کیمیائی ہتھیار ناقابلِ قبول: اوباما

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 21:51 GMT 02:51 PST
شام میں لڑائی

شام میں لڑائی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے شام کے صدر بشار الاسد کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’دنیا دیکھ رہی ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اب اور کبھی بھی مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہو گا۔‘

اس سے قبل امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد اپنے ہی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کریں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے کہا کہ ’امریکہ کو تشویش ہے کہ اس طرح کی پریشان حکومت ایسی کارروائی کر سکتی ہے۔‘

دوسری طرف ایک شامی اہلکار نے اصرار کیا ہے کہ ’اگر ایسے ہتھیار ہیں بھی تو وہ کسی بھی حالت میں انہیں استعمال نہیں کریں گے۔‘

فورٹ میکنائر میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا: ’ہم نے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کیا ہے۔ چاہے وہ لیبیا میں جوہری مواد ہو یا شام میں کیمیائی ہتھیار۔‘

’ہم اکیسویں صدی کو بیسویں صدی کے برے ہتھیاروں سے سیاہ نہیں ہونے دیں گے۔‘

انہوں نے کہا: ’اور آج میں اسد اور جو کوئی بھی ان کی کمانڈ میں ہے اسے بڑے واضح الفاظ میں بتاتا ہوں کہ اگر تم نے ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی المناک غلطی کی تو اس کے نتائج ہوں گے اور تمہیں اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔‘

دریں اثنا اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ ’وہ شام سے غیر ضروری بین الاقوامی عملہ‘ نکال رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خبر رساں ادارے آئرن کے مطابق سو میں سے پچیس کے قریب بین الاقوامی عملہ اس ہفتے ملک چھوڑ دے گا۔

اس دوران دمشق سے باہر رفاہ عامہ کے تمام مشن بند کیے جا رہے ہیں۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے سیکیورٹی کے مشیرِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ ’حالات نمایاں حد تک بدل رہے ہیں۔ اندھا دھند فائرنگ اور گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے انسانی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔‘

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق یورپی اتحاد بھی ملک سے سفارتکار اور بین الاقوامی عملہ نکال رہا ہے۔

اس سے قبل مصر کی فضائی کمپنی ’ایجپٹ ایئر‘ نے دمشق جانے والی ایک پرواز کو دمشق میں ہوائی اڈے کے گرد سیکیورٹی کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے واپس بلا لیا۔

لبنان میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ شام میں باغیوں کو کافی کامیابیاں مل رہی ہیں اور عرب لیگ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔

لیکن ابھی بھی دارالحکومت شامی حکومت کے قبضے میں ہے، دوسرے بڑے شہر حلب کے کئی علاقے اور دوسرے مراکز اس کے پاس ہیں، اور ایک سفارتکار کا کہنا ہے کہ ابھی بھی وہ بہت لڑائی لڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔