اسرائیلی کارروائیاں جاری، جوابی حملوں میں تین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 16:13 GMT 21:13 PST

بدھ کو فلسطینی رہنما کے قتل کے بعد تشدد میں شدت آ گئی ہے۔

غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں سے جنوبی اسرائیل میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں دو دن میں اب تک پندرہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیلی باشندے اس وقت ہلاک ہوئے جب کیرات ملاچی نامی قصبے میں ایک چار منزلہ عمارت راکٹوں کا نشانہ بنی۔

غزہ میں اسرائیل کی طرف سے حماس کے فوجی سربراہ احمد جباری کے قتل کے بعد یہ پہلی اسرائیلی ہلاکتیں ہیں۔

احمد جباری کو بدھ کو اسرائیلی فضائیہ کے طیارے نے میزائل سے نشانہ بنایا تھا اور اس کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک پندرہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاک شدگان میں زیادہ تعداد عسکریت پسندوں کی ہے لیکن مرنے والوں میں بی بی سی کے ایک کیمرہ مین کے گیارہ ماہ کے بیٹے سمیت متعدد بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتنیاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق بدھ کے بعد سے اب تک اسرائیلی علاقے پر دو سو راکٹ داغے گئے ہیں جن میں سے ایک سو پینتالیس کو میزائل روکنے کے دفاعی نظام نے راستے ہی میں تباہ کر دیا۔

برطانیہ کے خارجہ سیکرٹری ولیم ہیگ نے کہا کہ ’حالیہ بحران کی بڑی حد تک ذمے دار حماس ہے۔‘ انھوں نے طرفین پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے احتراز کریں جس سے شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو یا جس سے بحران میں اضافہ ہو۔‘

اسی دوران مصری صدر محمد مرسی فضائی حملوں کی مذمت کی اور اسرائیل سے سفیر کو واپس بلوا لیا۔ قاہرہ میں اسرائیل کے خلاف درجنوں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کے سیاسی قائد خالد مشعل نے اسرائیل کے خلاف ’مزاحمت‘ جاری رکھنے کا تہیہ کیا ہے۔

دریں اثنا فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سوئٹزرلینڈ کا دروہ مختصر کر کے بحران سے نمٹنے کے لیے مغربی کنارے پہنچ گئے ہیں۔

فضا میں راکٹ داغے جانے کے بعد بخارات دور تک دیکھے جا سکتے ہیں۔

کیرات ملاچی کی عمارت کی اوپری منزل پر راکٹ لگنے سے دو اسرائیلی عورتیں اور ایک مرد ہلاک ہوئے۔ یہ قصبہ غزہ سے پچیس کلومیٹر دور واقع ہے۔اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس حملے میں تین بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔

عمارت کے رہائشیوں کو سائرن کی مدد سے اس حملے سے پہلے ہی سے خبردار کر دیا گیا تھا، لیکن انھیں اتنا وقت نہیں مل سکا کہ وہ عمارت سے نکل سکتے۔

حملے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مقامی شہری یرومیکائیل سمون نے کہا: ’میں گلی کے دوسری طرف رہتا ہوں، پہلے میں اسی عمارت میں رہتا تھا۔ ہم اکٹھے پلے بڑھے ہیں۔‘

’میرے لیے اس بارے میں سوچنا بہت مشکل ہے کہ کیا ہوا ہے۔ صبح آٹھ بجے ہم نے الارم کی آواز سنی اور پھر ایک بڑا دھماکا ہوا۔ میں باہر گیا تو ایک بڑا گڑھا نظر آیا۔‘

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ایک راکٹ اشدود شہر کے ایک مکان میں آن گرا، تاہم اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ قریب ہی واقع بیرتویا کے ایک سکول میں بھی ایک راکٹ گرا۔ اوفاکم اور اشکلون سے بھی راکٹ گرنے کی خبریں ملی ہیں۔

حماس نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے تل ابیب پر راکٹ برسائے ہیں۔ البتہ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

بی بی سی کی نامہ نگار یولاندے نیل کیرات ملاچی میں حملے کے مقام پر موجود ہیں۔ وہ کہتی ہیں جنوبی قصبوں میں وقفے وقفے سے سائرن بجتے رہتے ہیں، جس کے بعد شہری پناہ کی تلاش میں بھاگتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر جب غزہ سے اسرائیل کے آباد علاقوں کی طرف سے آنے والے راکٹوں کو مار گرانے کے لیے اسرائیل کے آئرن ڈوم (آہنی گنبد) نظام کے میزائل دیکھے جا سکتے ہیں۔ فضا میں بڑے دھماکے ہوتے ہیں اور بخارات آسمان پر دور تک دیکھے جا سکتے ہیں۔‘

ادھر اسرائیل کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے راکٹ حملے بند نہ ہونے کی صورت میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیل کاٹز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر راکٹ حملے بند نہ ہوئے تو اسرائیل (حماس کے سربراہ) اسمٰعیل ہنیہ کو نشانہ بنائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کا کوئی رہنما محفوظ نہیں ہے۔

"اگر راکٹ حملے بند نہ ہوئے تو اسرائیل (حماس کے سربراہ) اسمٰعیل ہنیہ کو نشانہ بنائے گا۔"

اسرائیلی وزیر

غزہ شہر میں موجود بی بی سی کے نمائندے جان ڈونیسن کہا ہے کہ نسبتاً پرسکون رات کے بعد صبح کے وقت تشدد دوبارہ پھوٹ پڑا۔ انھوں نے کہا کہ فضا میں فلسطینی عسکریت پسندوں کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کے بخارات کے نشان دیکھے جا سکتے تھے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے وقتاً فوقتاً کیے جانے والے حملوں کے بعد دھویں کے مرغولے اٹھ رہے تھے۔

مصر نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے قاہرہ میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا ہے اور اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے اجلاس بلائے ہیں۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ پر فلسطینی جارحیت کے خلاف اسرائیلی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلائیں گے جس میں اس صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔

اس صورتِ حال پر غور کرنے کے لیے مصر کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بند کمرے میں منعقد کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے لیے فلسطینی مندوب ریاض منصور نے اجلاس کو بتایا کہ اسرائیل ’بے حیائی سے اور کھلے عام فلسطینیوں کے دانستہ قتل کے بارے میں ڈینگیں مار رہا ہے۔‘

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوزن رائس نے اسرائیل کے اقدامات کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حماس اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی طرف سے اسرائیلی شہریوں کے خلاف تشدد کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔