مصر میں اعلیٰ عدالت کا کام کرنے سے انکار

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 دسمبر 2012 ,‭ 15:25 GMT 20:25 PST

اسلام پسند مظاہرین نے قاہرہ میں ججوں کے اجلاس کو منعقد نہیں ہونے دیا تاکہ وہ مصر کے لیے بنائے گئے قانونی مسودے پر کوئی حکم جاری نہ کر دیں

مصر میں اسلام پسند مظاہروں کے بعد اعلیٰ آئینی عدالت نے اعلان کیا ہے کہ نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے احتجاج کے طور پر غیر معینہ مدت کے لیے تمام عدالتی کارروائیوں کو روکا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے اسلام پسند مظاہرین نے قاہرہ میں ججوں کے اجلاس کو منعقد نہیں ہونے دیا تاکہ وہ مصر کے لیے بنائے گئے قانونی مسودے پر کوئی حکم جاری نہ کر دیں۔

جب مظاہرین نے ججوں کو عدالت کی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا تو اعلیٰ آئینی عدالت کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق عدالت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ’جج عدالت کی کارروائیوں کو اس وقت تک روکنے کا اعلان کرتے ہیں جب تک وہ مقدمات میں بغیر کسی نفسیاتی یا دوسرے دباؤ کے فیصلے دے سکیں۔‘

بیان میں مزیدکہا گیا تھا کہ ’عدالت کو ججوں کو نفسیاتی طور پر قتل کرنےکے طریقوں پر افسوس ہے۔‘

عدالت نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کیا قانون ساز اسمبلی اور شوریٰ کونسل کو تحلیل کیا جائے یا نہیں۔ قانون ساز اسمبلی نے نئے قانون کا مسودہ پاس کیا تھا اور شوریٰ کونسل میں اسلام پسندوں کی اکثریت ہے۔

صدر مرسی کے حمایتی عدالت سے خوف زدہ ہیں کیوں کے عدالت نے جون میں پارلیمان کے ایوان زیریں کو تحلیل کیا تھا۔

مصری صدر محمد مرسی کے حمایتی چاہتے تھے کہ عدالت کی طرف سے کسی ایسے حکم نامے کو روک دیا جائے جس میں اس آئینی مسودے پر سوالات اٹھائیں جائے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے نئے آئینی مسودے پر پندرہ دسمبر کو ریفرنڈم کیا جائے گا۔

یہ اعلان انہوں نے اسمبلی میں کیا جس میں اسی ہفتے آئینی مسودہ منظور کیا گیا ہے۔

صدر کے مخالفین کا کہنا ہے کہ آئینی مسودہ میں آزادی کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اتوار کو ججوں کا کام نہ کرنے کا اعلان صدر محمد مرسی اور ان کے حمایتی اخوان المسلمین اور ان کے سیکولر سیاسی مخالفین اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی میں تازہ پیش رفت ہے۔

"جج عدالت کی کارروائیوں کو اس وقت تک روکنے کا اعلان کرتے ہیں جب تک وہ مقدمات میں بغیر کسی نفسیاتی یا دوسرے دباؤ کی فیصلے دے سکیں"

اعلیٰ آئینی عدالت، مصر

صدر محمد مرسی نے 22 نومبر کو ایک فرمان کے ذریعے اپنے اختیارات بڑھائے جس کے تحت عدالت ان کے جاری کردہ کسی فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ تاہم اب یہ واضح نہیں کہ اعلیٰ آئینی عدالت کے کسی فیصلہ کا کیا اثر ہوگا۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کے اقدامات کے خلاف عدالتی فیصلہ ان کے لیے براہ رست چیلنج ہو گا اور اس سے صدر مرسی کے اختیارات بڑھانے کے فرمان کے خلاف مہم کو تقویت ملے گی۔

قانون کا مسودہ ملنے کے بعد صدر محمد مرسی نے مصری عوام سے اپیل کی کہ قانونی مسودے سے تفاق کریں یا نہ کریں لیکن ریفرینڈم میں ضرور حصہ لیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کے جون لیئن کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ہفتے، جب تک ریفرنڈم نہیں ہوتا، کشیدہ ہوں گے۔ کیوں کہ مصری عوام نہ صرف آئین کے لیے بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے ووٹ کریں گے۔

اگر ریفرنڈم میں اس مسودے کی منظوری ہو جاتی ہے تو اس سے قبل دیے گئے تمام آئینی احکامات ختم ہو جائیں بشمول صدر کی جانب سے اپنے آپ کو وسیع نئے اختیارات دیے جانے کا حکم نامہ بھی۔

نئے آئینی مسودے کے مطابق ملک کا صدر دو سے چار سال کے لیے منتخب ہو سکتا ہے اور اس میں فوج کو سویلین کی نگرانی میں لانے کی بات کی گئی ہے۔

مسودے میں شریعہ کو آئین کا بنیادی منبہ قرار دیا گیا ہے۔

صدر محمد مرسی کے حمایتیوں کا موقف ہے کہ وہ ملک کے پہلے منتخف صدر ہیں اور آذاد خیال اور سیکولر ملک کے عوام کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

لیکن دوسری طرف صدر مرسی کے نئے اختیارات سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ایک اور آمر بن جائیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔