شام: ایک دن میں ہزاروں افراد کی نقل مکانی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 16:40 GMT 21:40 PST

شام کے اندر بھے گھر ہونے والے افراد کی تعداد پچیس لاکھ ہو گئی ہے: امدادی ادارے

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں گیارہ ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر کے شام سے نکلے ہیں۔

جمعہ کو ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا ہجرت کرنا ظاہر کرتا ہے کہ شام میں حالات کس قدر خراب ہو گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ادلیب اور حلب میں خوفناک لڑائی کے باعث نو ہزار افراد نقل مکانی کر کے ترکی کی سرحد میں داخل ہوئے ہیں۔ جبکہ دو ہزار افراد لبنان اور اردن میں داخل ہوئے ہیں۔

امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ شام میں مکانات اور طبی سہولیات کی تباہی کا سلسلہ بڑھ رہا ہے۔

ان اداروں کا کہنا ہے کہ پچیس لاکھ شامی باشندے جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے شام کے اندر بے گھر ہوئے ہیں اورانہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ دو میجروں سمیت شام کی فوج کے چھبیس افسران منحرف ہو کر ترکی پہنچے ہیں۔

دوسری جانب شام میں حزب مخالف کا کہنا ہے کہ انہوں نے متحدہ اپوزیشن بنانے کی جانب پیش رفت کی ہے اور وہ پر امید ہیں کہ دوہا میں ہونے والے اجلاس کے دوسرے دن وہ کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

مغربی اور خلیجی ممالک شام میں حزب اختلاف کے دھڑوں پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ صدر بشارالاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔

شام میں حزب اختلاف نے متحدہ اپوزیشن بنانے کی طرف پیش رفت کی ہے

جبکہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے شام میں امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بات چیت کریں گےجس میں امدادی کارکنوں کو کام کرنے اور ان کی متاثرہ علاقوں تک رسائی کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔

شام کی امداد کے حوالے سے ( ہیومنٹیرین فورم کی ) چھٹی ملاقات جنیوا میں ہوگی جس میں اقوام متحدہ کے ادارے اور ممبر ممالک شریک ہوں گے۔

شامی حکومت نے ملک میں غیر ملکی امدادی ایجنسیوں کی موجودگی کو محددود کر دیا ہے۔

شام کےصدر بشارالاسد کے خلاف پر تشدد احتجاج گزشتہ سال مارچ سے جاری ہے۔

حزب مخالف کے کارکنوں کے مطابق شام میں جاری پرتشدد واقعات میں تقریباً پینتیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں بارہ لاکھ افراد بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ دو ملین سے زیادہ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

شام کی حزب اختلاف کا اجلاس دوہا میں عرب لیگ کے زیر انتظام ہو رہا ہے۔ جس میں شام کے مغربی دوست ممالک بھی شریک ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں امداد کی رسائی ممکن بنانے کے لیے دوہا اجلاس ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب بین الاقوامی امدادی ایجنسی ریڈ کراس کے سربراہ نے کہا کہ وہ شام کی بڑھتی ہوئی امدادی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔

شام کے باغی رہنما نے کہا کہ بات چیت کے پہلے دن متحدہ اپوزیشن بنانے میں پیش رفت ہوئی ہے اور شام کی قومی کونسل کے بعض ارکان نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ساٹھ ارکان پر مشتمل حزب اختلاف کے نئے گروپ بنانے کے منصوبے کو تسلیم کرنے کے لیے راضی ہیں۔

متحدہ حزب اختلاف بنانے کا مقصد ایسی قابل اعتماد شامی لیڈرشپ کو تیار کرنا ہے جن کا تعلق شام کی عوام سے ہو اور جنہیں شام کے مغربی دوست ممالک کا گروپ تسلیم کر ے۔

شام کی قومی کونسل ہی حزب اختلاف کا سب سے بڑا گروپ ہے لیکن یہ ابھی تک ایک متحدہ اپوزیشن سامنے لانے میں ناکام رہا ہے۔

شام کے باغی رہنما کی جانب سے تجویز کردہ نئی قومی کونسل موجودہ قومی کونسل کی جگہ لے گی جس میں شام کے ملک بدر اور ملک کے اندر حزب اختلاف کے رہنما شامل ہوں گے اور یہی تنظیم بیرونی امداد کی ترسیل کرے گی۔

امریکہ شام میں ایک ایسی وسیع الابنیاد قیادت کونسل بنانا چاہتا ہے جس میں شام کی قومی کونسل کا اثر کم ہو۔

دوہا میں بی بی سی کے نامہ نگارجیم میور کا کہنا ہے کہ شام کی قومی کونسل کسی نئی تنظیم میں کم نمائندگی لینے سے کتراتی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق شام کی قومی کونسل چاہتی ہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف نئی تنظیم کو بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی جائے۔

حزب اختلاف کے تجربہ کار رہنما نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’شام کی قومی کونسل کی نئی قیادت منتخب ہونے کے بعد ہمیں امید ہے کہ جمعہ کو ہمارے درمیان اتفاق رائے ہو جائے گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔