BBC navigation

’اختیارات کا حکم نامہ کالعدم، ریفرینڈم وقت پر ہوگا‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 دسمبر 2012 ,‭ 23:51 GMT 04:51 PST

مصری صدر کی جانب سے بائیس نومبر کو اپنے اختیارات کو توسیع دینے کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنے مخالفین کو رعایت دیتے ہوئے اپنے اختیارات میں اضافے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے تاہم آئینی مسودے پر ہونے والا ریفرینڈم مقررہ وقت پندرہ دسمبر کو ہی ہوگا۔

گذشتہ روز ایک اعلان کے مطابق مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنے اختیارات کو وسعت دینے والا حکم نامہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

حزبِ اختلاف کے مطالبات میں سے ایک اہم مطالبہ ریفرینڈم کو روکنا بھی تھا، اس لیے انھوں نے صدر مرسی کے حالیہ اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ صدر کے مخالفین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کا طرزِ عمل ایک آمر کی طرح ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ انقلاب کا تحفظ کر رہے ہیں۔

حزبِ اختلاف کے نمایاں اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ کے ایک رہنما احمد سعید کہتے ہیں کہ صدر مرسی کا حالیہ اعلان صدمہ انگیز ہے کیوں کہ اس میں ریفرینڈم کو نہیں روکا گیا۔

نیشنل سالویشن فرنٹ اتوار کو ایک اجلاس کے بعد باقاعدہ ردِعمل دے گا۔

صدر کے ترجمان سلیم الا آوا کا کہنا ہے کہ صدر کی جانب سے جاری ہونے والا حکم نامہ فوری طور پر کالعدم ہو گیا ہے۔

قاہرہ میں ہونے والی نیوز کانفرنس میں بتایا گیا کہ ملک میں نئے آئینی مسودے پر ہونے والا ریفرنڈم اپنے مقررہ وقت یعنی پندرہ دسمبر کو ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ صدر کے لیے قانونی طور پر یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ریفرینڈم ملتوی کر سکیں۔

محمد مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کی عدلیہ سابق صدر حسنی مبارک کے دور کے ان افراد پر مشتمل ہے جو ہر حکومتی فیصلے پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتی ہے۔

"صدر مرسی کا حالیہ اعلان صدمہ انگیز ہے کیوں کہ اس میں ریفرینڈم کو نہیں روکا گیا۔"

حزبِ اختلاف کے رہنما احمد سعید

واضح رہے کہ گذشتہ مہینے مصری صدر محمد مرسی نے صدارتی اختیارات میں اضافے کا فرمان جاری کیا تھا جس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے التحریر سکوائر میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے مصر کی فوج نے کہا تھا کہ صدر مرسی کے نئے اختیارات کے تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور وہ مصر کو ’تاریک سرنگ‘ میں جانے سے روکنے کے لیے مداخلت کرے گی۔

مصر کی فوج کی جانب سے یہ بیان قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر مظاہرے کے بعد سامنے آیا تھا۔

فوج نے فروری 2011 میں صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد مصر پر ایک برس سے زیادہ عرصہ حکمرانی کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔