’سینیٹ کی کمیٹی میں فوجی کارروائی کی منظوری‘

  • 5 ستمبر 2013

امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی نے شام کی حکومت کے اپنے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر شام کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے پیش کی جانے والی قرار داد کے حق میں 10 جبکہ مخالف میں 7 ووٹ ڈالے گئے۔

یہ ووٹنگ ایسے ایک وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر براک اوباما شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’شام کے خلاف یکطرفہ کارروائی جارحیت ہو گی‘

’دس لاکھ شامی نقل مکانی پر مجبور‘

شام میں ’کیمیائی‘ حملے پر سخت عالمی ردعمل

اس مجوزہ قرارداد پر آئندہ ہفتے ووٹنگ ہو گی اور اس میں شام کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو زیادہ سے زیادہ 90 دنوں میں مکمل کرنے کی بات کی گئی ہے۔

مجوزہ قرارداد میں شام کے خلاف زمینی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ’ اس بات کی اجازت نہیں کہ امریکہ کی مسلح افواج کو شام میں زمینی کارروائی کے لیے استعمال کیا جائے۔‘

اس سے پہلے امریکہ کے صدر باراک اوباما نے سٹاک ہوم میں کہا تھا کہ شام کے معاملے پر امریکہ اس کی کانگریس اور بین الاقوامی برادری کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ وہ شام کی جانب سے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف اپنے موقف پر قائم رہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ انھوں نے شام کے معاملے پر کانگریس کو ووٹ کا کہہ کر اپنی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

انھوں نے کہا ’شام کے معاملے پر میری ساکھ نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔‘

اوباما نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق انتہائی حد (سرخ لیکر) انھوں نے نہیں کھینچی بلکہ یہ ان حکومتوں نے کھینچی ہے جس کا موقف ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ممنوع ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکی کانگریس شام پر کارروائی کی منظوری دے دی گی تاہم بطور کمانڈر انچیف وہ اپنے ملک کے بہتر مفاد میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس شام کے معاملے پر اگلے ہفتے ووٹنگ کرے گی۔

دوسری جانب فرانس کی حکومت شام کے خلاف کارروائی کے لیے قومی اسمبلی میں غیر معمولی بحث کا آغاز کرنے والی ہے۔

اگرچہ فرانس کے ارکانِ پارلیمان اس پر ووٹنگ نہیں کریں گے کیونکہ فرانسیسی صدر ان کی منظوری کے بغیر بھی فوج کو حرکت میں لا سکتے ہیں۔

برطانوی حکومت کو گزشتہ ہفتے شام میں فوجی کارروائی کے بل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ شام پر دوبارہ دارالعوام میں ووٹ نہیں لیا جائے گا۔

ادھر اردن کے وزیرِ اعظم عبداللہ عنصور نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت اس صورت میں کریں گے جب یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام کے خلاف حملے ضرورت کے مطابق ہونے چاہییں تاہم اردن ان حملوں میں ملوث نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت پر 21 اگست کو دارالحکومت دمشق کے مضافات میں کیمیائی حملہ کرنے کا الزا ہے جس کی شام حکومت تردید کرتی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے 21 اگست کو دمشق کے نواح میں کیمیائی حملے کیے تھے جن میں 1429 افراد مارے گئے تھے۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما کو شام کے خلاف فوجی کارروائی کے معاملے میں اہم امریکی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ردعمل میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ صدر بشار الاسد کی کیمیائی حملوں کے استعمال کی صلاحیت کم کرنے کے لیے ’محدود‘ کارروائی کی ضرورت ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے اہم رہنماؤں جان بوہنر اور ایرک کینٹور نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

صدر اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن نے منگل کو سپیکر جان بوہنر، ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر نینسی پلوسی، چیئرمین اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے ممبران سے ملاقات کی۔

جان بوہنر نے صدر اوباما کے شام کے خلاف کارروائی کے منصوبے کی حمایت کا اشارہ دیتے ہوا کہا کہ صدر بشار الاسد کو روکنے کی صلاحیت صرف امریکہ کے پاس ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں کانگریس سے بھی حمایت کی اپیل کی۔

اس سے پہلے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شام کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرنے پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ سے منظوری کے بغیر شام کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی ’جارحیت‘ ہو گی۔

صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت سے انکار نہیں کیا بشرطیکہ شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے ایسے ٹھوس ثبوت مل جائیں جس کی تردید نہ کی جا سکے۔

اس سے پہلے امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ممبران نے شام میں محددو اور نپی تلی امریکی فوجی کارروائی کرنے کی ایک مجوزہ قرارداد پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد اس مجوزہ قرارداد کو جاری کیا گيا۔

اس مجوزہ قرارداد پر آئندہ ہفتے ووٹنگ ہو گی اور اس میں شام کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو زیادہ سے زیادہ ساٹھ دنوں میں مکمل کرنے کی بات کی گئی ہے جس میں کانگریس کی اجازت سے مزید تیس دنوں کی توسیع بھی ممکن ہو گی۔