BBC navigation

مصر: آئینی ریفرنڈم کے نتائج میں تاخیر

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 04:34 GMT 09:34 PST

مصر کی حزب اختلاف نے ریفرینڈم میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے

مصر کے نئے آئین پر ہونے والے متنازع ریفرنڈم کے نتائج آنے میں تاخیر ہو گئی ہے کیوں کہ حکام دھاندلی کے الزامات کی چھان بین کر رہے ہیں۔

ابتدائی غیرسرکاری نتائج کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ رائے دہندگان نے آئین کے بارے میں سوال پر ’ہاں‘ کہا ہے۔ صدر مرسی اس آئین کے حامی ہیں۔

حکام تاحال حزبِ اختلاف کی طرف سے دھاندلی کے الزامات کی چھان بین کر رہے ہیں اور اب نتائج منگل کے روز سامنے آئیں گے۔

گذشتہ چند ہفتوں میں آئین کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار بیتھنی بیل کہتے ہیں کہ اگر آئین منظور ہو جائے تو اس کے دو ماہ کے اندر اندر لازمی طور پر انتخابات کروانے ہوں گے جس سے ملک کے اندر پائی جانے والی خلیج مزید گہری ہونے کا امکان ہے۔

اسی دوران مقننہ کی طاقت پارلیمان کے ایوانِ بالا شوریٰ کونسل کو منتقل ہو جائے گی، جس پر اسلام پسندوں کا غلبہ ہے۔

سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کو ہونے والے ریفرنڈم کے دوسرے اور آخری مرحلے میں تقریباً 63 فیصد ووٹروں نے آئین کی حمایت کی ہے۔ ووٹروں کا ٹرن آوٹ کم تھا، یعنی 30 فیصد کے لگ بھگ۔

سپریم الیکشن کمیشن کے ایک رکن نے پیر کے روز کہا کہ ریفرنڈم میں بے ضابطگیوں کے الزامات کی چھان بین جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ نتائج کا اعلان منگل کے روز کیا جائے گا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے دوسرے اور آخری مرحلے میں تقریباً 63 فیصد ووٹروں نے آئین کی حمایت کی ہے

اس سے قبل کمیشن کے ایک اور رکن محمد الطنوبلی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ریفرنڈم صحیح معنوں میں تمام مصری شہریوں کی خواہشات کا آئینہ دار ہو۔‘

حزبِ اختلاف نیشنل سالویشن فرنٹ نے اتوار کے روز الزام لگایا تھا کہ ووٹنگ کے دوران ’دھاندلی اور خلاف ورزیاں‘ ہوئی ہیں۔

فرنٹ کا کہنا ہے کہ ان میں پولنگ سٹیشنوں کا دیر سے کھلنا، اسلام پسندوں کا ووٹروں پر اثرانداز ہونا اور نگرانی کے لیے ججوں کا نہ ہونا شامل ہیں۔

ترجمان عمرو حمزاوی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ نیشنل سالویشن فرنٹ نے کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ بے ضابطگیوں کی تفتیش کریں، لیکن وہ ’ہاں‘ میں آنے والے ووٹ کے بھی توقع رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا، ’ہم اس آئین کو قانونی نہیں سمجھتے۔ ہم اس کو پرامن اور جمہوری طریقے سے ختم کرنے کے لیے کوشش جاری رکھیں گے۔‘

حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ آئین اُن آزادیوں اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا ہے جن کا مطالبہ گذشتہ برس حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے لیے اٹھنے والی تحریک میں کیا گیا تھا۔

صدر محمد مرسي اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آئین جمہوریت کو محفوظ کرے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔