براہ راست مذاکرات کا فیصلہ، حملےمیں امریکی فوجی ہلاک

  • 18 جون 2013

امریکہ اور طالبان کے براہ راست مذاکرات کے اعلان کے چار گھنٹوں بعد افغانستان میں نیٹو کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر حملے میں چار امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ امریکی فوجی ’بالواسطہ فائرنگ‘ میں ہلاک ہوئے ہیں۔

کابل کے قریب بگرام ہوائی اڈہ افغانستان میں امریکی فوجوں کا سب سے بڑا فوجی مرکز ہے۔

امریکہ اور طالبان میں براہ راست مذاکرات کی شرائط میں تشدد کی پالیسی چھوڑنے سے مشروط ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے طالبان سے براہ راست مذاکرت کے فیصلے کو’مصالحت کی جانب اہم قدم‘ قرار دیا تھا۔

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر عہدے دار نے کہا تھا کہ امریکہ طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرے گا۔

پہلی ملاقات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اگلے چند دن میں متوقع ہے جہاں طالبان نے اپنا دفتر کھول لیا ہے۔ اس دفتر کے کھولنے کی تیاریاں خاصے عرصے سے جاری تھیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے اپنا وفد بھیجے گی۔

یہ اعلان اس موقعے پر سامنے آیا ہے جب نیٹو نے تمام افغانستان کی سکیورٹی افغان سرکاری فوجوں کو سونپ رہا ہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ایک موضوع قیدیوں کا تبادلہ ہو گا، لیکن پہلے ہفتوں میں بیشتر ایک دوسرے کا موقف جاننے کی کوششیں کی جائیں گی۔

گذشتہ برس برطانوی اخِبار گارڈین نے خبر دی تھی کہ امریکہ طالبان کے مطالبے پر گوانتاموبے کے قید خانے سے بعض طالبان رہنماؤں کو رہا کرنے پر رضامند ہے۔

گارڈین کے مطابق امریکہ طالبان دور کے وزیرِ داخلہ ملا خیر خواہ اور سابق گورنر نور اللہ نوری کو رہا کرنے پر رضامند ہے لیکن وہ طالبان حکومت کے فوجی کمانڈر ملا فضل اخوند کو رہا کرنےکی بجائے قطر حکومت کی تحویل میں دینے پر رضامند ہو گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ مذاکرات اس شرط پر ہوں گے کہ طالبان تشدد ترک کر دیں، القاعدہ سے تعلقات توڑ دیں اور افغان آئین کا احترام کریں، جس میں عورتوں اور بچوں کے حقوق شامل ہیں۔

امریکی حکام نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان اولین مذاکرات اگلے ہفتے دوحہ میں ہوں گے، جب کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت اس کے چند روز بعد متوقع ہے۔

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان اعتماد کم ہے۔ ماضی میں طالبان ہمیشہ صدر کرزئی سے ملنے سے انکار کرتے، اور ان کی حکومت کو امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے رہے ہیں۔

اعلیٰ امریکی حکام نے اس قدم کو امن کے سفر میں سنگِ میل قرار دیا ہے، لیکن بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر مارک مارڈیل کہتے ہیں کہ بہت سوں کے نزدیک یہ غداری کے مترادف ہے۔

منگل کے روز طالبان نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دوحہ میں دفتر کھولنے کا ایک بنیادی مقصد ’افغانوں سے میل جول‘ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ، علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ غیرسرکاری تنظیموں سے بھی رابطہ کریں گے۔

قطری حکام کے ساتھ دوحہ میں ’سیاسی بیوریو‘ کھولنے کے بعد طالبان کے نمائندے محمد نعیم نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

خود افغانسان میں نیٹو 2001 میں طالبان کی معزولی کے بعد پہلی بار پورے ملک کی سکیورٹی کا انتظام افغان حکومت کے سپرد کر رہا ہے۔

کابل میں ایک تقریب میں صدر حامد کرزئی نے کہا کہ بدھ سے ’ہماری اپنی سکیورٹی فورسز تمام دفاعی سرگرمیوں کی قیادت کریں گی۔‘

بین الاقوامی فوج 2014 کے اختتام تک افغانستان میں رہے گی اور ضرورت پڑنے پر فوجی امداد فراہم کر سکے گی۔