزہ مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کو لاحق خدشات کو ختم کرنا تھا۔ ان مذاکرات میں ایران کے ساتھ امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، چین اور جرمنی شریک تھے۔

یہ مذاکرات 20 نومبر کو دوبارہ شروع ہوں گے۔

جان کیری نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جو بھی معاہدہ طے پائے وہ بہتری کے لیے ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے حکومت کے سنجیدہ ترین ماہرین ہمارے ساتھ ان مذاکرات میں شریک ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمر ایرانی امور اور جوہری عدم پھیلاؤ پر کام کرتے گزاری ہے۔

اس سے پہلے ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے امید ظاہر کی تھی کہ آئندہ مذاکرات میں معاہدہ طے کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حالیہ مذاکرات کے نتیجے سے مایوس نہیں ہیں اور ان میں تمام فریق معاملے کو حل کرنا چاہتے تھے۔

اس کے علاوہ سنیچر کو برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کاروں کو یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ ولیم ہیگ نے جنیوا میں اب تک حاصل کی جانے والی ’بہتری‘ کو سراہا مگر کہا کہ ابھی تک کسی سمجھوتے پر غیر یقینی صورتحال ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ مذاکرات میں آنے والی بہتری کی رفتار تیز ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ہر وہ چیز کرنی چاہیے جس سے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور کسی معاہدے پر پہنچا جا سکے۔‘

’معاہدے کے لیے خاکہ پیش کر دیا گیا تھا اور اب کہ انتہائی ضروری ہے کہ تسلسل کو برقرار رکھا جائے۔‘

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ حالیہ مذاکرات ’بہت مشکل‘ تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔