دمشق میں فلسطینی کیمپ پر’ہوائی حملہ‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 دسمبر 2012 ,‭ 14:25 GMT 19:25 PST

یرموک شام کا سب سے بڑا فلسطینی کیمپ ہے

شام میں حکومت مخالف کارکنوں کے دعوے کے مطابق دارالحکومت دمشق میں ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر جنگی جہازوں سے حملہ کیا گیا ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعے میں کتنے لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شام میں حقوق انسانی پر نظر رکھنے والی تنظیم (ایس او ایچ آر) نے کہا ہے کہ اس حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایس او ایچ آر نے کہا ہے کہ یرموک پر حملہ اتوار کے روز دمشق کے جنوبی اضلاع میں حکومت کی طرف سے کیا جانے والا چھٹا حملہ تھا۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں باغی حکومتی فوج سے برسرِ پیکار ہیں۔

یرموک کیمپ میں فلسطینی اور وہ شامی رہتے ہیں جو جنگ سے بے گھر ہو گئے ہیں۔

مارچ 2011 میں شامی حکومت کے خلاف بغاوت اٹھ کھڑی ہونے کے بعد اس کیمپ کو پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اگست میں اس کیمپ میں ایک شاپنگ ایریا پر مارٹر کے حملے میں کم از کم بیس افراد مارے گئے تھے۔

حالیہ ہفتوں میں دارالحکومت کے آس پاس تشدد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

یرموک شام میں سب سے بڑا فلسطینی کیمپ ہے۔ شام میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ فلسطینی مقیم ہیں۔ ان کی ہمدردیاں حکومت اور باغیوں میں منقسم ہیں۔

دریں اثناء شام میں ایک اسلامی باغی گروپ کے مطابق اس نے حلب شہر میں ایک فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

باغی گروپ توحید بریگیڈ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سو افراد کو قیدی بھی بنایا گیا ہے اور اس کارروائی میں توحید بریگیڈ کا ایک کمانڈر بھی ہلاک ہو گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے باغی گروپ کے دعوے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔