دفاع کے لیے بیرونی افواج کی ضرورت نہیں: کرزئی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 فروری 2013 ,‭ 22:36 GMT 03:36 PST

اپنےگھروں پر بمباری کے لیے بیرونی افواج سے فضائی مدد مانگنا شرمناک ہے: حامد کرزئی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ اتوار کے روزا ایک ایسا حکم نامہ جاری کرنے والے ہیں جس کے تحت افغان سکیورٹی فورسز شہری علاقوں میں اپنی مدد کے لیے ’بیرونی‘ افواج سے فضائی مدد کے لیے نہیں کہہ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغان شہریی خوش ہیں کہ نیٹو افواج ملک سے جا رہی ہیں۔’ ہم ان کی مدد اور امداد سے ابھی تک خوش ہیں لیکن ہمیں اپنے دفاع کے لیے بیرونی ممالک کی افواج کی ضرورت نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کی افواج اپنے ملک کا دفاع کریں۔‘

حامد کرزئی کا بیان صوبہ ہلمند میں پیش آنے والے اس واقعے کے دس روز بعد آیا ہے جس میں نیٹو طیاروں کے ایک حملے میں دس افغان شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں چھ عورتیں اور بچے تھے جبکہ چار شدت پسند تھے۔

افغان صدر نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے ہلمند میں ’بیرونی‘ افواج سے فضائی مدد کا تقاضا کیا تھا۔ ’اگر یہ سچ ہے تو بہت ہی افسوناک اور شرمناک ہے۔ وہ کیسے (افغان سکیورٹی فورسز) اپنے گھروں پر بم برسانے کے لیے غیر ملکیوں سے مدد مانگ سکتے ہیں۔

امریکہ نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود اپنی چھیاسٹھ ہزار افواج کا نصف دو ہزار چودہ کے پہلے مہینوں تک واپس بلا لے گا۔

افغانستان میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرن ایلن نے کہا کہ افغانستان میں نوے فیصد آپریشن کی سربراہی افغانستان کی سکیورٹی فورسز کرتی ہیں اور افغانستان کی ایئرفورس کی انتہائی محدود صلاحیت کی وجہ سے طالبان کے خلاف کارروائیوں میں نیٹو کی فضائی مدد انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔