BBC navigation

امریکی سینیٹ نے ٹیکس معاہدے کی منظوری دے دی

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 جنوری 2013 ,‭ 08:37 GMT 13:37 PST

امریکی سینیٹ میں معاہدے کے حق میں نواسی اور مخالفت میں آٹھ ووٹ ڈالے گئے

امریکہ کے متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں خود کار کٹوتی سے بچاؤ کے معاہدے پر وائٹ ہاؤس اور ری پبلکن رہنماؤں کے اتفاقِ رائے کے بعد امریکی سینیٹ نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

سینیٹ نے آٹھ کے مقابلے میں نواسی ووٹوں کی اکثریت سے اس بل کی منظوری دی۔ ایوانِ نمائندگان میں ابھی اس پر ووٹنگ ہونا باقی ہے جس کے بعد ہی اسے قانونی شکل مل سکے گی۔

امریکہ میں منگل کو عام تعطیل ہے اور تمام مارکیٹیں بند ہیں اس لیے معاہدہ کو فوری طور پر قانونی شکل نہ ملنے کے فوری اثرات ظاہر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اگر آئندہ چوبیس گھنٹے میں معاہدے کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے تو یہ تاخیر بےمعنی ہو جائے گی۔

امریکی سینیٹ نے اکتیس دسمبر کی ڈیڈ لائن گزرنے کے دو گھنٹے بعد ٹیکسوں میں اضافے اور اخراجات میں کمی روکنے کے لیے قانون کی منظوری دی۔ اس سے قبل ری پبلکن پارٹی کی جانب سے معاہدے کی حمایت کیے جانے کے بعد نائب صدر جوزف بائیڈن نے سینیٹ میں ڈیموکریٹ سینیٹرز کو اس بارے میں بریفنگ دی تھی۔

نائب صدر جو بائیڈن اور ری پبلکن سینیٹرز کے درمیان طویل بات چیت کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی شب طے پانے والے معاہدے میں چار لاکھ ڈالر سالانہ سے کم آمدن والے امریکیوں کو ٹیکس میں چھوٹ ملے گی۔ ڈیموکریٹس نے ابتدائی طور پر یہ حد ڈھائی لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

معاہدے کے تحت آئندہ دس برس میں وفاقی بجٹ میں ایک اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر کی کٹوتیوں کا معاملہ دو ماہ کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ کانگریس اور وائٹ ہاؤس اس پر دوبارہ بات چیت کر سکیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے سینیٹ میں معاہدے کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کے اکثریتی ایوانِ زیریں کے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ بلا تاخیر اس معاہدے کی منظوری دیں۔

براک اوباما نے ایوانِ زیریں کے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ بلا تاخیر اس معاہدے کی منظوری دیں

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر اوباما نے کہا کہ ’سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے رہنما اس معاہدے پر متفق ہوئے جو سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی بھرپور حمایت سے منظور ہوا اور جو متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اٹھانوے فیصد امریکیوں اور ستانوے فیصد چھوٹے کاروبار کے مالکان کو ٹیکس میں اضافے سے بچا رہا ہے‘۔

امریکی صدر نے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ’اگرچہ ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں کو وہ سب کچھ نہیں ملا جس کے وہ خواہشمند تھے لیکن یہ معاہدہ اس ملک کے لیے درست قدم ہے اور ایوانِ نمائندگان بھی اسے بلا تاخیر منظور کرے۔‘

اس سے قبل ری پبلکن سینیٹرز نے کہا تھا کہ انہیں اس معاہدے پر غور کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

ٹیکس میں اضافے اور حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے بارے میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں منظور ہونے والا قانون اکتیس دسمبر 2012 کو ختم ہوگیا ہے اور نئے قانون پر اتقاق نہ ہونے کی صورت میں متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں رعایت کے خاتمے اور حکومتی اخراجات میں کٹوتی کا خود کار نظام نافذ العمل ہونا تھا۔

نیا قانون منظور نہ ہونے کی صورت میں چار افراد کا خاندان جس کی مشترکہ آمدن پچھتہر ہزار امریکی ڈالر ہے اسے تین ہزار تین سو ڈالر اضافی ٹیکس دینا پڑتا۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اس نئے نظام کی وجہ سے امریکہ ایک بار پھر کساد بازاری کی طرف لوٹ جاتا اور اس کے عالمی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کانگریس اور ایوان نمائندگان نے ٹیکسوں اور اخراجات میں کمی سے متعلق بل کو نئے سال کی چھٹی کے فوراً بعد منظور کر لیا تو ملک کی معیشت پر اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہوں گے لیکن معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ ایک بار کساد بازاری کے چنگل میں پھنس سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔