فلپائن کے بعد طوفان ہیان اب ویتنام پہنچ گیا ہے

  • 10 نومبر 2013

فلپائن کے بعد طوفان ہیان اب ویتنام کے ساحلی علاقے سے بھی ٹکرا گیا ہے تاہم اس کی شدت میں کمی آئی ہے۔ طوفان میں اب بھی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ ویتنام میں چھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادھر فلپائن میں حکام کو سمندری طوفان ہیان سے متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10000 تک پہنچ سکتی ہے۔

فلپائن کی حکومت نے اب تک سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ٹیکلوبان میں ہی صرف دس ہزار افراد تک کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام طوفان ہیان سے تباہ شدہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں جسے ملک کی تاریخ کا تباہ کن ترین طوفان قرار دیا جا رہا ہے۔

سمندری طوفان نے ٹیکلوبان میں گھروں، سکولوں اور ایک ہوائی اڈے کو تباہ کیا جبکہ امدادی کارکنوں کو تباہی کا شکار علاقوں تک پہنچنے میں دشواریاں درپیش ہیں۔

بہت سے علاقے صاف پینے کے پانی، بجلی اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں جن میں ہزاروں فوجی تعینات کیے گئے ہیں جن کی مدد کے لیے فوجی طیارے سامان لانے اور لیجانے کا کام کر رہے ہیں۔

پوپ فرانسس نے بھی سمندری طوفان سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے اپیل کی ہے جن کے پیروکار فلپائن میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

فلپائن کی ریاستی پولیس کے سربراہ ایلمر صوریا کے مطابق لیت کے گورنر نے انھیں بتایا گیا ہے کہ صرف مشرقی جزیرے میں کم سے کم دس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فلپائن میں سمندری طوفان سے ہزاروں کی تعداد میں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

فلپائن میں بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ وینگ فیلڈ کے مطابق ٹیکلوبان میں جگہ جگہ تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق لیت کے دارالحکومت میں ہزاروںں مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں اور وہاں پینے کے صاف پانی اور خوراک کی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہم بھی معطل ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد ٹیکلوبان کے ہوائی اڈے پر جمع ہیں تاہم پراوزیں منسوخ ہونے سے انھیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

فلپائن کے ریڈ کراس کے سیکرٹری جنرل گونڈالائن پانگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ان اطلاعات پر غور کر رہے ہیں جس کے مطابق صرف ٹیکلوبان میں بڑی تعداد میں لاشیں پانی میں بہتی ہوئی دیکھی گئیں۔

ریڈ کراس کا اندازہ ہے کہ اس طوفان میں ایک ہزار کے قریب ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایک دوسرے صوبے میں تقریباً دو سو لاشوں کو دیکھا گیا ہے۔

سیکرٹری داخلہ مار روغاس نے امدادی کاروائیوں کو انتہائی مشکل قرار دیا۔

ریڈ کراس اور فوج لوگوں کو بچانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم طوفان اور اس کے نتیجے میں آنے والے آبی ریلوں کو وجہ سے سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ وہ زندہ بچ جانے والوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوج نے بھی بڑے پیمانے پر امداد کارروائیاں شروع کی ہیں لیکن سیلاب کی وجہ سے اکثر سڑکیں استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

طوفان سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں

ملک کے مرکزی علاقوں میں مواصلات کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور طوفان سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

اس سے پہلے فلپائن میں حکام نے کہا تھا کہ سمندری طوفان ہیان میں 120 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

محکمۂ شہری ہوابازی کے نائب ڈائریکٹر جنرل کیپٹن جان اینڈریوز نے بتایا تھا کہ صرف ٹیکلوبان نامی شہر سے کم از کم 100 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں اور شہر کی گلیوں اور سڑکوں پر جابجا لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔

جمعہ کو جب طوفان نے فلپائن کے وسطی علاقے کو اپنا نشانہ بنایا تو عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں اور جا بجا مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آئے۔

طوفان کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

دارالحکومت منیلا میں بی بی سی کے نامہ گار جون ڈانیسن نے بتایا ہے کہ ٹیکلوبان سے ملنے والے ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ جب طوفان آیا تو شہر میں پانی بھر گیا۔

انھوں نے بتایا کہ امدادی ایجنسیاں متاثرہ شہر تک پہنچنے کی تگ و دو میں ہیں کیونکہ وہاں کے ہوائی اڈے کو کافی نقصان پہنچا ہے اور تاحال صرف فوجی طیارے ہی وہاں سے پرواز کر رہے ہیں۔

فلپائن حکومت نے طوفان کی زد میں آنے والے علاقوں کو خالی کرنے کی عوامی کوششوں کی تعریف کی ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ سے ہلاکتوں میں نسبتاً کمی رہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس طوفان میں واقعتاً کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں اس کے بارے میں صحیح معلومات آنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔

حکام نے اس سے قبل کہا تھا کہ طوفان کی وجہ سے ملک کے 20 صوبوں میں لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ طوفان سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس طوفان کی گزر گاہ میں فلپائن کے وہ علاقے بھی شامل ہیں جو گذشتہ ماہ آنے والے زلزلے کی تباہی سے سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طوفان کی وجہ سے سمار، لیت اور بوہول کے صوبوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

فلپائن میں سیو دا چلڈرن کی ڈائریکٹر اینالنڈن فورس نے جمعہ کو کہا تھا کہ ’ہمیں تشویش ہے کہ طوفان ہیان وسیع پیمانے پر تباہی مچائے گا اور اس کے نتیجے میں بہت سی جانیں تلف ہو جائیں گی۔‘

گذشتہ سال بھوپا طوفان میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے

واضح رہے کہ یہ طوفان جمعہ کی صبح فلپائن کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا۔ اس طوفان میں ہوا کی رفتار 379 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور اس کے سبب ساحل پر 15 میٹر اونچی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ اس دوران بعض جگہ 400 ملی میٹر بارش بھی ہوئی۔

یہ اس سال فلپائن میں آنے والا پچیسواں طوفان ہے اور موسمیات کے شعبے نے خبردار کیا تھا کہ یہ طوفان 2012 میں آنے والے بھوپا طوفان سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ بھوپا طوفان جنوبی فلپائن میں آیا تھا اور اس میں تقریباً ایک ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں۔