براک اوباما دوبارہ امریکی صدر منتخب

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 09:01 GMT 14:01 PST

اوباما امریکہ کے صدر منتخب

ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار براک اوباما دو ہزار بارہ کے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کر کے دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

امریکی صدر کو فتح کے لیے دو سو ستر الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں اور غیر حتمی نتائج کے مطابق براک اوباما نے اب تک تین سو تین الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیے ہیں جبکہ ان کے حریف ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی دو سو چھ الیکٹورل ووٹ حاصل کر سکے جبکہ صرف ریاست فلوریڈا کا نتیجہ آنا باقی ہے۔

انتخاب کے دن تک دونوں امیدواروں کے مابین انتہائی سخت مقابلے کی پیشنگوئی کی جا رہی تھی لیکن براک اوباما واضح سبقت کے ساتھ یہ الیکشن جیتنے میں کامیاب رہے۔

کلِک امریکی الیکشن پر خصوصی ضمیمہ

کلِک براک اوباما کا سوانحی خاکہ

شکاگو سمیت متعدد شہروں میں لوگ نعرے لگا کر جشن منانے لگے

شکست کھانے والے ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی نے اپنے انتخابی ہیڈکوارٹر میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے شکست تسلیم کی اور براک اوباما کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔

ادھر شکاگو میں اپنے حامیوں سے خطاب میں صدر براک اوباما نے کہا کہ وہ آئندہ نسلوں کو ایک ایسا ملک ورثے میں دینا چاہتے ہیں جو کہ محفوظ ہو، پوری دنیا میں باعزت ہو، جس کا دفاع دنیا کی بہترین فوج کرتی ہو اور ساتھ ہی ایسا ملک جو کہ جنگوں سے دور ایک ایسے امن کو جنم دے سکے جس کی بنیاد ہر انسان کے لیے آزادی اور وقار ہو۔

صدر نے امریکی عوام سے کہا کہ چاہے وہ ان کے حامی ہوں یا مخالف انہوں نے ان کی آواز سن لی ہے۔ ’میں نے آپ سے سیکھا ہے اور آپ نے مجھے ایک بہتر صدر بنایا ہے۔ آپ کی رائے اور کہانیوں کے ساتھ میں وائٹ ہاؤس پہلے سے زیادہ پرعزم جا رہا ہوں‘۔

اب تک کے نتائج کے مطابق اوباما نے امریکہ کی پچاس ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں سے چھبیس میں کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے حریف مٹ رومنی بھی چوبیس ریاستوں میں جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔

فیصلہ کن قرار دی جانے والی نو ریاستوں میں سے اب تک آٹھ کے نتائج آ چکے ہیں جن میں سے سات ورجینیا، کولوراڈو، نوادا، آئیوا، نیو ہمپشائر، وسکونسن اور اہم ترین اوہایو براک اوباما نے جیتیں جبکہ مٹ رومنی نے صرف نارتھ کیرولائنا میں کامیابی حاصل کی۔ ایک فیصلہ کن ریاست فلوریڈا کا نتیجہ آنا ابھی باقی ہے۔

نارتھ کیرولائنا کے علاوہ رومنی نے انڈیانا کی ریاست میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ دونوں ریاستیں گزشتہ انتخاب میں براک اوباما کے پاس تھیں۔

ان نتائج کے مطابق جن چوبیس ریاستوں میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار مٹ رامنی فاتح ہیں ان میں الاسکا، میزوری، ایداہو، ایریزونا، کینٹکی، ویومنگ، نارتھ ڈکوٹا، ساؤتھ ڈکوٹا، نبراسکا، کنساس، اوکلاہوما، ٹیکساس، آرکنساس، لوئزیانا، میسیسپی، آلاباما، جارجیا، ساؤتھ کیرولائنا، ٹینیسی، انڈیانا، ویسٹ ورجینیا، یوٹا، نارتھ کیرولائنا اور مونٹانا شامل ہیں۔

اوباما کی کامیابی کا یقین ہونے پر مٹ رومنی کے حمایتیوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی

ادھر دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ اب تک نے صدر اوباما کے حصے میں چھبیس ریاستیں آ چکی ہیں جن میں کولوراڈو، ورجینیا، آئیوا، کیلیفورنیا، ہوائی، واشنگٹن، الینوئے، مشی گن، میری لینڈ، ڈیلاویئر، نیو جرسی، روڈ آئی لینڈ، کنیٹیکٹ، مین، ورمونٹ، نیویارک، میساچیوسٹس، پینسلوینیا، نیو ہیمشائر، نیو میکسیکو، وسکونسن اور منیسوٹا شامل ہیں۔

امریکہ میں ارلی ووٹنگ یا الیکشن کے دن سے قبل ووٹنگ بھی ہوئی اور ایک اندازے کے مطابق ملک میں ساڑھے پندرہ کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں میں سے تیس فیصد ووٹرز ووٹنگ کا حق استعمال کر چکے ہیں۔

نتائج کے بعد: تصاویر

  • صدر اوباما نے فتح کے بعد شکاگو میں لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
  • صدر اوباما نے دوسری بار صدر منتخب ہونے کے بعد کہا کہ جنگ کا عشرہ ختم ہو رہا ہے۔
  • ڈیموکریٹ پارٹی کے حامیوں نے صدر اوباما کی فتح کا جشن منایا۔
  • صدر اوباما کے شہر شکاگو میں ان کی فتح پر زبردست جشن منایا گیا۔
  • صدر اوباما کی ایک حامی خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔
  • صدر اوباما دوسری بار اپنی کامیابی پر اپنے خاندان کے ہمراہ۔
  • صدر کے عہدے کے لیے اوباما کے حریف امیدوار مٹ رومنی نے شکست کے بعد باراک اوباما کو مبارکباد دی اور ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے لیے ووٹ ڈالے۔
  • صدر اوباما کے مسرور حامیوں کا پرجوش انداز۔
  • کینیا کےگاؤں کوگیلو میں صدر اوباما کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ گوگیلو صدر اوباما کے والد کا گاؤں ہے۔
  • براک اوباما کی دادی سارہ اوباما نے پوتے کے دوبارہ صدر منتخب پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
  • براک اوباما کے سوتیلے بھائی ملک اوباما نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور بھائی کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا
  • انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں صدر اوباما کی فتح پر جشن منایا گیا۔
  • جکارتہ میں صدر اوباما کی فتہ پر جشن منایا گیا۔ صدر اوباما نے بچپن میں کئی سال تک انڈونیشیا میں قیام کیا۔
  • ٹوکیو میں صدر اوباما کی فتح پر خوشی اظہار کیا گیا۔
  • دلی میں صدر اوباما کی فتح پر خوشی کا اظہار۔
  • باراک اوباما کی جیت پر یہ خواتین خوشی منا رہی ہیں

کانگریس میں تبدیلی نہیں

امریکہ میں چھ نومبر کو صدارتی انتخاب کے ساتھ ساتھ ایوانِ نمائندگان کی تمام چار سو پینتیس جبکہ سینیٹ کی سو میں سے تینتیس نشستوں کے لیے بھی انتخابات ہوئے ہیں۔

ان انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق صدر اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی میساچوسٹس، انڈیانا اور ورجینیا میں اہم مقابلے جیت کر توقعات کے مطابق سینیٹ میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

ادھر ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کا غلبہ بھی برقرار رہا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ میں قائد حزب اقتدار ہیری ریڈ اور ایوان نمائندگان میں اکثریتی جماعت ریپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بوہئنر اپنے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو مخالف جماعتوں کی اکثریت کی وجہ سے سنہ دو ہزار دس کے انتخابات کے بعد سے قانون سازی کا عمل مشکلات کا شکار رہا ہے اور اب براک اوباما کے لیے ایک مرتبہ پھر ایک منقسم ایوان تشکیل پایا ہے۔

تازہ نتائج کے بعد اب سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے اکیاون نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ انہیں دو آزاد امیدواروں کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ ری پبلکن پارٹی کے پاس چوالیس نشستیں ہیں۔

چار سو پینتیس نشستوں کے ایوانِ نمائندگان میں تازہ ترین نتائج کے مطابق ری پبلکن پارٹی نے اب تک دو سو چھبیس نشستیں جیتی ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس ایک سو تہتر نشستیں ہیں۔

سینیٹ کے الیکشن میں ری پبلکن ٹیکساس، ٹینیسی اور مسیسیپی میں اپنی نشستیں دوبارہ جیتنے میں کامیاب رہے ہیں تاہم اس کے دائیں بازو کے حامی دو امیدوار جنہوں نے جنسی زیادتی کے بارے میں متنازع بیان دیا شکست کھا گئے ہیں۔

میساچوسٹس میں ڈیموکریٹ امیدوار الزبتھ وارن نے اس نشست پر کامیابی حاصل کی جو اس سے قبل ری پبلکن سینیٹر سکاٹ براؤن کے پاس تھی۔

امریکہ میں عوام براہِ راست اپنا صدر منتخب نہیں کرتے

ریاست میزوری میں ری پبلکن پارٹی کے ٹاڈ ایکن کی پوزیشن ابتداء میں مضبوط تھی لیکن جنسی زیادتی کے بارے میں ان کے بیان نے صورتحال تبدیل کر دی اور یہاں سے ڈیموکریٹ امیدوار کلیئر مکیسکل کامیاب ہوئی ہیں۔

اسی معاملے پر بیان ببازی انڈیانا میں ری پبلکن امیدوار رچرڈ مرڈوک کو بھی مہنگی پڑی اور انہیں بھی ڈیموکریٹ امیدوار جو ڈونلی کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔

امریکہ کی شمال مشرقی ریاست مین میں ری پبلکنز کو سینیٹ میں ایک اور نشست کھونی پڑی ہے جب یہاں سے آزاد امیدوار اور ریاست کے سابق گورنر اینگس کنگ کامیاب ہوئے۔

ان انتخابات میں سینیٹ کا پہلا نتیجہ ورمونٹ کی ریاست سے سامنے آیا اور وہاں توقعات کے عین مطابق عموماً ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دینے والے آزاد امیدوار برنی سینڈرز کامیاب قرار پائے تھے۔

سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی ریپبلکن پارٹی کی امیدوں پر اس وقت مزید اوس پڑ گئی جب مین کی ریاست میں آزاد امیدوار جن کے بارے میں توقع ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ دیں گے رپبلکن پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں کامیاب قرار پائے۔

دنیا کے لیے کیا معنی؟

اب جبکہ براک اوباما دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہو گئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ان کا دوسرا دور دنیا کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

یورپ

بی بی سی کے کرس مورس برسلز سے لکھتے ہیں: یورپ آج عام طور پر یک گونہ اطمینان کی سانس لے کر جی رہا ہوگا۔ پورے براعظم میں رائے عامہ کے جائزوں میں ہمیشہ ہی براک اوبامہ کو مٹ رومنی کے مقابلے زیادہ مقبول رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زیادہ تر حکومتیں بھی واشنگٹن میں تبدیلی کے بجائے تسلسل کی خواہش مند نظر آئی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ٹم گیتھنر اور خود صدر اوباما یورو زون کے مباحثے میں قریب سے شامل رہے ہیں۔ یورپین یونین اپنے یورو زون بحران کے مباحثے میں اس قدر منہمک ہے کہ وہ کوئی بیرونی خلفشار نہیں چاہتا۔

اس کے علاوہ یورپین یونین اوباما انتظامیہ کے ساتھ خارجہ پالیسی کے متعدد معاملات میں مل کر کام کر رہا ہے جن میں بطور خاص ایران کا مسئلہ شامل ہے۔ اگرچہ چند اہم لوگوں میں تبدیلی ہو سکتی ہے لیکن اوباما کی جیت کا مطلب یہ ہے کہ یورپ کو اپنے معاملے میں ڈرامائی تبدیلی کی ضروت نہیں ہے۔

چین

بیجنگ سے ہمارے نامہ نگار مارٹن پیشنس لکھتے ہیں: صدر اوباما کی فتح چین میں ایک دہائی ہونے والی ایک تبدیلی سے ایک دن پہلے آئی ہے۔ اس لیے چین کی ساری توجہ اس وقت اپنے ملک میں ہی مرکوز ہوگی نہ کہ بحرالکاہل کے اس پار۔

لیکن انتخابی مہم کے دوران دونوں امیداوار چین کے لیے اہم تھے کیونکہ جو بھی جیت حاصل کرتا وہ چین کے ناروا تجارتی عمل کی بات اٹھاتا۔ معاشی معاملوں پر حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے رشتوں میں تلخی رہی ہے۔

بیجنگ کو صدر اوباما کے ایشیا میں جنگی محور بنانے سے پریشانی ہے۔ چند حکام کا ماننا ہے کہ واشنگٹن چین کے عروج پر لگام چاہتا ہے۔ یہ وہ اہم مسئلے ہیں جو یقینی طور پر آنے والے دنوں میں سفارتی رشتوں پر چھائے رہیں گے۔

افغانستان

کابل سے ہمارے نامہ نگار کوانٹم سمرویل لکھتے ہیں: افغانستان میں ہر چیز اب امریکی قیادت میں جنگی مشن کے خاتمے کے عینک سے دیکھی جا رہی ہے اور کمانڈر ان چیف میں کوئی تبدیلی افغان کے تئیں امریکی پالیسی میں زیادہ تبدیلی کا باعث نہیں ہوتی کیونکہ دونوں امیدوار میں اس معاملے میں کوئی فرق نہیں تھا سوائے اس کے کہ مٹ رومنی نے کہا تھا کہ وہ میدان جنگ میں موجود جرنیلوں کی زیادہ سنتے۔

اوباما کے سامنے یہ سوال ہے کہ وہ کتنی جلدی فوج کو واپس بلاتے ہیں اور دوہزار چودہ کے بعد وہاں کتنی فوج رہے گی۔ ملٹری کمانڈر چاہیں گے کہ انخلاء رفتہ رفتہ ہو اور دس ہزار سے زیادہ تعداد میں فوج یہاں رہے۔ لیکن نئے انتخاب کے بعد وائٹ ہاؤس مزید سریع انخلاء پر زور دے گا اور دوہزار چودہ کے بعد وہاں کم فوجی رہ جائیں۔

ایران

بی بی سی کے محسن اصغری تہران سے لکھتے ہیں: ایران میں کئی لوگوں کو خدشہ تھا کہ ریپبلکن کی جیت کا مطلب جنگ ہے اور براک اوباما کی جیت کا مطلب ہے لوگوں کی جان کی حفاظت کیونکہ امریکہ ایران کے جوہری ارادوں کے بارے میں بات چیت کا ایک نیا دور شروع کرے گا۔

بہرحال چند ایرانی سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اوباما کی جیت سے ایران پر زیادہ دباؤ بڑھے گا۔

تہران یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر ناصر ہادیان نے کہا ’عالمی برادری میں براک اوباما کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے جوکہ رومنی کو نہیں ہےاور بہ ایں سبب وہ ایران کے خلاف اتحاد کو مضبوط کر سکیں گے اور ایران پر زیادہ دباؤ ڈال سکیں گے‘۔

ایران کے لیے کون زیادہ قابل قبول ہوگا؟ یورنیم کی افزائش پر پابندی لگانے والا اسرائیل کا حلیف مٹ رومنی یا اوباما جو شاید ایران کو پرامن جوہری حق دے سکے؟ اس طرح ہم کہ سکتے ہیں کہ اوباما کو وائٹ ہاؤس میں دوبارہ دیکھ کر ایران کے لوگ زیادہ خوش ہیں۔

پاکستان

ہمارے نامہ نگار ایم الیاس خان اسلام آباد سے لکھتے ہیں: پاکستان کی فوج جو ملک کی سلامتی کی پالیسی پر اختیار رکھتی ہے اس کے لیے روایتی طور پر ری پبلکن حکومت زیادہ اچھی رہی ہے۔ ڈیموکریٹک رہنما عام طور پر اپنی سول لبرٹی، جمہوریت اور جوہری ہتھیار کی پالیسی کی وجہ سے پاکستان کے تئیں سرد رویہ رکھتے ہیں۔

صدر اوباما کے پہلے صدارتی دور میں امریکہ اور پاکستان کا رشتہ سب سے نچلی سطح پر رہے ہیں۔ امریکہ شدت پسند گروہوں کو پاکستان کے مبینہ تعاون پر اپنے خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین پر ڈرون حملوں، ایک خفیہ آپریشن میں اسامہ بن لادن اور پاکستانی سرحدوں پر نیٹوں حملوں پر ناراض رہا ہے۔

لیکن اوباما کی جیت کا مطلب ہے افغانستان میں مجوزہ ’کھیل کا خاتمہ‘ اور اس کے تحت پاکستان کے تعلق کی ایک واضح صورت سامنے آئے گی۔ پاکستان کی یہ شکایت رہی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی حکمت عملی مبہم رہی ہے اور افغانستان میں قیام امن میں اس کے اہم کردار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

پاکستان کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اوباما کی جیت کا مطلب افغانستان میں امریکی اہداف کے حصول کے لیے پاکستان پر مزید دباؤ ہے۔

میکسیکو اور لاطینی امریکہ

میکسیکو سٹی سے ہمارے نامہ نگار ول گرانٹ لکھتے ہیں کہ میکسیکو میں لوگوں نے اس قدر اطمینان کا سانس لیا جسے محسوس کیا جا سکتا تھا۔ میکسیکو اور اس پورے علاقے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ریپبلکن امریکہ میں رہنے والے لاطینیوں کو نہیں سمجھتے ہیں۔ بہرحال انیس سو پچاس کی دہائی سے لے کر اب تک اوباما کے دور میں بغیر دستاویز کے پناہ گزینوں کو سب سے زیادہ تعداد میں واپس کیا گیا ہے۔

اس کے باوجود لاطینی امریکہ میں یہ عام خیال ہے کہ اوباما کی دوسری مدت امریکہ کے پڑوسیوں کے لیے بہتر رہے گی۔ وہاں یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ وینزویلا کے ساتھ رشتہ ہو یا کیوبا پر تجارتی پابندیاں ہوں یا پھر میکسیکو میں جاری ڈرگ کی پرتششد جنگ پر اوبامہ نے اپنے وعدے کے مطابق کام نہیں کیا ہے۔

افریقہ

جوہنسبرگ سے اینڈریو ہارڈنج لکھتے ہیں: صدر اوباما نے اپنے پہلی صدارتی مدت میں سب صحارا علاقے کا ایک ہی دورہ کیا اور وہ بھی کافی مختصر تو اوباما کے دوسرے دور میں کتنی تبدیلی ہو سکتی ہے؟ یہ سوال پورے انتخابی مہم کے دوران ایک ہی بار سامنے آیا کیونکہ پوری مہم عرب میں جاری بغاوت اور ملکی مسائل پر مرکوز تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پردے کے پیچھے امریکہ کی سفارت کی کافی مانگ رہے گی۔ دوسرے دور میں توجہ مالی کے شمال سے القاعدہ سے منسلک گروہ کے خاتمے پر ہوگا۔ اس میں طاقت کا استعمال ہو یا پھر سفارت کے ذریعے یہ کام ہو۔ اور اس دور میں یہ خیال رکھا جائے گا کہ زمبابوے اور کینیا میں تشدد نہ ہوں جو وہاں کے انتخابات میں ہوئے۔

ابھی تک افریقہ کے لیے کسی عظیم ’اوباما نظریہ‘ کی کوئی امید نہیں ہے اور اس عظیم براعظم کے تنوع اور رنگارنگی کے پیش نظر یہ اچھی بات بھی ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔