امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے پْرعزم

  • 26 جون 2013
خیال رہے کہ طالبان نے منگل کی صبح افغان صدراتی محل کے قریب عمارات اور سی آئی اے کے سٹیشن پر بموں سے حملہ کیا تھا

امریکی اور افغان حکام نے کہا ہے کہ وہ کابل میں سی آئی اے سٹیشن اور حکومتی عمارات پر ہونے والے حملے کے باوجود طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے پْرعزم ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما اور ان کے ہم منصب حامد کرزئی نے کابل حملے کے بعد ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں طالبان کے ساتھ مزاکرات جاری رکھنے کے عزم کو دوہرایا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما اور افغان صدر حامد کرزئی نے اس بات کی توثیق کی کہ ’افغانیوں کی زیرِ رہنمائی امن و مصالحت کا عمل تشدد کو ختم کرنے ، افغانستان میں پائیدار امن اور خطے میں استحکام قائم کرنے کا یقینی راستہ ہے۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’دونوں صدور نےافغان امن کونسل اور طالبان کے مجاز نمائندوں کے درمیان بات چیت کے لیے دوحہ میں دفتر کے قیام کے لیے اپنی حمایت کو دوہرایا۔‘

دونوں رہنماؤں نے گذشتہ ہفتے نیٹو کی طرف سے افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داری افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے،افغانیوں کی زیرِ رہنمائی امن مذارکرات کی اہمیت، افغانستان میں 2014 میں ہونے والے انتخابات کی تیاری اور دو طرفہ سکیورٹی معملات کے بارے میں بھی بات چیت کی۔

جے کارنر نے کہا کہ’دونوں صدور نے اس بات کو دہرایا کہ صاف، شفاف، آذاد اور قابلِ اعتماد انتخابات افغانستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘

خیال رہے کہ طالبان نے منگل کی صبح افغان صدراتی محل کے قریب عمارات اور سی آئی اے کے سٹیشن پر بموں سے حملہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی افواج نے طالبان کے اس حملے کو پسا کر دیا تھا تاہم اس جھڑپ میں چار شدت پسندوں سمیت تین گارڈز ہلاک ہو گئے تھے۔

افغان صدر حامد کرزئی حملے کے وقت صدارتی محل میں موجود تھے تاہم حملے کا نشانہ بظاہر قریب واقع آریانہ ہوٹل تھا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں سی آئی اے کا سٹیشن ہے۔

اس حملے کے بعد حامد کرزئی نے کہا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف طالبان نے امن کے عمل کو بڑھانے کے لیے قطر میں دفتر کھولا ہو اور دوسری طرف وہ افغانستان میں لوگوں کو ہلاک کرنا جاری رکھیں۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا تھا کہ جب صدر کرزئی نے امریکہ کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر اعتراض کیا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اعلیٰ سطح افغان امن کونسل اس وقت تک ان مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا جب تک قیام امن کے عمل کی سربراہی افغان حکومت کے پاس نہ ہو۔

افغان دارالحکومت کابل گذشتہ کئی سالوں سے بم حملوں، خودکش حملوں اور فائرنگ کے واقعات کی زد میں ہے۔