’لندن پولیس کی تحقیقات سے غلط فہمیاں دور ہوں گی‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 21:45 GMT 02:45 PST
ڈاکٹر عمران فاروق

ڈاکٹر عمران فاروق کو سولہ ستمبر دو ہزار دس کو لندن کے علاقے ایجویئر میں قتل کر دیا گیا تھا

پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ لندن میں عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے جاری تحقیقات سے ایم کیو ایم کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد کرے گی۔

لندن میں ایم کیو ایم کے دفاقر پر لندن میٹرو پولیٹن پولیس کے چھاپے پر اپنے رد عمل میں پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی اور ملک کی ایک سیکولر جماعت ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عمران فاروق کی ہلاکت کے سلسلے میں لندن میں میٹروپولیٹن پولیس کے چھاپے کے حوالےسے نتائج اخد کرنا قبل از وقت اور غلط ہوگا۔

لندن میں میٹروپولیٹن پولیس نے جمعے کو ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں ایجویئر کے علاقے میں واقع ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپہ مارنے اور تلاشی لینے کی تصدیق کی ہے۔

میٹروپولیٹن (میٹ) پولیس کے پریس آفس نے جمعے کی شب بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بزنس ایڈریس پر تلاشی کا کام دو دن سے جاری تھا۔

میٹ پولیس کے ایک اہلکار جوناتھن نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ چھاپہ جمعرات کو مارا گیا تھا جس کے بعد مفصل تلاشی کا کام شروع ہوا جو جمعے کی شام کو مکمل کر لیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ لندن پولیس کی جانب سے بزنس آفس پر چھاپے کے بارے میں حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ تحقیقات کے بعد ایم کیو ایم کے بارے میں شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم نہ صرف حکومت کی اتحادی جماعت ہے بلکہ ملک میں سیکولر فورس کی نمائندگی کرتی ہے۔

میٹ آفس کے اہلکار نے ایم کیو ایم کے دفتر سے قبضے میں لیے گئے شواہد کی تفصیل نہیں بتائی۔

"لندن پولیس کی جانب سے بزنس آفس پر چھاپے کے بارے میں حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔ پاکستان کو امید ہے کہ تحقیقات کے بعد ایم کیو ایم کے بارے میں شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے۔"

پاکستان دفترِ خارجہ

پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے سلسلے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی شخص کو تفتیش کے لیے روکا گیا ہے۔

لندن میں ایم کیو ایم کے ترجمان مصطفیٰ عزیز آبادی سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بارے میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا لندن میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بزنس ایڈریس پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے انہوں نے کہا کہ ’ایسی کوئی بات نہیں۔‘

مصطفیٰ عزیز آبادی نے کہا کہ کل سے اخبار والے یہ خبر اڑاتے پھر رہے ہیں جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

گزشتہ ستمبر میٹروپولیٹن پولیس سروس کی انسدادِ دہشت گردی کی ٹیم نے کہا تھا کہ ڈاکٹر فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزاد سیاسی ’پروفائل‘بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے ڈاکٹر فاروق اپنا سیاسی کیریئر از سرِ نو شروع کرنے کے متعلق سوچ رہے ہوں۔ اس وجہ سے پولیس ہر اس شخص سے بات کرنا چاہتی ہے جو ڈاکٹر فاروق سے سیاسی حوالے سے رابطے میں تھا۔

"کل سے اخبار والے یہ خبر اڑاتے پھر رہے ہیں جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے"

لندن میں ایم کیو ایم کے ترجمان مصطفٰی عزیز آبادی

پولیس کے علم میں ہے کہ ڈاکٹر فاروق نے جولائی دو ہزار دس میں ایک نیا فیس بک پروفائل بنایا تھا اور سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر بہت سے نئے روابط قائم کیے تھے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کی ہلاکت کی دوسری برسی کے موقع پر پولیس نے ایک مرتبہ پھر لوگوں سے اپیل کی کہ اگر ان کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ سامنے لائیں۔

پچاس سالہ ڈاکٹر عمران فاروق کو جو سنہ انیس سو ننانوے میں لندن آئے تھے، سولہ ستمبر دو ہزار دس کو ایجویئر کے علاقے میں واقع گرین لین میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اکتوبر میں پولیس کو حملے میں استعمال ہونے والی چھری اور اینٹ بھی ملی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے اور لگتا ہے کہ اس کے لیے دوسرے افراد کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی جنہوں نے ہو سکتا ہے جان بوجھ کر یا انجانے میں قتل میں معاونت کی ہو۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔