BBC navigation

شام: ایندھن کی قلت سے امدادی سرگرمیاں متاثر

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 05:33 GMT 10:33 PST

اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ اہلکار نے شام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں جاری پرتشدد تنازع کے متاثرین کو امداد کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے ایندھن کی درآمد کی اجازت دے۔

تنظیم کے ادارے برائے پناہ گزیناں کی سربراہ ویلری آموس نے ملک میں مزید دس امدادی اداروں کو رسائی دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

منگل کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنے دورۂ شام پر بریفنگ دیتے ہوئے ویلری آموس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو اپنی امدادی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے ان علاقوں میں آزادانہ نقل و حمل کی ضرورت ہے جہاں باغیوں کا قبضہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق شام میں پچیس لاکھ سے زائد افراد کو امداد کی ضرورت ہے جبکہ پانچ لاکھ سے زائد شامی تشدد سے تنگ آ کر ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

شام میں اکیس ماہ قبل شروع ہونے والے تنازع کے دوران اب تک بیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری تھے۔

"اگر ہم اس رسائی کا صحیح فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو کہ حکومت کے مطابق ہمیں حاصل ہے، تو ہمیں حکومت کے زیرِ اثر علاقوں سے حزبِ اختلاف کے زیرِ اثر علاقوں میں جانا ہوگا۔"

ویلری آموس

شام کے دورے کے دوران دمشق میں ویلری نے ملک میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

بریفنگ کے دوران ویلری آموس نے کہا کہ ایندھن کی قلت اور عملے کی کمی شام کے طول و عرض میں بنیادی امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

سکیورٹی کونسل کو بریفنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے (شامی)حکومت کو مطلع کیا ہے کہ ہم ملک میں حزبِ اختلاف سے رابطے کریں گے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر ہم اس رسائی کا صحیح فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو کہ حکومت کے مطابق ہمیں حاصل ہے، تو ہمیں حکومت کے زیرِ اثر علاقوں سے حزبِ اختلاف کے زیرِ اثر علاقوں میں جانا ہوگا۔‘

خیال رہے کہ اس وقت دمشق کے سوا شام کے دیگر علاقوں میں امدادی کارروائیاں معطل ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ وہ شام سے تمام ’غیر ضروری غیر ملکی عملہ‘ نکال رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔