شی جن پنگ چین کے نئے رہنما چن لیےگئے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 05:00 GMT 10:00 PST

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بیجنگ میں منعقد ہونے والی کانگریس میں نائب صدر شی جن پنگ کو کمیونسٹ پارٹی کےسربراہ کے طور پر چن لیا ہے اور اب وہ صدر ہو جنتاؤ کی جگہ ملک کے نئے صدر بن جائیں گے۔

شی جن پنگ پولٹ بیورو کی سٹینڈنگ کمیٹی کے سات ممبران کی قیادت کرتے ہوئے سٹیج پر نمودار ہوئے جس کا مطلب تھا کہ ان کو چن لیا گیا ہے۔ شی جن پنگ کے پیچھے لیکاچیانگ تھے جو وزیر اعظم وین جیاباؤ کی جگہ لیں گے۔ چین کی نئی قیادت اگلے ایک عشرے تک ملک کی باگ دوڑ سنبھالے گی۔

شی جن پنگ اگلے سال کے اوئل میں صدر ہو جنتاؤ کی جگہ لیں گے جن کے دور میں چین نے غیر معمولی ترقی کی۔

اس کے ساتھ ہی شی جن پنگ مرکزی فوجی کمیشن کے سربراہ بھی ہوں گے جس کی سربراہی ان کو صدر ہو جنتاؤ سے اقتدار کے ساتھ ہی منتقل ہوگی۔ یاد رہے کہ صدر ہو جنتاؤ سے قبل صدر جیانگ زیمن نے مرکزی فوجی کمیشن کی سربراہی دو سال تک اپنے پاس رکھی تھی۔

یہ عمل حکومت کے ایک نسل سے دوسری نسل کو انتقال کو ظاہر کرتا ہے۔

نئے صدر کے انتخاب کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران کی تعداد نو سے کم کر کے سات کر دی گئی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے چنے جانے والے افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے وہ پرانے خیالات کے حامی لوگ ہیں اور کیمونسٹ پارٹی نے اصلاحات پسندوں کو چننے سے گریز کیا ہے۔

ان سات ممبران کے نام شی جن پنگ، لی کو چیانگ، جینگ ڈو جیانگ، وو جنگ شنگ، لئیو یوئن شان، وینگ چی شان اور جانگ گاؤلی ہیں۔

شی جن پنگ چین کی بائب صدر کے طور پر پہلے ہی کام کر رہے تھے۔

نو منتخب صدر شی جن پنگ نے پریس کے نمائندوں سے مختصر خطاب میں کہا ’ہم مضبوطی سے اقوام عالم میں قائم رہیں گے اور انسانیت کے لیے جدید اور عظیم خدمات پیش کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان پر ’عظیم ذمہ داری‘ ڈالی گئی ہے اور کہا کہ ’میں خلوص دل سے پارٹی کے تمام ممبران کا شکریہ ادا کرتا ہوں ان کے اعتماد کا جو انہوں نے مجھ پر کیا ہے۔‘

انہوں نے چین کے بارے میں کہا یہ ایک ایسی سر زمین ہے جو ’خوبصورت ہے جہاں تمام گروہ امن کے ساتھ رہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کا مشن متحد ہونا اور مل کر پارٹی اور ملک کی قیادت کرنا ہے اور چین کو مزید طاقتور اور مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی بہتر زندگی کی خواہش ہے اور یہی ہمارا مقصد ہوگا کہ ہم اس کے حصول کے لیے جدوجہد کریں۔

چین کی نئی قیادت کے سات نمایاں ارکان سٹیج پر سامنے آئے جن کی قیادت شی جن پنگ کر رہے تھے۔

انہوں نے ملک کو درپیش مسائل کا ذکر بھی کیا جن میں انہوں نے رشوت اور اقربا پروری کی بات کی اور کہا کہ کمیونسٹ پارٹی کے بعض عہدیدار بھی اس میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رشوت کے مسئلے کا حل ضروری ہے اور پارٹی میں بہتر نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ’چین کو دنیا کے بارے مزید جاننے کی ضرورت ہے۔‘

شی جن پنگ کے بعد سٹیج پر لی کیانگ نمودار ہوئے جو وزیراعظم وین جیا باؤ کی جگہ لیں گے۔

انیس سو ستر کے دور میں شی جن پنگ ایک غار میں رہتے رہے جب ملک میں انقلاب آیا۔ انہوں نے ایک عام مزدور کی سطح سے آغاز کر کے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کو حاصل کیا۔

شی جن پنگ صدر ہو جنتاؤ کے پسندیدہ عہدیداروں میں بھی شمار کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔