’امریکی مداخلت سے القاعدہ کی مدد ہوگی‘

  • 2 ستمبر 2013

’امریکی مداخلت سے القاعدہ کی مدد ہوگی‘

شامی نائب وزیرِ خارجہ فیصل مقداد

شام میں حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں کسی قسم کی امریکی فوجی مداخلت القاعدہ اور اس کے حلیفوں کی مدد کرنے کے مترادف ہوگی۔

شامی نائب وزیرِ خارجہ فیصل مقداد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شامی فوج نے نہیں بلکہ امریکی حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

اس سے پہلے امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس ایسے شہادتیں موجود ہیں کہ شام میں کیمیکل ہتھیار سیرِن کا استعمال ہوا ہے۔

ایک دن پہلے روس کے صدر ولادی میر پوتن نے امریکہ کو چیلنج کیا تھا کہ وہ شام کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں کیمیکل ہتھیاروں کےاستعمال کے شواہد ہرگزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں اور بالوں اور خون کے نمونوں سے حاصل ہونے والے نتائج سے سارن گیس کے استعمال کی واضح نشانیاں ملی ہیں۔

شامی کی حکومت ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔

شام کی مدد کے لیے روس کیا کر سکتا ہے؟

عرب لیگ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ سعود الفیصل نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ شام کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ اگر شام کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی تو ’شامی حکومت کو اپنے جرائم جاری رکھنے کی شہ ملے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری اپنی ذمے داری سنبھالے اور شام کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔‘

امریکی حکومت کا الزام ہے کہ شامی افواج نے اکیس اگست کو دمشق کے مضافات میں باغیوں کے خلاف کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال کیا جس سے چودہ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شام کی حکومت کے حامی روسی صدر ولادی میر پوتن نے امریکہ کو چیلنج کیا ہے کہ اگر اس کے پاس شواہد ہیں تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کرے۔ صدر پوتن نے کہا کہ اگر امریکہ جنرل اسمبلی میں شواہد پیش نہیں کرتا تو اس مطلب یہ ہو گا کہ اس کے شواہد نہیں ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے شام کے خلاف تادیبی کارروائی کا اعلان کر رکھا ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس شام کے خلاف کارروائی کی منظوری دے۔ امریکی کانگریس کا اجلاس نو ستمبر ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین شام کے مختلف مقامات سے کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کی شہادتیں حاصل کرنے کے بعد ہالینڈ پہنچ چکے ہیں جہاں لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ آنے میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

ادھر شام کے باغیوں کےاتحاد کے ایک ترجمان نے شام کے خلاف امریکی کارروائی میں تاخیر کو امریکی ’قیادت کی ناکامی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صدر بشار الاسد کی فورسز کو حوصلہ ملے گا۔

امریکی صدر براک اوباما نے کانگریس سے باضابطہ طور پر شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی منظوری طلب کی ہے۔ کانگریس کا اجلاس نو ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔

سیرین نیشنل اتحاد کے ترجمان لؤي صافی نے حکومتی افواج کے خلاف کارروائی میں تاخیر کے فیصلے کو امریکی ’قیادت کی ناکامی‘ قرار دیا ہے۔

ادھر شام کی افواج نے باغیوں کے قبضے میں دمشق کے مختلف علاقوں میں دوبارہ گولہ باری شروع کر دی ہے۔

کانگریس کو اپنی درخواست میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ شام کے خلاف کارروائی محدود ہوگی اور امریکی فوج شامی زمین پر نہیں اترے گی۔امریکی کانگریس کا اجلاس نو ستمبر کو ہونا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ کو شام پر حملہ کرنا چاہیے اور وہ اس مقصد کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کریں گے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے 21 اگست کو دمشق کے نواح میں کیمیائی حملے کیے تھے جن میں 1429 افراد مارے گئے تھے۔

صدر اوباما نے سنیچر کو وائٹ ہاؤس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ شام کے خلاف فوجی کارروائی محدود مدت کے لیے ہو گی تاہم اس کی نوعیت شدید ہو گی تاکہ شام کو آئندہ کیمیائی حملے کرنے سے باز رکھا جا سکے۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری لیں گے، اور اس سلسلے میں وہ کانگریس کے رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں۔ کانگریس کا اجلاس نو ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔

ادھر روس کے صدر ولادی میر پوتن نے امریکہ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ شام کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرے۔

صدر پوتن کا کہنا ہے کہ باغیوں کے خلاف شام کی حکومت کی پوزیشن مضبوط ہے اور ایسے موقع پر اس قسم کے حملوں سے باغیوں کو اشتعال دلانا شام کی حکومت کی جانب سے ’سراسر احمقانہ‘ اقدام ہوگا۔

شامی حکومت ان کیمیائی حملوں کا الزام باغیوں پر عائد کرتی ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ فوجی کارروائی کل، اگلے ہفتے، یا مستقبل قریب میں ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا: ’جو کچھ دمشق میں ہوا، ہم اسے نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘

امریکی فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کی حیثیت سے صدر اوباما کو فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر بحث کی جانی چاہیے۔

گذشتہ ہفتے برطانوی ارکانِ پارلیمان نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی تحریک مسترد کر دی تھی۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن
روس اور چین شام سے متعلق دو قراردادوں کو ویٹو کر چکے ہیں

اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم سنیچر کو دمشق سے اپنی تقحقیقات مکمل کر کے نیدرلینڈ پہنچ گئی ہے۔

وہ شام سے اکٹھے کیے گئے شواہد ہیگ میں کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے لیے قائم کیے گئے ادارے میں جمع کروائیں گے۔ ماہرین کے مطابق ان شواہد میں مٹی اور متاثرین کے خون اور بالوں کے نمونے شامل ہوں گے۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ وہ اپنی انٹیلی جنس کی رپورٹوں کے بنیاد پر شام کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔

دیں اثناء پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں امریکی خفیہ اداروں کی تحقیقات پر مبنی ایک مفصل اور غیر خفیہ دستاویز جاری کی ہے ۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ان دستاویزات میں ان خوفناک کارروائیوں کے لیے شام کی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور سینکڑوں شہریوں پر اُن کے مہلک اثرات کے حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کی کوششوں کا احترام اور ان کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن یہ امر پہلے ہی سے عیاں ہے کہ وہ حملہ اسد حکومت نے ہی کیا تھا اور ان کارروائیوں پر اس کا محاسبہ کیا جائے‘۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونالی کا کہنا ہے کہ شام سے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کے نکلنے سے امریکہ کی سربراہی میں شام پر حملے کی ایک عملی اور سیاسی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔

روس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر پوتن نے امریکی صدر اوباما سے اپیل کی کہ وہ امن کے نوبل انعام یافتہ ہیں اور شام کے خلاف طاقت کے استعمال سے قبل انہیں ان لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جو اس کا نشانہ بنیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شام کی حکومت کی فورسز نے کئی علاقوں میں مخالف گروہوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اس صورتحال میں ان لوگوں کو ایک وجہ فراہم کرنا جو پہلے ہی فوجی کارروائی کے حق میں ہیں سراسر احمقانہ ہوگا۔‘

اس سے قبل روس اور چین شام سے متعلق دو قراردادوں کو ویٹو کر چکے ہیں۔

ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو برطانوی پارلیمان میں فوجی کارروائی کے خلاف ووٹ دیے جانے پر حیرانی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا ’ میں سچ کہوں گا کہ میں اس کی بالکل بھی توقع نہیں کر رہا تھا۔‘

روس شام کا اہم اتحادی ہے اور اس سے پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو نظر انداز کر کے کسی قسم کی یکطرفہ فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی‘۔

شام کے صدر بشار الاسد کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک ’مغربی جارحیت‘ کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔

عالمی رائے عامہ منقسم

اگر ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی شام پر حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں تو دوسری طرف اسرائیلی گیس ماسک ڈھونڈ رہے ہیں جب کہ دوسری طرف تیل کی قمیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شام پر حملے کی صورت میں متاثر ہونے والے بعض ملکوں میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے وہاں گلی کوچوں میں رائے عامہ کی عکاسی کچھ یوں کی ہے۔

دہلی سے نیتن سری واستو

شامی تنازع شروع ہونے کے بعد بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ شام سے نکل جائیں۔ اس کے وجہ سے اب وہاں بہت کم بھارتی شہری رہ گئے ہیں۔

شام پر حملے کی بات سن کر اکثر بھارتی شہری بھویں تان دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے عراق میں تشدد کے ساتھ الجھا دیتے ہیں۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ’کیا امریکہ ایک اور جنگ کرنے جا رہا ہے؟‘ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید امریکہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ ایک اور جنگ شروع کر سکے۔

لیکن ایک بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ ’اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی تو تیل مہنگا ہوگا۔‘

بھارت تیل کی درآمد پر بہت انحصار کرتا ہے اور حالیہ مہینوں میں خام تیل کی قیمتوں میں پے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

پیرس سے ہیو شوفیلڈ

شام پر حملے کے بارے میں عوامی رائے محتاط ہے۔ اختتامِ ہفتہ پر ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر پر عوام میں غم و غصہ پایا گیا اور اس پر کارروائی کرنے کا ردِ عمل سامنے آیا۔

لیکن اب عوامی جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ معمولی اکثریت اقوامِ متحدہ سے منظوری کے بعد شام پر حملے کے حق میں ہے۔

اقوامِ متحدہ کی زیرِ سرپرستی شام پر حملے کے امکانات بہت کم ہیں۔

برلن سے سٹیون ایوانز

اس ہفتے کے اوائل میں کیے گئے سروے کے مطابق جرمن عوام شام پر حملے کے سخت مخالف ہیں۔

سروے کرنے والے مشہور ادارے فورسا کے مطابق سروے کیے گئے افراد میں 69 فیصد نے شام پر حملے کی مخالفت کی جب کہ 23 فیصد افراد نے اس کی حمایت کی۔

حملے کی حمایت کرنے والے اقلیتی گروپ بھی شام پر حملے میں جرمنی کی شمولیت نہیں چاہتے۔ باالفاظِ دیگر وہ شام پر ایسے حملے کے حق میں ہیں جس میں جرمنی حصہ نہ لے رہا ہو۔

جرمنی میں وفاقی پارلیمانی انتخابات ایک مہینےمیں ہونے والے ہیں جس کی وجہ سے حکومت احتیاط سے کام لے رہی ہے۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ گیویڈو ویسٹرویلی نے کہا: ’اگر شامی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق ہوتی ہے تو عالمی برادری کو پھر شام کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘

بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے شام میں جرمنی کی طرف سے مداخلت کے سخت خلاف ہیں لیکن دوسرے لوگ اس پر منقسم ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جرمنی کے ماضی وجہ سے اس کے لیے شام میں قتل وغارت کو روکنے کے لیے مداخلت ضروری ہے۔

ماسکو سے ڈینئل سٹینفرڈ

ماسکو کے باہر میٹرو سٹیشن پر غیر سائنسی انداز میں کیے گئے سروے سے پتہ چلا کہ بہت ہی کم لوگ شام پر حملے کے حق میں ہیں۔

اس بات پر لوگوں میں اتفاق نہیں تھا کہ شام میں کیمیائی حملے کس نے کیے۔

ماسکو کے بعض باشندوں کا خیال ہے کہ اس کے ذمہ دار صدر بشارالاسد ہیں جبکہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ حملے امریکہ یا باغیوں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہے۔

لیکن کسی نے بھی نہیں کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ردِعمل کے طور پر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو شام پر فضائی یا میزائل حملے کرنے چاہییں۔ ان کا اصرار ہے کہ امریکہ کو اس تنازعے سے دور رہنا چاہیے۔

روس شام کا قریبی دوست ہے لیکن شام روس کے عام لوگوں کے ایجنڈے پر کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

طرابلس، لبنان سے کوئینٹن سومرویل

لبنان کے شہر طرابلس میں شامی روڈ تابانح اور جبل مہسن کو سنی شیعہ فرقوں کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے جس کے دونوں طرف نشانہ باز بیٹھے ہوتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں سنی شیعہ تناؤ نے یہاں بھی ان علاقوں کو تقسیم کیا ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو مہینے میں یہاں جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے جب کہ بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

عمارتوں پر گذشتہ جھڑپوں کے اثرات نظر آ رہے ہیں اور اس پر گولیاں کے بعض نشانات تازہ ہیں۔

اگر ایک طرف لوگ شام میں لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے بڑے پوسٹر لگا کر ان کو عزت افزائی کرتے ہیں تو دوسری طرف والے ان پوسٹروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

شام میں جاری کشیدگی کو لبنان کی گلیوں میں براہِ راست محسوس کیا جا رہا ہے۔

تل ابیب سے رچرڈ گیلپن

تل ابیب میں درجۂ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے اور گیس ماسک تقسیم کرنے والے سنٹر کے باہر لوگوں کی لمبی قطار لگی ہوئی ہے۔

بعض لوگوں کو یہ ماسک حاصل کرنے میں چھ گھنٹے لگے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اس کی اتحادیوں کی طرف سے شام پر حملے کی صورت میں یہ گیس ماسک ان کے کام آئیں گے۔

یہاں پر لوگوں کو خدشہ ہے کہ شام پر حملے کی صورت میں شامی فوج یا جنوبی لبنان سے حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔

گیس ماسک حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑی یولیا کہتی ہیں کہ ’یہ میرے اور میرے بچے کے لیے خوفناک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’یہ میرے لیے اس لیے بھی خوفناک ہے کہ میرے شوہر کو فوجی خدمات کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ہمارے لیے اس حملے کے اثرات انتہائی برے ہوں گے۔‘

شام کیا کرے گا؟

امریکہ اور فرانس کی جانب سے شام پر حملے کے حوالے سے بیانات کے بعد یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہا ہے تو ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے جواب میں شام کے پاس کیا راستہ ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد نے بدھ کو کہا تھا کہ کہ ان کا ملک مغربی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق بشارالاسد کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کی جانب سے براہ راست کارروائی کی دھمکیوں سے ان کے ارادے مزید مستحکم ہوں گے۔

انھوں نے کہا ’شام کے پُرعزم عوام اور بہادر افواج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لڑتے رہیں گے جس کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل اور مغربی ممالک خطے کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں‘۔

اطلاعات کے مطابق شام کی فوج کے سینیئر کمانڈرز ان عمارتوں میں نہیں جا رہے ہیں جہاں ممکنہ طور پر حملہ ہو سکتا ہے۔

دمشق پر ممکنہ حملے کے پیش نظر کئی افراد شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

اہم سوال یہ ہے کہ شام پر جس طرح کے حملے کی بات کی جا رہی ہے اس سے خود کو بچانے کے لیے شام کی حکومت کیا کر سکتی ہے اور جوابی کارروائی کے لیے کس طرح کے اقدامات کا امکان ہے۔

اس کارروائی میں فکسڈ ونگ طیارے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا ہے تو ان کے ذریعے شام کی فضائی حدود کے باہر سے یہ حملے کیے جا سکتے ہیں جس کا مقابلہ شام کے دفاعی نظام کے لیے مشکل ہوگا۔

شام کا فضائی دفاعی نظام بہترین ہوا کرتا تھا۔ تاہم یہ پرانے روسی ہتھیاروں پر مشتمل ہے جن میں حال ہی میں کچھ نئے ہتھیار بھی شامل کیے گیے ہیں جن میں چین کا سپلائی کیا گیا ریڈار سسٹم بھی ہے۔

تاہم مغربی ممالک کی جدید فضائیہ ان ہتھیاروں سے اچھی طرح واقف ہے جو شام کے پاس ہیں۔

ابھی شام کے ایس 300 سسٹم کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا جو شام نے ماسکو سے منگوائے تھے۔ یہ سسٹم یا تو ابھی سپلائی نہیں کیا گیا یا پھر آپریشنل نہیں ہے۔

تو شام اگر خود ان حملوں کا جواب نہیں دے سکا تو پھر اس کی جوابی کارروائی کیا اور کیسے ہوگی۔

ایک راستہ تو یہ ہوگا کہ شام ملک کے اندر باغیوں کے خلاف حملے شدید کردے تاکہ اپنی افواج کی حوصلہ افزائی کر سکے اور امریکہ اور اس اتحادیوں کو یہ پیغام دے سکے کہ اسد حکومت اپنے موقف پر قائم ہے۔

دوسرا متبادل یہ ہو سکتا ہے کہ اردن میں امریکی افواج، ترکی یا پھر اسرائیل پر حملہ کر کے اس لڑائی کا دائرہ وسیع کر دے۔ اس صورتِ حال میں بشار الاسد حکومت کے لیے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ اردن میں امریکی افواج اور ترکی خود اپنا دفاع کر سکتا ہے۔

دونوں ہی ممالک میں میزائل شکن نظام موجود ہے اور اسرائیل پر حملے کے امکان کم ہیں کیونکہ شام کی فوج خانہ جنگی میں الجھی ہوئی ہے۔

اسرائیل کے خلاف حملہ ایک بڑی جوابی کارروائی میں تبدیل ہو سکتا ہے جو ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جو نہ تو دمشق کے حق میں ہوگا اور نہ ہی ایران کے حق میں۔

شام دوسرے ممالک میں امریکی اور مغربی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے حزب اللہ کا استعمال کر سکتا ہے۔

اگر شام پر حملہ ہوتا ہے تو مندرجہ ذیل نقشے میں ان ممکنہ احداف کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اتحادی افواج امریکی کی قیادت میں حملہ کر سکتی ہیں۔

مداخلت کے حامی اور مخالف ملک

اسی بارے میں