اردن: ابوقتادہ کی عدالت میں پیشی، جیل منتقلی

  • 7 جولائ 2013
ابوقتادہ کو لندن میں نارتھولٹ کے ہوائی اڈے پر پہنچایا گیا جہاں برطانوی ایئر فورس کا طیارہ انہیں اردن لے جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔

مسلمان مبلغ ابوقتادہ کو برطانیہ سے ملک بدر کرنے کے بعد اردن کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

اتوار کی صبح ابوقتادہ کو برطانیہ سے ملک بدر کر کے ان کے آبائی ملک ادرن روانہ کیا گیا تھا اور اب اردن میں ان پر دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ چلے گا۔

ادرن کے فوجی ہوائی اڈے مارکا پہنچنے کے بعد انہیں سخت سکیورٹی میں عدالت لے جایا گیا۔

ابوقتادہ کے والدکو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں ملی اور انہوں نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا’ مجھے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہنا کہ میرا بیٹا بے قصور ہے اور مجھے امید کہ عدالت اسے آزاد کر دے گی‘۔

فوجی استغاثہ نے ابوقتادہ پر دہشت گردی کے واقعات کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا، جس میں اردن کی ایک ہزار سالہ تقریبات کے دوران اسرائیلی اور امریکی سیاحوں پر بم حملوں کا منصوبہ شامل ہے۔

عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ ابوقتادہ اپنےخاندان سے نہیں مل سکیں گے اور انہیں ریمانڈ پر ادرن کی مووقار جیل میں بھیج دیا گیا ہے۔

اردن کی عدالت میں ابوقتادہ کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔

اس سے پہلے سنیچر کی شب ابوقتادہ کو بیلمارش کی جیل سے نارتھ ہولٹ کے ہوائی اڈے پر پہنچایا گیا جہاں برطانوی ایئر فورس کا طیارہ انہیں واپس ان کے آبائی ملک لے جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ ان کے ساتھ طیارے میں تین سکیورٹی افیسرز، ایک ماہر نفسیات اور ایک ڈاکٹر نے سفر کیا۔

برطانیہ گزشتہ دس برسوں سے مسلمان مبلغ کو برطانیہ سے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا اور برطانوی حکومت ابوقتادہ کو ملک بدر کرنے کی کوششوں میں سترہ لاکھ پونڈ خرچ کر چکی ہے۔

برطانیہ کی وزیر داخلہ ٹریسا میہ کا کہنا ہے کہ ’ اُن (ابوقتادہ) کی ملک بدری بہت سی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ برطانوی عوام اس فیصلے کی پذیرائی کریں گے۔ ایک خطرناک انسان ہمارے سرحد میں اب موجود نہیں ہے اور اب وہ اپنے ملک میں عدالتوں کا سامنا کرے گا‘۔

برطانیہ کی حکومت نےابوقتادہ کو ملک سے نکالنے میں ناکامی کے بعد اردن کی حکومت کے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت تشدد کے ذریعے حاصل کی جانے والی شہادت کو ان کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ٹریسا میہ نے کہا کہ ’آخر کار ہم اس میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ہم سے پہلے کی حکومتیں، پارلیمان اور برطانوی عوام کرنا چاہتی تھیں‘۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ابوقتادہ کی اردن منتقلی پر خوشی کا اظہار کیا ہے

ابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ لی لیکن بعد میں برطانیہ میں یہودیوں کو اور اسلام کو چھوڑنے والے افراد کو ہلاک کرنے کی حمایت کرنے کی وجہ بدنام ہوئے۔

ابو قتادہ جن کا اصل نام ابو عثمان ہے، یورپ میں سب سے زیادہ با اثر اسلامی مبلغوں میں سے ایک ہیں اور وہ جہادیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ برطانوی جج انہیں ایک خطرناک شخص قرار دے چکے ہیں جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کا خیال ہے کہ انھوں نے خودکش حملوں کو نظریاتی طور پر پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی بارے میں