تیونس: وزیرِ اعظم حمادی نے استعفیٰ دے دیا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 فروری 2013 ,‭ 23:07 GMT 04:07 PST
حمادی الجبالی

حمادی الجبالی نے کہا تھا کہ اگر وہ نئی حکومت بنانے میں ناکام رہے تو وہ مستعفی ہو جائیں گے

تیونس کے وزیرِ اعظم حمادی الجبالی نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

حمادی الجبالی حزبِ مخالف کے رہنما شكري بلعيد کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے حوالے سے نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی النہضہ جماعت نے ان کے ٹیکنوکریٹس کی کابینہ بنانے کے منصوبے کی حمایت نہ کی تو وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے۔

چھ جنوری کو ہونے والے شكري بلعيد کے قتل کے بعد تیونس میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

حمادی الجبالی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر میری کوشش کامیاب نہ ہوئی تو میں استعفیٰ دے دوں گا اور میں نے ایسا ہی کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے عوام سیاسی طبقے سے مایوس ہو چکے ہیں۔ ہمیں ان کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔‘

انہوں نے ساتھ ساتھ یہ بھی دہرایا کہ ان کی کوشش کی ناکامی کو تیونس کے انقلاب کی ناکامی نہ سمجھا جائے۔

حزبِ اختلاف کے حامی شكري بلعيد کے قتل کا الزام النہضہ جماعت پر لگاتے ہیں لیکن ’النہضہ‘ کے رہنما راشد الغنوچی نے اس قتل کو بزدلانہ عمل قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی اور کہا کہ قاتل تیونس میں خونریزی کرانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

سنہ 2011 میں شروع ہونے والے عرب انقلاب کے بعد شكري بلعيد تیونس میں قتل ہونے والے پہلے سیاسی رہنما ہیں۔

.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔