BBC navigation

’بی بی سی میں ریڈیکل تبدیلیوں کی ضرورت ہے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 23:09 GMT 04:09 PST

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل جارج اینٹ وسل (بائیں) بی بی سی ٹرسٹ کے چیئرمین لارڈ پیٹن کے ہمراہ

بی بی سی ٹرسٹ کے چیئرمین لارڈ پیٹن کا کہنا ہے کہ بی بی سی کو تفصیلی طور پر تنظیمِ نو کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات ڈائریکٹر جنرل جارج اینٹ وسل کے مستعفی ہونے کے بعد ایک انٹرویو میں کہی۔

جارج اینٹ وسل، پروگرام نیوز نائٹ پر بچوں کے ساتھ زیادتی کی ایک رپورٹ نشر ہونے کے نتیجے میں بننے والے سکینڈل کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

لارڈ پیٹن نے بتایا کہ انھوں نے جارج اینٹ وسل کو اپنا عہدہ چھوڑنے سے نہیں روکا۔

بی بی سی ٹرسٹ کے چیئرمین نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ بی بی سی ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے جو ناظرین و سامعین کے لیے زبردست پروگرام بناتے ہیں اور انھیں ان کے سامنے پیش کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن انھیں افسوس ہے کہ عملے کی بڑی اکثریت کو اس افسوسناک واقعے سے کوئی تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی اس کے دکھ میں شریک ہونا پڑے گا جو جارج اینٹ وسل کے مستعفی ہونے کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔

اسی دوران بی بی سی کے ٹرسٹ نے کہا ہے کہ سابق ڈائریکٹر جنرل کو جاتے جاتے رخصتی کی معاہدے کے تحت ایک سال کی تنخواہ یعنی ساڑھے چار لاکھ پاؤنڈ دیے جائیں گے۔

بی بی سی ٹرسٹ کے ایک ترجمان نے رخصتی کے معاہدے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ’بی بی سی گذشتہ رات جارج اینٹ وسل کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچی جس میں انھیں (برخاستگی کے) نوٹس کی بجائے بارہ ماہ کی تنخواہ دی جائے گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بات اس امر کی عکاس ہے کہ وہ بی بی سی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے، خاص طور پر دو رواں تفتیشوں کے سلسلے میں۔‘

بی بی سی کے نارمن سمتھ کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی کو ایک سال کی تنخواہ یک مشت دینے کا فیصلہ ہفتے کی شب ان کی روانگی کو تیز تر بنانے کے لیے کیا گیا۔

"اپنے ناظرین اور سامعین کے اعتماد کے بغیر بی بی سی بطور ایک ادارہ ختم ہو جائے گا"

لارڈ پیٹن

بی بی سی کے ٹرسٹیوں نے ٹم ڈیوی کو قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کے طور پر کام کرنے کے لیے کہا ہے اور مستقل تقرری جلد از جلد کی جائے گی۔ لارڈ پیٹن نے یقین ظاہر کیا ہے کہ مستقل تقرری کے عمل کی تکمیل تک ٹم ڈیوی یہ کردار پورے اختیار اور یکسوئی سے نبھائیں گے۔

اس سے پہلے لارڈ پیٹن کی موجودگی میں ڈائریکٹر جنرل نے بی بی سی کے دفتر کے باہر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ عزت مندانہ کام مستعفی ہونا ہے۔‘

لارڈ پیٹن نے کہا کہ اپنے ناظرین اور سامعین کے اعتماد کے بغیر بی بی سی بطور ایک ادارہ ختم ہو جائے گا۔

بی بی سی ٹیلی وژن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ برطانوی لوگ یہ چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ بی بی سی کو اس بحران سے نکلنے کے لیے اپنے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔

حکومت کی سینیئر وزیر ٹریسا مے نے کہا ہے کہ بی بی سی کی اولین ترجیح اب یہ ہونی چاہیئے کہ وہ اپنی صحافت میں اعتماد واپس لائے۔

اس سے قبل اینٹ وسل نے کہا تھا کہ نیوز نائٹ کی وہ رپورٹ نشر نہیں ہونی چاہیے تھی جس میں سابق سینیئر ٹوری لیڈر لارڈ میک الپائن کو ملوث کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ میں شمالی ویلز کے گھروں میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز کا احاطہ کیا گیا تھا۔

اینٹ وسل نے سترہ ستمبر کو ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا تھا۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا ’اس حقیقیت کی روشنی میں کہ ڈائریکٹر جنرل ایڈیٹر ان چیف بھی ہوتا ہے اور حتمی طور پر نشر ہونے والے تمام مواد کا ذمہ دار ہوتا ہے، اور اس بات کے پیشِ نظر کہ دو نومبر کو نیوز نائٹ کے پروگرام کا صحافتی معیار ناقابلِ قبول تھا، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ باعزت طریقہ یہی ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو جاؤں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب انھیں اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تو وہ پراعتماد تھے کہ بی بی سی کے ٹرسٹیوں نے اس عہدے کے لیے بہترین امیدوار کا انتخاب کیا ہے جو آنے والے چیلنجوں کا سامنا اور مواقع سے فائدہ اٹھا سکے گا۔

’تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے غیرمعمولی واقعات کی وجہ سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بی بی سی کو نئے رہنما کا انتخاب کرنا چاہیے۔‘

’انتہائی مشکل حالات میں مختصر وقت کے لیے بھی بی بی سی کا ڈائریکٹر جنرل ہونا میرے لیے بہت اعزاز کی بات تھی۔‘

"اس حقیقیت کی روشنی میں کہ ڈائریکٹر جنرل ایڈیٹر ان چیف بھی ہوتا ہے اور حتمی طور پر نشر ہونے والے تمام مواد کا ذمہ دار ہوتا ہے، اور اس بات کے پیشِ نظر کہ دو نومبر کو نیوز نائٹ کے پروگرام کا صحافتی معیار ناقابلِ قبول تھا، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ باعزت طریقہ یہی ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو جاؤں"

جارج اینٹ وسل

لارڈ پیٹن نے اینٹ وسل کے استعفے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’یہ میری عوامی زندگی کی سب سے اداس شاموں میں سے ایک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بی بی سی میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کہ انتہائی ہنر مند اور ایماندار ہیں اور یہی بات بی بی سی کو دنیا کے بہترین خبر رساں ادارے کے طور پر کام جاری رکھنے میں مدد کرے گی۔

مستعفی ہونے کے بعد اینٹ وسل نے کہا کہ وہ ’اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔‘

بی بی سی کی چوّن روزہ قیادت کے دوران اینٹ وسل کو نیوز نائٹ پروگرام کے سکینڈل کے علاوہ اور ڈی جے جمی سیول کے خلاف تحقیقات بند کرنے کے تنازعے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سیول نے ممکنہ طور پر چالیس برسوں کے دوران تین سو کے قریب لوگوں کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔

پروگرام نیوز نائٹ کے نشر کرنے کے فیصلے کے بارے میں سکائی نیوز کے سربراہ تحقیقات کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ سیول کی جانب سے مبینہ جنسی بدسلوکی کے دور میں بی بی سی کے ماحول اور طرزِ عمل کے بارے میں بھی تفتیش شروع ہو گئی ہے۔

سیکریٹری برائے کلچر ماریا ملر نے کہا ’یہ افسوس ناک مگر درست فیصلہ ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ اس اہم قومی ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو بحال کیا جائے۔‘

اعتماد کا فقدان: مارک ایسٹن

جارج اینٹ وسل نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بی بی سی کو اعتماد کے فقدان کے بحران کا سامنا ہے۔

یہی لفظ ’اعتماد‘ ان کے مستعفی ہونے کے فیصلے کو سمجھنے کی کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔

بی بی سی کی طرح کے کسی بھی سرکاری خزانے سے چلنے والے نشریاتی ادارے کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا بی بی سی یہ کھویا ہوا اعتماد جارج اینٹ وسل کے ہوتے ہوئے دوبارہ حاصل کر سکتی تھی یا ان کے بغیر؟

گذشتہ ماہ ارکانِ پارلیمان اور میڈیا کے سامنے ان کیکلِک متذبذب کارکردگی سے اعتماد پھوٹتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا۔

بطورِ ڈائریکٹر جنرل اپنے چون دن کے مختصر دور میں وہ ’غیرمتجسس جارج‘(Incurious George) کے نام سے مشہور ہو گئے تھے (ایک مشہور کارٹون کردار کا نام Curious George یعنی ’متجسس جارج‘ ہے)۔

اینٹ وسل جاتے جاتے وہ بی بی سی کو زیادہ گہری دلدل میں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے جانشین ٹم ڈیوی کو صحافت کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور وہ بی بی سی میں نسبتاً نووارد ہیں۔

اتوار کی صبح بی بی سی زخموں سے چور، حملے کی زد میں اور بغیر کسی رہنما کے تھی۔

بی بی سی کے لیے اب یہ بہت اہم ہے کہ وہ ایسے نظام وضع کرے جن سے خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

تاہم لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمان اور کلچر کمیٹی کے رکن بین بریڈشا نے کہا کہ اینٹ وسل کا عہدہ چھوڑنا ’بہت بڑی غلطی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’اور کون اس گند کو صاف کرے گا؟ مجھے بہت پریشانی ہے کہ بی بی سی سیاسی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ جارج اینٹ وسل کو بی بی سی کے نیوز ایڈیٹر لے ڈوبے۔ وہ حالات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بی بی سی کو چاہیے تھا کہ انھیں وقت دیتی۔‘

بی بی سی کے نمائندے بین جیوگیگن کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد لوگوں کی منقسم رائے سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک طرف کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اینٹ وسل کو غلط طور پر قربان کیا گیا ہے تاہم اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر یہ شاید درست فیصلہ ہے۔

نیوز نائٹ پروگرام نے دو نومبر کو ایک شخص سٹیو میشام کی جانب سے اسّی کی دہائی میں ٹوری پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما کے خلاف جنسی بدسلوکی کا الزام نشر کیا تھا۔ اگرچہ پروگرام میں لارڈ میک الپائن کا نام نہیں لیا گیا تھا، لیکن انٹرنیٹ پر ان کی شناخت اسّی کی دہائی میں شمالی ویلز میں صحت کے مراکز پر لوگوں کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنانے والے کے طور پر کی گئی۔

لارڈ میک الپائن نے کہا کہ یہ الزامات ’قطعاً غلط اور سخت ہتک آمیز ہیں۔‘

سٹیو میشام نے لارڈ میک الپائن سے معافی مانگی ہے اور ان الزامات کی تردید کر دی ہے۔

بی بی سی نے نیوز نائٹ کی تحقیقات کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے تاکہ ان کی ادارتی صحت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ادارہ برائے تفتیشی صحافت کے ساتھ مشترکہ پروڈکشن بھی روک دی گئی ہے۔ اس ادارے نے نیوزنائٹ کے مذکورہ پروگرام پر مل کر کام کیا تھا۔

بی بی سی کے آڈیو اور موسیقی کے ڈائریکٹر ٹم ڈیوی کو قائم مقام ڈائریکٹر جنرل بنا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔