مصر: صدر مرسی کی حمایت میں جلوس

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 15:14 GMT 20:14 PST

یہ مظاہرے صدر کے مخالفین کی طرف سے ہونے والے مظاہروں کے بعد منعقد کیے جا رہے ہیں۔

مصر کے صدر محمد مرسی کے حامی ان کی طرف سے زیادہ اختیارات حاصل کرنے اور نئے آئین کا مسودہ تحریر کرنے کے حق میں بڑے جلوس نکال رہے ہیں۔

قاہرہ میں ہونے والے یہ مظاہرے صدر کے مخالفین کی طرف سے ہونے والے مظاہروں کے بعد منعقد کیے جا رہے ہیں۔

صدر مرسی کے مخالفین جمعے کو اسلام پرست جماعتوں کی اکثریت والی اسمبلی سے آئین کے مسودے کو عجلت میں منظور کیے جانے کی وجہ سے برہم ہیں۔

اسمبلی مصر کی سپریم کورٹ کے اس اجلاس سے پہلے ہی حرکت میں آ گئی جس میں اس بات کا فیصلہ ہونا تھا کہ آیا اسمبلی کو تحلیل کر دیا جائے یا نہیں۔

جب سے صدر نے گذشتہ ہفتے اپنے آپ کو وسیع نئے اختیارات سونپ دیے تھے، اس کے بعد سے سینیئر ججوں کی ان کے ساتھ رسہ کشی جاری ہے۔

ہفتے کے دن صدر مرسی کے ہزاروں حامی قاہرہ یونیورسٹی کے باہر جمع ہوئے۔ انھوں نے ہاتھوں میں پرچم اور صدر کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

وہ نعرے لگا رہے تھے: ’عوام صدر کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔‘ ایک بینر پر لکھا ہوا تھا: عوام خدا کے قانون کا نفاذ چاہتے ہیں۔‘

ہنگاموں سے نمٹنے والی پولیس نے ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔

صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمون اور دوسری اسلام پرست جماعتوں نے لوگوں سے بڑی تعداد میں جمع ہونے کی درخواست کی تھی تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ صدر کے حالیہ اقدامات کو عوام کی تائید حاصل ہے۔

گزشتہ ہفتے جاری کیے جانے والے ایک حکم نامے کے مطابق جب تک نئے آئین کی توثیق نہیں ہو جاتی اور نئے پارلیمانی انتخابات کا انعقاد نہیں ہو جاتا، صدر مرسی کے فیصلوں کو عدلیہ سمیت کسی ادارے کی طرف سے ساقط نہیں کیا جا سکتا۔

حکم نامے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ عدالتیں دستور ساز اسمبلی کو تحلیل نہیں کر سکتیں۔

صدر مرسی نے کہا ہے کہ جب آئین ریفرنڈم کے ذریعے منظور کر لیا جائے گا تو وہ اپنے غیر معمولی اختیارات سے دستبردار ہو جائیں گے۔

ہفتے کی سہ پہر دستور ساز اسمبلی کے ارکان آئین کا مسودہ ان کے حوالے کر دیں گے جسے انھوں نے جمعے کو عجلت میں منظور کیا تھا۔

قاہرہ میں بی بی سی کے جون لیئن کا کہنا ہے کہ ممکن ہے صدر مرسی ہفتے کو ریفرنڈم کا اعلان کر دیں اور اسے صرف دو ہفتے کے اندر اندر منعقد کروا لیا جائے۔

"اہم سوال یہ ہے کہ آیا حزبِ اختلاف لوگوں کو جمع کر سکتی ہے اور انھیں اپنے حق میں ریفرنڈم میں حصہ لینے پر آمادہ کر سکتی ہے یا نہیں۔"

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار

ہمارے نمائندے کے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ آیا حزبِ اختلاف لوگوں کو جمع کر سکتی ہے اور انھیں اپنے حق میں ریفرنڈم میں حصہ لینے پر آمادہ کر سکتی ہے یا نہیں۔

جمعے کو صدر کے مخالف دسیوں ہزار افراد قاہرہ کے تحریر چوک میں جمع ہوئے۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے: ’عوام حکومت کو گرتا دیکھنا چاہتے ہیں!‘ یہ وہی نعرہ ہے جو سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف لگایا جاتا تھا۔

اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ہفتے کے دن اسکندریہ اوراسیوط سمیت دوسرے مصری شہروں میں بھی اکٹھے ہوئے۔

صدر مرسی کے نئے اختیارات سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ایک اور آمر بن جائیں گے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نوی پلے نے صدر کو لکھا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔

ان کی ترجمان نے کہا کہ اپنے خط میں پلے نے ’خبردار کیا ہے کہ ان حالات میں نئے آئین کی تشکیل باعثِ نزاع اقدام ہو گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔