مصر، آئین کا مسودہ تیار، ججوں کی ہڑتال جاری

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 نومبر 2012 ,‭ 11:59 GMT 16:59 PST

مصدر مرسی کے فرمان کے خلاف کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے ہیں

مصر کی دستور ساز اسبملی نے آئین کا پہلا مسودہ تیار کر لیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ آئین کے پہلے مسودے پر جمعرات تک ووٹنگ ہو گی۔

یہ خبر ایک ایسے وقت پر آئی ہے جب آئینی عدالت نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ پیر کے روز یہ فیصلہ کرنے والی ہے کہ آئین ساز اسبملی کو تحلیل کیا جائے یا نہیں۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے گزشتہ ہفتے اپنے اختیارات میں اضافے کا اعلان کیا تھا تب سے عدالت اور ان کے درمیان شدید اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

صدر کے اس فیصلے کے خلاف مصر میں بدھ کے روز بھی مظاہرے ہوتے رہے لیکن اس درمیان آئین ساز اسبملی کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ آئین کا مسودہ تکمیل کے اپنے آخری مرحلے میں ہے۔

حالانکہ صدر مرسی نے حال ہی میں اسمبلی کی معیاد میں اضافہ کرتے ہوئے فروری تک کا وقت دیا تھا لیکن سرکاری میڈیا کے مطابق جمعرات کے روز ہی اس پر ووٹنگ کی توقع ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لائن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کشیدہ حالات میں ایک نئے آئین کا اعلان ایک اشتعال انگیز قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

اپوزیشن رہنماء امر موسی نے نیوز ایجنسی رائٹرز کو بتایا ’یہ ایک غیر حساس قدم ہے اور موجودہ حالات میں لوگوں کے غصے اور ناراضي کے درمیان ایسے قدم کو اٹھانے کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔‘'

آئین ساز اسبملی میں صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین اور دوسری اسلام پسند جماعتوں کی اکثریت ہے جو صدر کی حامی ہیں۔

بائیں بازو اور عیسائیوں کے ارکان نے اس آئین ساز اسمبلی کو یہ کہہ کر بائیکاٹ کیا ہے کہ وہ اپنا نظریہ ہم پر تھوپنا چاہتے ہیں۔

"یہ ایک غیر حساس قدم ہے اور موجودہ حالات میں لوگوں کے غصے اور ناراضگي کے درمیان ایسے قدم کو اٹھانے کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔"

عمر موسی

اتوار کے روز مصر کی آئینی عدالت نے یہ اشارہ کیا تھا کہ وہ پیر تک یہ فیصلہ کرے گي کہ آيا آئین ساز اسبملی کو تحلیل کیا جائے یا نہیں اور اسبملی نے جلد بازی میں اسی فیصلے کے تناظر میں کیا ہے۔

عدالت پارلیمان کے دارالعوام کو پہلے ہی تحلیل کر چکی ہے جس میں اخوان المسلمین کی اکثریت تھی۔

صدر مرسی نے جب سے اپنے اختیارات میں اضافہ کیا ہے تب سے ان کے خلاف آوازيں اٹھ رہی ہیں۔ پیر کو انہوں نے متنازع حکم سے پیدا ہوئے بحران کے حل کے لیے اقدامات بھی کیے تھے اور کہا تھا کہ ان کے اختیارات بہت محدود نوعیت کے ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے ججز سے بھی ملاقات کی تھی لیکن ان کے مخالف اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس حکم کو مکمل طور پر واپس لیا جائے۔

اس کے خلاف قاہرہ کی تحریر سکوائر کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ صدر کے حکم کو آئینی اعلان کے طور پر جانا جاتا ہے جس کے تحت صدر کے حکم کو کوئی پلٹ نہیں سکتا ہے۔

اس کی مخالفت سب سے پہلے ججوں نے کی تھی کیونکہ اس حکم کے تحت جج بھی صدر کے فیصلوں کو پلٹ نہیں سکتے تھے۔

مرسی نے ججوں سے ملاقات کر کے یقین دلایا تھا کہ اس حکم کا دائرۂ کار بہت محدود ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔