BBC navigation

اوباما نے بجٹ کٹوتی کے معاہدے پر دستخط کر دیے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 مارچ 2013 ,‭ 04:56 GMT 09:56 PST

امریکی صدر اوباما نے پچاسی بلین ڈالر کی کٹوتیوں کے منصوبے پر دستخط کر دیے ہیں جن کے نتیجے میں انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی معیشت پر برے اثرات پڑیں گے۔

ان کٹوتیوں پر دو سال قبل سے کام ہو رہا تھا جس سے بچنے کے لیے صدر اوباما نےآخری کوشش کے طور پر جمعے کو کانگریس کے رہنماؤں کو وائٹ ہاؤس طلب کیا تھا مگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس سے عالمی معیشت پر شدید برے اثرات پڑیں گے۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات کے بے نتیجہ اختتام پر صدر اوباما نے کانگریس میں موجود رپبلکن جماعت کے اراکین کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ ’انہوں نے ان کٹوتیوں کو ہونے دیا کیونکہ وہ ایک واحد خامی کو دور کرنے پر تیار نہیں تھے جس سے خسارے میں کمی کی جاسکتی تھی۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ ان کٹوتیوں کے اثرات کی وجہ سے امریکی معیشت ایک فیصد تک سست روی کا شکار ہو گی اور اس کے نتیجے میں ساڑھے سات لاکھ ملازمتیں جا سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں احمقانہ قسم کی سلسلہ وار کٹوتیاں نہیں کرنی چاہیں ایسی چیزوں پر جن پر کاروباراور کارکنوں کا دارومدار ہو‘۔

جمعے کو کانگریس کے رپبلکن سپیکر جان بوئنر نے کہا کہ ان کی جماعت ٹیکس میں اضافہ نہیں ہونے دے گی۔

وائٹ ہاؤس سے مذاکرات کے بے نتیجہ اختتام کے بعد نکلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ میرے نزدیک ٹیکس آمدن پر بات چیت ختم ہو چکی ہے جبکہ اب اخراجات کے مسئلے پر بات چیت ہو گی‘۔

وائٹ ہاؤس سے مذاکرات کے بے نتیجہ اختتام کے بعد نکلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ میرے نزدیک ٹیکس آمدن پر بات چیت ختم ہو چکی ہے جبکہ اب اخراجات کے مسئلے پر بات چیت ہو گی‘۔

مبصرین کہتے ہیں کہ اب توجہ کانگریس میں نئے مسئلے پر مرکوز ہوگی جو کہ امریکی حکومت کی ممکنہ بندش ہے اگر اگلے مہینے کوئی فنڈنگ کا قانون منظور نہ کیا جا سکا۔

منظور شدہ عارضی وفاقی بجٹ کی میعاد ستائیس مارچ کو ختم ہو جائے گی اور اگر نیا بجٹ منظور نہ ہوا تو اس سے وفاقی حکومت کے کئی ادارے بند ہو سکتے ہیں۔

دونوں جانب میں صدر اوباما کی جانب سے ملک کے سولہ ٹرلین قرضے سے نمٹنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے پر اتفاق نہیں ہو سکا جو کہ دونوں جانب سے اہم مسئلہ ہے۔

صدر براک اوباما نے امریکہ کے متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں خود کار کٹوتی سے بچاؤ کے معاہدے پر ناکامی پر کانگریس کے رہنماؤں کو جمعے کو وائٹ ہاؤس طلب کیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے اراکین بجٹ میں کمی کے معاہدے پر ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیتے ہیں۔

ادھر بجٹ میں کٹوتیوں کے حوالے سے ہونے والے معاہدے پر ناکامی کے باعث امریکی کانگریس کا اختتام ہفتہ سے پہلے بلایا جانے والا اجلاس منسوخ کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پچاسی ارب ڈالر کے کٹوتیوں کا معاہدے پر عملدرآمد جمعہ کو ہونا تھا جس پر اب دستخط کرنے کے بعد عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے متنبہ کیا ہے کہ کٹوتیوں سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

باراک اوباما نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ سینیٹ کے ارکانِ ریپبلکنز نے اس معاہدے کے حق میں ووٹ دے کر سارا بوجھ مڈل کلاس طبقے پر ڈال دیا۔

ٹیکس میں اضافے اور حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے بارے میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں منظور ہونے والا قانون اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار بارہ کو ختم ہوگیا تھا اور نئے قانون پر اتقاق نہ ہونے کی صورت میں متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں رعایت کے خاتمے اور حکومتی اخراجات میں کٹوتی کا خود کار نظام نافذ العمل ہونا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔