سیاسی داؤ پیچ نہ آزمائے جائیں: مصری فوج

  • 10 جولائ 2013
مصر میں فوج کا سیاست میں انتہائی اہم کردار رہا ہے

مصر کے وزیرِ دفاع نے خبردار کیا ہے کہ کسی کو بھی ملک میں ہونے ’مشکل‘ تبدیلی میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دی جائے گی۔

اُن کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب فوج نے ایک ہفتہ پہلے ہی منتخب صدر اور اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی کو برطرف کر کے عدلی منصور کو عبوری صدر تعینات کیا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں اخوان المسلمین نے ملک کے عبوری صدر عدلی منصور کے آئندہ سال کے آغاز میں انتخابات کروانے کے اعلان کو مسترد کر دیا تھا۔

عدلی منصور نے سابق وزیرِ خزانہ حاظم البیبلاوی کو اپنا وزیرِ اعظم نامزد کیا ہے۔

حاظم البیبلاوی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اخوان المسلمین کے اراکین کو کابینہ میں شامل کریں گے۔

حاظم البیبلاوی کی نامزدگی کا اعلان منگل کے روز کیا گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی محمد البرادعی کو خارجہ امور کی ذمہ داریوں کے ساتھ نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔

حاظم البیبلاوی نے صدر حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد فوجی اقتدار میں وزیرِ قانون کا عہدہ سنبھالا تھا۔ محمد البرادعی بائیں بازو کی طرف رجحان رکھنے والے سیاست دان اور اقوام متحدہ کی جوہری امور کی ایجنسی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

دائیں بازو کی جماعت النور کا کہنا ہے کہ وہ محمد البرادعی کی تقرری پر غور کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ اس ہفتے کے آغاز میں محمد البرادعی کا نام وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے سامنے آیا تھا تاہم النور پارٹی اُن کی مخالفت کی تھی۔

وزیرِ دفاع عبد الفتح السیسی نے ٹی وی پر نشر کیے گئے اپنے خطاب میں کہا کہ قوم کا مستقبل کسی بھی چیز کو جواز بنا کر روکاوٹیں ڈالنے اور سیاسی داؤ پیچ سے زیادہ اہم اور مقدس ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس مشکل اور پیچیدہ مرحلے میں تو مصر کی فوج اور نہ ہی عوام کسی کو خلل ڈالنے دیں گی۔

قاہرہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ویئر ڈیویز کا کہنا ہے کہ ماحول میں جذبات ابھی بھی ابھرے ہوئے ہیں اور لوگ سمجھوتے کے بارے میں بات کرنے کو راضی نہیں ہیں۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں مذہبی رجحان رکھنے والی سابق حکومت کے بنائے گئے آئین میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے چار ماہ کے اندر ملک میں ریفرنڈم کروایا جائے گا۔

اخوان المسلمین کے مرکزی رہنما عصام العريان نے انتخابات کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ آئینی ترامیم اور آئندہ سال انتخابات کا منصوبہ ملک کو دوبارہ شروع والی صورتحال پر لے جائے گا‘۔

دوسری جانب اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی (ایف جے پی) نے مصری عوام سے ان لوگوں کے خلاف ’بغاوت‘ کی اپیل کی ہے جو بقول ان کے ’انقلاب پر ٹینکوں سے قدغن لگانا چاہتے ہیں‘۔

ایف جے پی نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مصر میں ’مزید قتل عام روکنے‘ اور مصر کو ’دوسرا شام‘ بننے سے روکنے کے لیے مداخلت کریں۔

اطلاعات کے مطابق مصر میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں میں 300 افراد زخمی ہوئے۔

مصر کی فوج کے سربراہ نے بدھ کی رات مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جبکہ صدر مرسی کے حامیوں نے اس اقدام کو ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔

مصر میں محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مصر کے سابق صدر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھیں صدارتی گارڈز کلب میں رکھا گیا ہے۔

فوج کی جانب سے مصری صدر محمد مرسی کی برطرفی کو چند خلیجی ممالک نے سراہا ہے۔ نئی انتظامیہ کی حمایت کے طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مصر کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے دو ارب ڈالر قرضہ اور ایک ارب بطور امداد جبکہ سعودی عرب نے پانچ ارب ڈالر کا امداد پیکیج دینے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم دیگر ممالک جن میں ترکی شامل ہے نے ان اقدامات کی شدید مزاحمت کی ہے۔ ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایک جمہوری انداز میں منتخب حکومت کی برطرفی ناقابلِ قبول ہے۔