BBC navigation

’پاکستان ایران گیس معاہدے پر تشویش ہو سکتی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 21:45 GMT 02:45 PST

امریکہ نے کہا ہے کہ اسے پاکستان اور ایران کے مجوزہ پائپ لائن معاہدے پر شدید تشویش ہو سکتی ہے تاہم اس حوالے سے پاکستان کی بھی عالمی ذمہ داریاں بنتی ہیں۔

یہ بات امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان پیٹرک وینٹریل نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا کو اختتامِ ہفتہ برییفنگ میں بتائی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کی تعمیر کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ایران پاکستان پائپ لائن کی تعمیر کے سمجھوتے کو آخری شکل دے دی گئی ہے تو اس سے امریکہ کو ایران پر پابندیوں کے قانون یا یو ایس ایران سیکشن ایکٹ کے تحت شدید تشویش ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اب تک یہ سوال مفروضے پر مبنی ہے لیکن اس سلسلے میں امریکہ کا موقف واضح ہے۔

امریکی ترحمان نے کہا یقییناً ہم اس معاملے کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں اور اسے دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا ’جیسا آپ جانتے ہیں کہ عالمی برادری اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ادارے کے بورڈ آ ف گورنرز کے موجودہ رکن اور اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ ایران کو عالمی برادری کی جانب سے اس کی کیمیائی ذمہ داریوں کا پابند ہونے پر قائل کرنے کی کوششوں میں شریک رہے‘۔

اس سوال کہ اگر ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں آگے بڑھتے ہیں تو کیا امریکہ پاکستان پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے کے جواب میں امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا ’جو کچھ ہوگا وہ امریکہ کے ایران سے متعلق پابندیوں کے قانون کے تحت یا یو ایس ایران سیکشنز ایکٹ کے تحت ہوگا‘۔

ترحمان پیٹرک وینٹریل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ پاکستان کی توانائی ضروریات پر اس کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس مسئلے پر وہ امریکہ کا واضح موقف جانتے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے مجوزہ پاکستان ایران پائپ لائن معاملے پر یہ پہلا تاہم واضح ردِعمل سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے بدھ کو ایران میں ہونے والی ملاقات میں کہا تھا کہ ایران اور پاکستان کو گیس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں امریکی مخالفت اور دباؤ کو نظرانداز کرنا ہوگا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بدھ کوگیس پائپ لائن منصوبے کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں دو روزہ دورے پر ایران گئے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کے لیے سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران کے جنوب میں فارس گیس فیلڈ کو بلوچستان اور سندھ سے جوڑا جانا ہے۔

ایرانی علاقے میں پاکستانی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھانے کا عمل اب تکمیل کے قریب ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان کو صوبہ بلوچستان میں جو ساڑھے چھ سو کلومیٹر لمبی پائپ لائن بچھانی ہے اس پر ابھی تک کام شروع نہیں کیا گیا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان اس پائپ لائن معاہدے کے مطابق دسمبر سنہ دو ہزار چودہ تک جو ملک تاخیر کی وجہ بنےگا اُسے بھاری جرمانہ دینا ہوگا۔

امریکہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر کے اسے معاشی طور پر تنہا کرنا چاہتا ہے اور وہ پاکستان کو اس منصوبے سے دور رکھنے کے لیے نہ صرف دباؤ ڈال رہا ہے بلکہ اس نے پاکستان کو متبادل توانائی کے ذرائع میں مدد کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔