خلیجی ممالک، شامی حزب اختلاف کا اتحاد تسلیم

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 04:42 GMT 09:42 PST

چھ حلیجی ممالک نے شام کے حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو ملک کا ’قانونی نمائند‘ تنظیم کے طور پر تسلیم کر لیا

چھ خلیجی ممالک نے شام کی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو شام کی ’حقیقی نمائندہ‘ تنظیم کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

شام کی حزب اختلاف کا نیا اتحاد اتوار کو دوحہ میں بنا جس کا مقصد تمام شامی اپوزیشن گروپوں کو صدر بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے لیے متحد کرنا ہے۔

مغربی ممالک اور ترکی نے اس اتحاد کو سراہا ہے۔

بائیس ممالک پر مشتمل عرب لیگ نے بھی نئے اتحاد کو شام کی حزب اختلاف کی ’قانونی نمائندہ‘ تنظیم کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

عرب لیگ کے وزراء خارجہ نے پیر کو قاہرہ میں ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں شام کے دیگر بشار الاسد مخالف دھڑوں سے نئے اتحاد میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ تاہم عرب لیگ نے نئے اتحاد کو شام کے عوام کی نمائندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کرنے سے اجتناب کیا۔

امریکہ اور دوسرے ممالک کی جانب سے شام کے تمام مخالف دھڑوں پر متحدہ حزب اختلاف بنانے کے لیے دباؤ تھا تاکہ نیا اتحادشام کے لیے ممکنہ اقتصادی اور عسکری امداد کے مرکز کے طور پر کام کر سکے۔

نئے اتحاد میں شامی حزب اختلاف کے مختلف گروہوں کے ساٹھ نمائندے شامل ہیں۔

ان ساٹھ نمائندوں میں کرد، عیسائی، علوی اور خواتین کے نمائندوں کے علاوہ شامی نیشنل کونسل جو غیر مؤثر ہو چکی ہے ان سب کے لیے بائیس نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایک بیان میں کہا ’ہم اس قومی اتحاد کے حمایت کریں گے کیونکہ اس کا مقصد بشار الاسد کے خونی اقتدار کا خاتمہ اور ایک پرامن اور صرف جمہوری مستقبل کا آغاز ہے۔ جس کی تمام شامی اقوام مستحق ہیں‘۔

شام کے ایک سنی عالم معاذ الخطیب کو نئی متحدہ حزب اختلاف کے سربراہ کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ یہ قدم ایک نمائندہ حزبِ اختلاف بنانے میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو جو ان مذاکرات کے اختتام پر دوحہ میں تھے ۔انہوں کہا کہ اب عالمی برادری کے پاس اس شامی حزب اختلاف کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

چین اور روس نے اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل میں صدر بشارالاسد پر شام میں محاذ آرائی ختم کرنے کے لیے دباؤ کی غرض سے پیش کی گئی تین قرار دادیں روک دی تھیں جس کی وجہ سے مغربی ممالک کی طرف سے شامی حزب اختلاف کی مدد کرنے کی کوششوں میں خلل پڑا۔

چین کے وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک صرف شام کے لوگوں کی رہنمائی میں ایک سیاسی حل کی حمایت کرتی ہے۔

روس نے کہا کہ نیا اتحاد کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر شام میں انتشار کا بات چیت کے ذریعے پر امن حل تلاش کرے۔

معاذ الخطیب سنی فرقہ سے تعلق رکھنے والے دمشق کی امیّہ مسجد کے سابقہ امام ہیں جنھوں نے جولائی میں شامی حکام کی تحویل سے رہا ہونے کے جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔

" عالمی برادری شام کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرے۔ ہم شام کے تمام لوگوں کے لیے آذادی اور حقوق چاہتے ہیں"

شیخ معاذالخطیب

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک متوازن سوچ کے حامل فرد ہیں۔

شیخ معاذ انیس سو ساٹھ میں پیدا ہوئے اور ان کی عمر باون سال ہے اور دمشق چھوڑنے سے پہلے ان کو کئی بار شامی حکام نے اپنی تحویل میں رکھا۔

نئےاتحاد کے دو نائب صدر ہوں گے جن میں سے ایک ریاض سیف اور ایک نمایاں سیکولر انسانی حقوق کے کارکن سہیر العتاسی ہوں گے۔

اس سے قبل شامی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں نے مل کر ایک متحدہ محاذ بنانے پر اتفاق کیا تھا تاکہ صدر بشار الاصد کی حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے۔

دریں اثناء شامی فضائیہ کے جہازوں نے ترکی کی سرحد کے قریب قیو راس العین کے علاقے میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

حملے میں جیٹ طیاروں کو ہیلی کاپٹرز دونوں کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے علاقے کے شہریوں کو ترکی کی جانب نقل مکانی کرنا پڑی۔ حملے میں ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

مبصرین اور حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مطابق چھتیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں لوگوں کو ہمسایہ ریاستوں میں نقل مکانی کرنا پڑی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔