BBC navigation

’جھڑپوں میں تیرہ فوجی اورپینسٹھ شدت پسند ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 09:15 GMT 14:15 PST
چاڈ کی فوج

چاڈ کی فوج کے تیرہ فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے

چاڈ کی فوج کے مطابق شمالی مالی کے دور دراز علاقے افوغاس میں فوج اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں تیرہ چاڈ فوجی اور پینسٹھ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والی یہ جھڑپیں افوغاس کے پہاڑوں میں پیش آئی ہیں جہاں مبینہ طور پر بعض شدت پسند چھپے ہوئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے فرانس نے مالی کے شمالی حصے میں ایک بڑے علاقے میں اسلام پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ اسلام پسندوں نے سنہ 2012 میں شمالی مالی پر قبضہ کیا تھا۔

دریں اثناء امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اسلام پسندوں پر نظر رکھنے کے لیے نائجر میں نگرانی کرنے والے ڈرون طیارے تعنیات کیے ہیں۔

مالی میں افریقی فوج کی اس جنگ میں مدد کرنے والی امریکی فوج اسلام پسندوں سے متعلق جو بھی معلومات جمع کررہی ہے وہ اسے فرانسیسی فوج کو دے رہے ہیں۔

یہ باور کیا جاتا ہے کہ اسلامی شدت پسند افوغاس کے پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ الجیریا کے ساتھ ملحق سرحد پر کدال کا علاقہ ہے۔

جمعہ کو جاری ایک بیان میں چاڈ کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ’پانچ گاڑیاں تباہ کردی ہیں اور پینسٹھ باغیوں کو ہلاک کردیا ہے‘۔ اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اس کاروائی میں ان کے تیرہ فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل اسی ماہ چاڈ کے اٹھارہ سو فوجیوں نے کدال شہر میں گشت شروع کردیا تھا۔

افریقہ کی سربراہی میں مالی کو دیے جانے والے تعاون میں چاڈ نے دوہزار فوجیوں کو بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ مالی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان مرکزی شہر گاؤ میں بھی لڑائی جاری ہے۔اس لڑائی میں فرانسیسی فوج مالی فوج کی مدد کر رہی ہے۔

جمعرات کو اتحادی فوجیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سٹی ہال پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے جس کو ایک روز قبل باغیوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

یاد رہے کہ فرانس نے مشرق مالی کی طرف باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مالی میں گیارہ جنوری کو فوجی مداخلت کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔