BBC navigation

اسلحہ پر کنٹرول کے لیے ٹھوس تجاویز دیں: اوباما

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 04:27 GMT 09:27 PST

صدر اوباما نے جو بائڈن کو ہدایت کی ہے اسلحے پر کنٹرول کے لیے قانون سازی کی مہم کی قیادت کریں

امریکی صدر براک اوباما نے جنوری کے اختتام تک اسلحے پر کنٹرول کے لیے ’ٹھوس تجاویز‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’الفاظ کو عمل میں ڈھلنے کی ضرورت ہے۔‘

صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ ریاست کنیٹی کٹ کے سکول میں حملے کے بعد نائب صدر جو بائڈن اس سلسلے میں مختلف طریقوں کی چھان بین کے عمل کی قیادت کریں گے۔

جب سے نیوٹاؤن کے سینڈی ہک سکول میں بچوں اور بڑوں سمیت 26 افراد مارے گئے ہیں، امریکہ میں اسلحے پر سخت تر کنٹرول کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

صدر نے کہا کہ ’امریکیوں کی اکثریت‘ قوانین میں تبدیلی کی حمایت کرتی ہے۔

صدر براک اوباما نے کہا کہ ان قوانین میں اسالٹ اسلحے (خود کار اور نیم خودکار رائفلیں، وغیرہ)، زیادہ گنجائش والے میگزینوں پر پابندی اور بغیر پس منظر کی چھان بین کے اسلحہ خریدنا شامل ہیں۔

ادھر شوٹنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے مزید افراد کے جنازے ہوئے۔ ان میں ایک استانی وکٹوریا سوتو اور تین طلبہ شامل ہیں: سات سالہ ڈینیئل بارڈن، چھ سالہ کیرولین پریویڈی اور چھ سالہ شارلٹ بیکن۔

سکول کے پرنسپل ڈان ہوچسپرنگ کے لیے ایک ماتمی تقریب منعقد کی گئی۔ کہا گیا ہے کہ وہ اور سکول کی ماہرِ نفسیات میری شرلیک دونوں حملہ آور کی طرف بڑھے تھے، اور دونوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

"اگر ہم ان واقعات میں سے کسی ایک کو روکنے کے لیے صرف ایک کام کر سکتے ہیں تو ہم سب پر اس کے لیے کوشش کرنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔"

صدر اوباما

صدر اوباما نے کانگریس پر بھی زور دیا کہ وہ نئے سال میں اسلحے کے کنٹرول پر ووٹنگ کروائے۔

انھوں نے کہا، ’اگر ہم ان واقعات میں سے کسی ایک کو روکنے کے لیے صرف ایک کام کر سکتے ہیں تو ہم سب پر اس کے لیے کوشش کرنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔‘

اسالٹ اسلحے پر پابندی 2004 میں صدر جارج بش کے دور میں ختم ہو گئی تھی۔

شوٹنگ کے بعد پہلے بیان میں امریکی رائفل ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ انھیں اس واقعے سے بڑا صدمہ پہنچا ہے اور وہ مستقبل میں ایسے المیہ واقعات کو روکنے کے لیے ’بامعنی شرکت‘ کے لیے تیار ہے۔

فی الحال یہ علم نہیں ہے کہ این آر اے بائڈن کی قیادت میں ہونے والے عمل میں شامل ہو گی یا نہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ جمعے کے بعد سے اسلحے کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اسلحے پر پابندی کا قانون آنے والا ہے۔

اسی دوران کئی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے، اور ایک ایکویٹی فرم نے نیوٹاؤن میں ہونے والے حملے میں استعمال ہونے والی رائفل بنانے والی کمپنی کے حصص فروخت کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔