BBC navigation

افغانستان: چار حملوں میں چار ہلاکتیں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 فروری 2013 ,‭ 10:08 GMT 15:08 PST
کار بم دھماکہ (فائل فوٹو)

افغانستان میں گزشتہ گیارہ سال سے جنگ جاری ہے

افغانستان کے مشرقی علاقوں میں طالبان کے تین مختلف خودکش حملوں میں تین افغان فوجی مارے گئے ہیں جبکہ دارالحکومت کابل میں سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

سب سے خطرناک حملہ طلوع آفتاب کے بعد افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں ہوا جب ریاست کے خفیہ ادارے کی عمارت کے سامنے ایک کار بم دھماکہ ہوا۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حکومت کے علاقائی ترجمان احمد ضیاء عبدالزئی نے بتایا کہ سکیورٹی کے قومی ڈائریکٹوریٹ کے احاطے کے دروازے سے ٹکرا کر ایک کار دھماکے سے اڑی جس سے دو سکیورٹی اہل کار ہلاک جبکہ تین دوسرے افراد زخمی ہو گئے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

جلال آباد حملے سے قبل لوگر صوبے میں ایک شاہراہ پر ایک پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جس میں تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ نائب پولیس چیف نے کہا ہے کہ اس میں کسی کے مرنے کی خبر نہیں ہے۔

دریں اثنا کابل سے اطلاعات ہیں کہ پولیس نے ایک مشتبہ خودکش کو بم حملے سے قبل ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ شہر کے نائب پولیس چیف جنرل محمد داؤد امین کے مطابق ایک مشتبہ خودکش حملہ آور کو انٹیلیجنس ایجنٹوں نے پہلے ہی تاڑ لیا اور اس سے قبل کہ وہ اپنی گاڑی کو دھماکے سے اڑاتا، اسے گولی مار دی گئی۔

انھوں نے کہا کہ بعد میں بم کو ناکارہ بنادیا گیا۔

لوگر صوبے کے سرکارری ترجمان دین محمد درویش کا کہنا ہے کہ صبح کو ایک حملہ آور نے برکی بارک ضلعے میں پولیس ہیڈکوارٹر کے سامنے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے اسے دیکھ لیا تھا جب وہ عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر بھی وہ اپنی بیلٹ سے دھماکہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ درویش نے کہا کہ ایک پولیس اہلکار اس حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

کار بم دھماکہ (فائل فوٹو)

خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ کابل کا حملہ آور جسے پولیس نے بم دھماکے سے پہلے ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا اس نے خودکش بیلٹ پہن رکھی تھی۔

حملہ آور کی گاڑی دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی تھی اور وہ شہر کے سفارتی رہائشی علاقے وزیر اکبر خان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسی قسم کا ایک اور حملہ کابل سے ستر کلومیٹر جنوب میں پلی عالم کے مقام پر ہوا۔

لوگر کے پولیس چیف عبد الصبور نصرتی نے خبررساں ادارے اے ایف پی نے بتایا کہ پلی عالم پر ہونے والا حملہ کافی شدید تھا جس سے آس پاس کے گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں گذشتہ گیارہ سال سے مسلح تصادم جاری ہے اور امریکہ اور نیٹو کے قریب ایک لاکھ فوجی افغانستان میں ہیں، جو آئندہ سال افغانستان کی سکیورٹی مقامی فوج کے حوالے کر کے وہاں سے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔