فرانس نے شامی حزب اختلاف کے اتحاد کو تسلیم کر لیا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 21:52 GMT 02:52 PST

فرانس شام کی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو تسلیم کرنے والا پہلا مغربی ملک ہے

فرانس نے شام کی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو شام کی ’حقیقی نمائندہ‘ تنظیم کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

اس بات کا اعلان فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے منگل کو پیرس میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

واضح رہے کہ فرانس شام کی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو تسلیم کرنے والا پہلا مغربی ملک ہے۔

فرانسوا اولاند نے صحافیوں کو بتایا ’ میں شام کی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو شام کی ’حقیقی نمائندہ‘ تسلیم کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور یہ تنظیم مستقبل میں شام میں جمہوریت کی نمائندہ ہو گی۔‘

انہوں نے کہا کہ فرانس شام کی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو مسلح کرنے کے سوال پر غور کرے گا تاہم وہ اس بات کی اس وقت تک حمایت نہیں کرے گا جب تک اسے یقین نہ ہو کہ یہ ہتھیار کہاں استعمال ہوں گے؟

بی بی سی کے عربی امور کے ایڈیٹر سباستین اوشر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے کیا جانے والا یہ اعلان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مغربی ممالک کو امید ہے کہ شام کی حزب اختلاف کا نیا اتحاد ہی شام کے صدر بشارالاسد کا متبادل ہے۔

شام کی حزب اختلاف کا نیا اتحاد اتوار کو دوحہ میں بنا جس کا مقصد تمام شامی اپوزیشن گروپوں کو صدر بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے لیے متحد کرنا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے بھی اس نئے اتحاد کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔

اس سے پہلے بائیس ممالک پر مشتمل عرب لیگ نے بھی نئے اتحاد کو شام کی حزب اختلاف کی ’قانونی نمائندہ‘ تنظیم کے طور پر تسلیم کیا۔

امریکہ اور دوسرے ممالک کی جانب سے شام کے تمام مخالف دھڑوں پر متحدہ حزب اختلاف بنانے کے لیے دباؤ تھا تاکہ نیا اتحاد شام کے لیے ممکنہ اقتصادی اور عسکری امداد کے مرکز کے طور پر کام کر سکے۔

نئے اتحاد میں شامی حزب اختلاف کے مختلف گروہوں کے ساٹھ نمائندے شامل ہیں۔

ان ساٹھ نمائندوں میں کرد، عیسائی، علوی اور خواتین کے نمائندوں کے علاوہ شامی نیشنل کونسل جو غیر مؤثر ہو چکی ہے ان سب کے لیے بائیس نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

ادھر واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایک بیان میں کہا ’ہم اس قومی اتحاد کے حمایت کریں گے کیونکہ اس کا مقصد بشار الاسد کے خونی اقتدار کا خاتمہ اور ایک پرامن اور صرف جمہوری مستقبل کا آغاز ہے۔ جس کی تمام شامی اقوام مستحق ہیں۔‘

اس سے پہلے برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا تھا کہ یہ قدم ایک نمائندہ حزبِ اختلاف بنانے میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

شام میں حزب اختلاف اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے احتجاج میں اب تک چھتیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک چار لاکھ سے زائد شامی باشندے اپنا گھر چھوڑ کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔