BBC navigation

نئے امریکی وزیرِ دفاع کی نامزدگی کی توثیق

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 22:46 GMT 03:46 PST

چک ہیگل پر پر ایران کے معاملے پر نرم رویہ اور اسرائیل کے لیے مخاصمانہ خیالات رکھنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں

امریکی سینیٹ نے نبراسکا سے تعلق رکھنے والے سابق ریپبلکن سینیٹر چک ہیگل کی ملک کے نئے وزیرِ دفاع کے عہدے پر تقرری کی منظوری دے دی ہے۔

چک ہیگل ایک آزادانہ رائے رکھنے والے سینیٹر کی شہرت رکھتے ہیں اور وہ سبکدوش ہونے والے وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کی جگہ لیں گے۔

منگل کو سینیٹ میں ووٹنگ کے دوران ان کی تقرری کے حق میں اٹھاون اور مخالفت میں اکتالیس ووٹ آئے۔

کلِک چک ہیگل کون؟

اپوزیشن ری پبلکن پارٹی نے بارہ دن قبل ان کی تقرری کی منظوری کے لیے ووٹنگ ملتوی کروا دی تھی اور ایران اور اسرائیل کے بارے میں ان کے خیالات اور اس عہدے کے لیے ان کی قابلیت پر سوال اٹھائے تھے۔

تاہم ایک ہفتے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد ریپبلکنز اپنے اعتراضات واپس لینے پر تیار ہوگئے تھے۔

سینیٹ میں صدر اوباما کی ڈیموکریٹ پارٹی کو 55 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور چک ہیگل کو توثیق کے لیے 51 ووٹ درکار تھے۔

چھیاسٹھ سالہ چک ہیگل کو ویت نام جنگ میں نمایاں کارکردگی پر تمِغہ دیا جا چکا ہے تاہم ان پر ایران کے معاملے پر نرم رویہ اور اسرائیل کے لیے مخاصمانہ خیالات رکھنے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔

چک ہیگل نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کی گفت و شنید کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ افغانستان کے امن مذاکرات میں ایران کو بھی شامل کیا جائے۔

تاہم رواں برس اپنی نامزدگی کی توثیق کے لیے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں چک ہیگل نے کہا تھا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے باز رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے ’یہودی لابی‘ سے متعلق اپنے تبصرے پر بھی معذرت کی تھی۔

امریکی دفتر خارجہ کی اہلکار ارون ڈیوڈ میلر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ چک ہیگل نے ایک مرتبہ امریکہ میں اسرائیلی لابی کے بارے میں کہا کہ یہودی لابی یہاں بہت سے لوگوں کو ڈراتی دھمکاتی رہتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔