BBC navigation

’شامی بحران کا کوئی فاتح نہیں ہو گا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 19:27 GMT 00:27 PST

شامی نائب صدر فاروق الشرح سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور اس بغاوت کے آغاز سے اب تک انہیں بہت کم دیکھا گیا ہے۔

شام کے نائب صدر فاروق الشرح نے ایک لبنانی اخبار ’الاخبار‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے شام کے بحران میں کوئی فاتح نہیں ہو گا اور اس تباہی کی جانب بڑھتے بحران کو حل کرنے کے لیے ایک ’تاریخی مفاہمت‘ کے معاہدے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت یا باغی دونوں اس مسئلے کا کوئی حتمی اور فیصلہ کن حل نہیں نکال سکتے۔

شامی نائب صدر فاروق الشرح سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور جب سے یہ بغاوت شروع ہوئی ہے تب سے ان کو بہت کم دیکھا گیا ہے۔

یہ سمجھا جاتا ہے کہ فاروق الشرح کو صدر بشار الاسد کے اندرونی دائرے میں جگہ نہیں دی جاتی جس میں زیادہ تر ان کے خاندان اور علاوی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ وہ اب تک سب سے اعلیٰ شامی رہنما ہیں جنہوں نے یہ بات عوام کے سامنے کہی ہے کہ فوج اس مسلح بغاوت کو شکست نہیں دے سکتی۔

الاخبار بشار الاسد کا حامی اخبار ہے جس سے فاروق الشرح نے دمشق سے بات کی جہاں گزشتہ کچھ دنوں سے کافی شدید لڑائی چل رہی ہے اور حکومتی افواج لڑاکا طیاروں اور توپخانے کا استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہر گزرتے دن کے ساتھ فوجی اور سیاسی حل تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور ہمیں اس حالت میں رہنا چاہیے کہ شام کے وجود کا دفاع ہو سکے ہم کسی فرد واحد یا کسی ایک حکومت کے لیے جنگ نہیں لڑ رہے ہیں۔شامی حزبِ اختلاف کسی بھی فیصلے کن طریقے سے اس جنگ کو ختم نہیں کر سکتی اور نہ ہی شامی افواج جو کچھ کر رہی ہیں اس سے ایک فیصلہ کن حل نکل سکتا ہے۔‘

"ہر گزرتے دن کے ساتھ فوجی اور سیاسی حل تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور ہمیں اس حالت میں رہنا چاہیے کہ شام کے وجود کا دفاع ہو سکے ہم کسی فرد واحد یا کسی ایک حکومت کے لیے جنگ نہیں لڑ رہے ہیں۔شامی حزبِ اختلاف کسی بھی فیصلے کن طریقے سے اس جنگ کو ختم نہیں کر سکتی اور نہ ہی شامی افواج جو کچھ کر رہی ہیں اس سے ایک فیصلہ کن حل نکل سکتا ہے۔"

شامی نائب صدر فاروق الشرح

فاروق الشرح نے کہا کہ ممکنہ حل ’لازمی طور پر شامی‘ ہونا چاہیے مگر اس میں علاقائی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شمولیت ضروری ہے جس کے نتیجے میں ایک ’قومی مفاہمتی حکومت قائم ہو جس کے پاس وسیع اختیارات ہوں۔

ترکی میں موجود بی بی سی کے جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ فاروق الشرح نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس تمام عمل میں بشار الاسد کا کیا کردار ہو گا۔

حزب اختلاف نے کسی بھی صورت میں بشار الاسد کے حکومت میں رہنے کو رد کر دیا ہے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ انہیں طاقت سے ہی ہٹا سکتے نہ کہ مزاکرات سے۔

سوموار کو شامی فوجیوں نے یرموک کے مہاجر کیمپ میں موجود فلسطینیوں کو نکل جانےکا کہا جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اب وہاں حملہ کیا جائے گا۔

اسی دوران اٹلی کی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ایک اطالوی شہری سمیت دو افراد کو شام کے شہر لتاکیہ کے قریب سے اغوا کر لیا گیا ہے۔

ان اطالوی شہری کے علاوہ دونوں افراد کی شہریت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں ہے جو کہ ایک سٹیل مِل میں کام کرتے تھے۔

اطالوی وزارت خارجہ نے بھی اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا ہے۔

اسی طرح ایک اور واقعے میں امریکہ نے ایک لبنانی شہری کو شامی حکومت کی امداد کے مبینہ الزام کے تحت بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔