تیمرلان کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں تھا

  • 25 اپريل 2013
روس نے امریکی اداروں کو خبردار کیا تھا کہ تیمرلان شدت پسند اسلام کی طرف مائل ہو گئے ہیں

حکام نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت نے بوسٹن بم دھماکوں کے ملزم تیمرلان سارنائیف کا نام ڈیڑھ سال قبل انسدادِ دہشت گردی کے ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا تھا۔

تیمرلان سارنائیف کا نام اس وقت شامل کیا گیا جب روسی حکام نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ وہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

بدھ ہی کے روز ایک امریکی قانون ساز نے تصدیق کی کہ بم ریموٹ کنٹرول سے چلائے گئے تھے۔

حکام نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ بموں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی زیادہ جدید نہیں تھی، اس لیے بموں کو چلانے کے لیے ریموٹ کنٹرول کا قریب ہونا ضروری تھا۔

تیمرلان جمعرات کی رات پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔

ان کا نام سی آئی اے کی درخواست پر فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ دہشت گردوں کی شناخت کے لیے مرتب کی جانے والی اس فہرست میں پونے آٹھ لاکھ نام موجود ہیں۔

اس سے قبل امریکی خفیہ اداروں کو 15 اپریل کو بوسٹن میں میراتھن دوڑ میں ہونے والوں دھماکوں کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔

چھ ماہ قبل سی آئی اے کی درخواست پر ان کا نام فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ ایف بی آئی نے روس سے مزید معلومات کی درخواست کی لیکن جب اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو اس نے تفتیش بند کر دی۔

بدھ کو ایوانِ نمائندگان کو بند کمرے میں دی جانے والی بریفنگ کے بعد ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینٹیر ڈچ رپرزبرگر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں اس میں ایف بی آئی کا قصور نہیں تھا۔

انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’آج ہونے والی شہادت کے پیشِ نظر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایف بی آئی نے معلومات ملنے کے بعد ضابطے کے مطابق بالکل وہی کیا جو انھیں کرنا چاہیے تھا۔‘

تیمرلان کے چھوٹے بھائی جوہر سارنائیف پولیس مقابل میں زخمی ہو گئے تھے۔ ان کا ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے جہاں ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

بھائیوں کی والدہ زبیدہ سارنائیف امریکہ پہنچ رہی ہیں

حکام نے پہلے کہا تھا کہ انھوں نے پکڑے جانے سے قبل پولیس کے ساتھ ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ کیا تھا لیکن ایسوسی ایٹڈ پریس نے بدھ کے روز خبر دی ہے کہ جوہر غیر مسلح تھے۔

اے پی کے مطابق حکام کو اس کشتی میں کوئی ہتھیار نہیں ملا جہاں سے جوہر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اس جگہ سے ایک نو ملی میٹر کا پستول ملا تھا جہاں سے تیمرلان نے مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

حکام نے کہا ہے کہ جوہر نے ہسپتال میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اور ان کے بھائی عراق اور افغانستان میں امریکی جنگوں پر برہم تھے۔

تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ان بھائیوں کا کسی جنگ جو تنظیم سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔ خیال ہے کہ یہ دنوں آن لائن مواد کی وجہ سے شدت پسندی کی طرف مائل ہو گئے تھے۔

روسی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ان کے والدین، انزور سارنائیف اور زبیدہ، جمعرات کو امریکہ پہنچیں گے۔

سارنائیف خاندان کا تعلق مسلم اکثریتی آبادی والی روسی ریاست چیچنیا سے ہے۔