BBC navigation

قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر جھڑپیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 08:31 GMT 13:31 PST
قاہرہ میں جھڑپیں

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم اٹھارہ افراد زخمی ہوئے ہیں

مصر میں صدر محمد مرسی کے مخالفین نے قاہرہ میں صدارتی محل کے سامنے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ مظاہرین صدر کی جانب سے اپنے اختیارات میں اضافے کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’نیا آئین بنانے میں جلد بازی‘ کی جا رہی ہے۔

صدر محمد مرسی نے بائیس نومبر کو ایک فرمان کے ذریعے اپنے اختیارات میں اضافہ کر لیا تھا جن کے تحت عدالت ان کے جاری کردہ کسی فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتی۔

منگل کو دسیوں ہزار مظاہرین صدارتی محل کے سامنے جمع ہو گئے تھے اور منگل کی رات انہوں نے صدارتی محل کے گرد خیمے نصب کر کے کیمپ قائم کر لیا۔

پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، تاہم کچھ مظاہرین محل کے گرد لگی خاردار تاروں کو کاٹنے میں کامیاب ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق صدر محمد مرسی محل کے اندر موجود تھے لیکن جیسے مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوا، وہ وہاں سے نکل گئے۔

مظاہرین میں سے اکثر اسی قسم کے نعرے لگا رہے تھے جو انہوں نے 2011 میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک میں لگائے تھے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق تشدد کے واقعات میں کم از کم اٹھارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لائن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعے کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ قاہرہ میں صدارتی محل کا گھیراؤ، پولیس کے ہاتھوں سے کنٹرول تقریباً جاتا ہوا، صدر مرسی کو محل سے کسی محفوظ مقام کی طرف لے جایا جانا۔ اس طرح کے واقعات پہلے نہیں ہوئے، گزشتہ سال حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کے دوران بھی نہیں

ان کا کہنا ہے کہ ۔ یہ اس بات کی طرف ایک اور اشارہ ہے کہ نئے آئین پر ریفرینڈم سے تقریباً دو ہفتے قبل بھی یہ ملک کس حد تک تقسیم ہو چکا ہے۔

قاہرہ

مظاہرین اسی طرح کے نعرے لگا رہے تھے جو انہوں نے گزشتہ سال صدر حسنی مبارک کے خلاف لگائے تھے

رات ڈھلنے کے بعد بھی مظاہرین کی ایک بڑی تعداد صدارتی محل کے باہر موجود رہی جبکہ ہزاروں مظاہرین قاہرہ کے التحریر سکوائر میں جمع تھے۔

مظاہرے میں شامل ایک شخص نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’انہوں نے اپنے لیے ایک قلعہ بنایا ہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ عارضی ہے، یہ ایسی چیز ہے کہ ہم اس پر یقین نہیں کر سکتے۔‘

’ہمارے ساتھ تیس سال دھوکہ ہوا ہے، ہم مرسی پر یقین نہیں رکھتے، وہ کرسی پر بیٹھے رہیں گے اور اسے نہیں چھوڑیں گے۔‘

ٹیلیویژن پر پڑھے جانے والے ایک بیان میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

گزشتہ ہفتے مصر میں اسلام پسند مظاہروں کے بعد اعلیٰ آئینی عدالت نے اعلان کیا تھا کہ نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے احتجاج کے طور پر غیر معینہ مدت کے لیے تمام عدالتی کارروائیوں کو روکا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے اسلام پسند مظاہرین نے قاہرہ میں ججوں کے اجلاس کو منعقد نہیں ہونے دیا تھا تاکہ وہ مصر کے لیے بنائے گئے قانونی مسودے پر کوئی حکم جاری نہ کر دیں۔

جب مظاہرین نے ججوں کو عدالت کی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا تو اعلیٰ آئینی عدالت کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عدالت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ’جج عدالت کی کارروائیوں کو اس وقت تک روکنے کا اعلان کرتے ہیں جب تک وہ مقدمات میں بغیر کسی نفسیاتی یا دوسرے دباؤ کے فیصلے دے سکیں۔‘

بیان میں مزیدکہا گیا تھا کہ ’عدالت کو ججوں کو نفسیاتی طور پر قتل کرنےکے طریقوں پر افسوس ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔