مصر: تازہ جھڑپوں میں 50 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

  • 7 اکتوبر 2013
گزشتہ دو ماہ کے دوران اخوان المسلمین کے ہزاروں اراکین کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے

مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی تازہ ترین جھڑپوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 240 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق قاہرہ میں26 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اخوان المسلمین کے دو سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

حکومت کی طرف سے 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کی یاد میں دن منانے کے موقع پر سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں نے ملک کے مختلف شہروں میں جلوس نکالے ہیں۔ عرب اسرائیل جنگ کو چالیس سال ہو چکے ہیں۔

وزارتِ صحت کے مطابق قاہرہ میں ہلاکتوں کے علاوہ، ایک شخص دیلکا اور ایک بنی سیف میں ہلاک ہوا ہے۔

محمد مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مرسی کو ہٹایا جانا ایک فوجی بغاوت ہے۔

مصر: اخوان کےگڑھ میں آپریشن، پولیس جنرل ہلاک

مصر: محمد مرسی کے 11 حامیوں کو عمر قید

اخوان کی طرف سے بدیع کی گرفتاری کی مذمت

عرب اسرائیل جنگ کی یاد کے دن کے موقع پر سینکڑوں افراد تحریر سکوئر میں جمع ہوئے۔

مصری حکومت نے فوجی ساز و سامان کی ایک بڑی نمائش لگائی جس میں لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر تحریر سکوئر کے اوپر ایک خاص ترتیب سے پرواز کر رہے تھے۔

وہاں موجود ہجوم نے پر جوش انداز سے جہازوں کے پریڈ کا جواب دیا۔بغض لوگوں نے فوج کے سربراہ جنر عبدالفتاح السیسی کی تصاویر اٹھا عکھیں تھیں۔

بعض لوگ چاہتے ہیں کہ جنرل السیسی صدارت کے عہدے کے امیدوار بنیں۔

لیکن قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کوئنٹین سومر ویلے کا کہنا ہے کہ محمد مرسی کے ہزاروں کی تعداد میں حامی گلیوں میں نکل آئے اور تحریر سکوئر کی جانب جانے کی کوشش کی اور جنرل السیسی کو قاتل پکارتے رہے۔

سکیورٹی فورسز نے ان کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ضلع دوکی میں بعض مظاہرین گولیوں کا نشانہ بنے جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس اور فوج پر پتھراؤ کیا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فوج حکومتی اور محمد مرسی کے حامیوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے میں کامیاب رہی

قاہرہ کی گلیوں میں گھنٹوں تک لڑائی جار رہی۔ سرکاری خبر رساں ادارے منا کے مطابق اس سے پہلے وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا تھا کہ 6 اکتوبر کو ہونے والی تقریبات کو خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں عبوری وزیرِاعظم نے مصری عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک ایک ’نازک دور‘ سے گزر رہا جس کے لیے مصری عوام کو ایک ساتھ کھڑے ہونا چاہیے اور مستقبل کے بارے میں پرامید رہنا چاہیے۔

خیال رہے کہ جولائی میں فوج کے ہاتھوں محمد مرسی کو صدر کے عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد سے مصر میں سینکڑوں اسلام پسند مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران اخوان المسلمین کے ہزاروں اراکین کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔

ہجوم کو تشدد اور قتل و غارت گری پر اکسانے کے الزام میں برطرف صدر مرسی سمیت پارٹی کے اہم رہنما اور تحریک کے رہنما محمد بدیع زیر حراست ہیں۔

اسی بارے میں