’پولیو سے محفوظ بھارت کو پاکستان، افغانستان سے خطرہ‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 15:13 GMT 20:13 PST

’اگلے چھ سال میں پولیو کا خاتمہ ممکن ہے‘

دنیا پولیو کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کوشاں بل گیٹس نے متنبہ کیا ہے کہ بھارت میں پولیو کے خاتمے کے ضمن میں حاصل کی جانے والی کامیابی کو پاکستان اور افغانستان سے بچانے کی ضرورت ہے۔

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

دنیا پولیو کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کوشاں بل گیٹس نے متنبہ کیا ہے کہ بھارت میں پولیو کے خاتمے کے ضمن میں حاصل کی جانے والی کامیابی کو پاکستان اور افغانستان سے بچانے کی ضرورت ہے۔

بل گیٹس اپنی فلاحی تنظیم بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے تحت دنیا کے تین ممالک پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا سے پولیو کے خاتمے لیے کوشاں ہیں اور وہ منگل کو بی بی سی کے تحت سالانہ طور پر منعقد ہونے والے رچرڈ ڈمبلبے لیکچر کے سلسلے کے موقع پر بات کر رہے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کے پروگرام نیوز ڈے میں پولیو کے موضوع پر بات بھی کی اور بھارت میں پولیو کے خاتمے کو ایک اچھی پیش رفت قرار دیا تاہم یہ خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت پولیو سے متاثرہ پاکستان اور افغانستان سے متاثر ہو سکتا ہے جس سے اسے مکمل طور پر محفوظ کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ’بھارت میں دو سال سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نھیں آیا لیکن اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہ مرض دوبارہ بھارت میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں آگے پاکستان اور افغانستان میں جانے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں جو تجربات تھے ان سے سبق حاصل کرنا ہو گا اور ممالک میں ہمیں سکیورٹی کی مشکل صورتحال سے نمٹنا ہو گا اور بچوں تک رسائی حاصل کرنا ہو گا اور ایک بہتر ٹیم کو یہ کام سونپنا ہو گا۔‘

جب ان سے پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے والے عملے پر جاری حملوں کا ذکر کیا گیا اور پوچھا گیا کہ وہ اس خطرناک صورتحال کا سامنا کیسے کریں گے؟

"بھارت میں دو سال سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نھیں آیا لیکن اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہ مرض دوبارہ بھارت میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں آگے پاکستان اور افغانستان میں جانے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں جو تجربات تھے ان سے سبق حاصل کرنا ہو گا اور ممالک میں ہمیں سکیورٹی کی مشکل صورتحال سے نمٹنا ہو گا اور بچوں تک رسائی حاصل کرنا ہو گا اور ایک بہتر ٹیم کو یہ کام سونپنا ہو گا۔"

بل گیٹس

تو ان کا جواب تھا کہ ’دسمبر میں پاکستان میں پولیو ٹیم پر ہونے والا حملہ بہت افسوسناک تھا۔ یہ بہت ہی پریشان کن ہے کہ جب لوگ بچوں کی مدد کے لیے نکلتے ہیں، عورتیں بچوں کو ویکسین دینے کے لیے جاتی ہیں تو ان پراس طرح سے حملہ کیا جاتا ہے۔ ہم اب بھی پوری طرح کوشش کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کے ان حملوں کی وجہ سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

بل گیٹس نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ اگلے چھ سال میں دنیا سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگلے دو سے چار سال کے لیے ہم پر امید ہیں کہ پولیو کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آئے گا اور اس کے بعد کے دو سال میں ہم یہ مکمل طور پر تسلی کریں گے اور پھر ہم یہ اعلان کرنے کے قابل ہو سکیں گے کہ دنیا سے یہ دوسرا مرض مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے ۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پولیو ایک انتہائی موذی مرض ہے جو کہ مختلف علاقوں میں موجود برادریوں میں آتا ہے جس کی وجہ سے بہت سارے بچے معذور ہوتے ہیں اور سکول بند کیے جاتے ہیں۔ یہ اب بھی دنیا کے غریب ممالک کے بہت بڑا خطرہ ہے اور اگر ہم اس کا مکمل طور پر صفایا نہیں کرتے تو یہ پھر اپنی تعداد میں اضافہ کر لے گا اس لیے ہمیں اس موقعے سے پورا فائدہ اٹھانا ہو گا اور اس کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہو گا۔‘

انہوں نے پاکستان میں پولیو کی مہم کو لاحق خطرات کے بارے میں کہا کہ ’پولیو کے قطرے پلانے والے افراد کے خلاف گزشتہ مہینے ہونے والے حملے بہت افسوسناک ہیں۔ اب خوش قسمتی سے ان افراد کی حفاظت بہتر کی گئی ہے۔ اس کے باوجود ہمیں بہت زیادہ احتیاط کرنی ہو گی مگر میں پھر بھی سمجھتا ہوں کہ بغیر کسی تشدد کے واقعے کے یہ ملک گیر مہم ختم ہو گی۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ ان تمام مختلف عناصر کی جانب سے، حکومتوں کی جانب سے تعاون کی وجہ سے اس مرض کا خاتمہ نظر آ رہا ہے اور ہمیں دیں آپ تیں چار سال دیں تو ہم آخری پولیو کے کیس تک پہنچ جائیں گے۔‘

"دسمبر میں پاکستان میں پولیو ٹیم پر ہونے والا حملہ بہت افسوسناک تھا۔ یہ بہت ہی پریشان کن ہے کہ جب لوگ بچوں کی مدد کے لیے نکلتے ہیں، عورتیں بچوں کو ویکسین دینے کے لیے جاتی ہیں تو ان پراس طرح سے حملہ کیا جاتا ہے۔ ہم اب بھی پوری طرح کوشش کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کے ان حملوں کی وجہ سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"

بل گیٹس

یاد رہے کہ منگل کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی میں ایک پولیو ٹیم پر حملے کے نتیجے میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

جیسا کہ بل گیٹس نے بات کی گزشتہ سال کے اواخر میں پولیو کی ٹیموں پر حملوں کے بعد حکام نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کے ساتھ ایک پولیس اہلکار حفاظت کے لیے مامور کیا جائے گا۔

صوابی کے ڈی سی او سید محمد شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک پولیو ٹیم جو پیدل گلو ڈیری کے علاقے میں پولیو کے قطرے پلا رہی تھی کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کر کے ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا۔

ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کا نام منصف علی بتایا گیا ہے۔

صوابی ہی میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے اہلکاروں پر دو جنوری دو ہزار تیرہ کو حملہ کیا گیا جس میں چھ خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔