مشرقی ریاستوں میں پولنگ ختم، نتائج آنا شروع

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 16:59 GMT 21:59 PST

کانٹے کا مقابلہ

ورجینیا میں علی الصبح ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا

امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں پولنگ کا عمل ختم کے بعد ملکی تاریخ کے سب سے مہنگے اور کڑے صدارتی انتخابی معرکے کے ابتدائی نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔

ان کے مدمقابل مٹ رومنی نے پولنگ کے دن بھی اپنی انتخابی مہم جاری رکھی اور بوسٹن میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد پنسلوینا اور ایک کڑے مقابلے والی ریاست اوہائیو میں ریلی منعقد کی۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اوباما اپنے مدمقابل پر معمولی سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں۔

اس الیکشن میں دس کروڑ سے زائد شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار براک اوباما اور ری پبلکن پارٹی کے امیدوار مٹ رومنی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔

ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی نے میساچوسٹس کے علاقے بیلمونٹ میں اپنا ووٹ ڈالا ہے جبکہ براک اوباما گذشتہ ماہ کی چھبیس تاریخ کو الیکشن کے دن سے قبل ووٹنگ کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے اپنے آبائی شہر شکاگو میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔

کلِک امریکی الیکشن 2012 پر خصوصی ضمیمہ

کلِک اوباما کی زندگی کا خاکہ

کلِک مِٹ رومنی کون ہیں؟

امریکہ میں مشرق سے مغرب تک چار مختلف ٹائم زون ہونے کی وجہ سے مختلف اوقات میں ووٹنگ شروع ہوئی۔ریاست نیوہمپشائر کے ایک گاؤں ڈکس ویلی نوچ میں منگل کو رات گئے بارہ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے دس نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور دونوں امیدواروں کو پانچ پانچ ووٹ ملے۔

باقاعدہ ووٹنگ کا آغاز مشرقی امریکہ میں نیویارک، نیوجرسی، ورجینیا اور نیوہمپشائر سمیت دس ریاستوں میں امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے جبکہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دن گیارہ بجے ہوا۔

تیس فیصد امریکی ووٹرز قبل از وقت ووٹنگ کا حق استعمال کر چکے ہیں

اس کے بعد وقفے وقفے سے مختلف ریاستوں میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے اور سب سے آخر میں ہوائی میں شام پانچ بجے پولنگ شروع ہوئی۔ ووٹنگ کا عمل بارہ گھنٹے تک جاری رہے گا۔

روایتی طور پر گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح تین بجے سے سات بجے تک کے درمیان مجموعی طور پر نتائج آ جاتے ہیں لیکن انتخابی معرکہ سخت ہو تو ان میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ سال دو ہزار کے انتخاب میں ہوا تھا۔

امریکہ میں ارلی ووٹنگ یا الیکشن کے دن سے قبل ووٹنگ بھی ہوئی اور ایک اندازے کے مطابق ملک میں ساڑھے پندرہ کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں میں سے تیس فیصد ووٹرز ووٹنگ کا حق استعمال کر چکے ہیں۔

فیصلہ کن ریاستیں

کئی ریاستوں کا ریکارڈ ہے کہ وہ کسی ایک مخصوص جماعت ہی کو ووٹ دیتی ہیں اور ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدوار ان کے ووٹوں پر انحصار کریں گے۔ اس کے بعد چند ہی ریاستیں رہ جاتی ہیں جہاں پر الیکشن فیصلہ کن ہو گا۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جنہیں انتخاب کا میدان کہا جاتا ہے۔

صدارتی انتخاب کا فیصلہ الیکٹورل کالج کے ذریعے ہوتا ہے۔ ہر ریاست کو اس کی آبادی کے مطابق ووٹ دیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ ریاستوں کی اہمیت دوسری ریاستوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر کیلیفورنیا (آبادی 37.7 ملین) کے پچپن ووٹ ہیں جبکہ مونٹانا جیسی ریاست (آبادی ایک ملین) کے صرف تین ووٹ ہیں۔ جو صدارتی امیدوار ریاست میں جیت جاتا ہے اس کو اس ریاست کے تمام ووٹ مل جاتے ہیں*۔

صدر منتخب ہونے کے لیے دو سو ستر ووٹ درکار ہیں

جماعتوں کے گڑھ دیکھنے کے لیے کلک کریں

انتخابی میدان (161 ووٹ) - ان ریاستوں میں کوئی بھی امیدوار جیت سکتا ہے۔ ان ’عنابی ریاستوں‘ میں خاص طور پر انتخابی مہم پر وقت اور رقم صرف کی جائے گی۔

ریپبلکن جماعت کے گڑھ (191 ووٹ) - ’لال ریاستیں‘ ریپبلکن جماعت کا گڑھ ہیں جو کہ ملک کے جنوب اور وسط مغرب میں واقع ہیں۔ لیکن زیادہ تر ریاستیں دیہی ہیں اور ووٹ بہت کم ہیں۔

ڈیموکریٹ کا گڑھ (186 ووٹ) - ’نیلی ریاستیں‘ شمال مشرق اور مغربی ساحل پر واقع ہیں۔ شہری ریاستیں ہونے کے باعث ان کے ووٹ بھی زیادہ ہیں۔

لوڈ ہو رہا ہے . . .

کولوراڈو، 9 ووٹ

کولوراڈو سطح سمندر سے اوسطاۙ سب سے زیادہ اونچائی پر واقع ریاست ہے جہاں ایک ہزار سے زائد پتھریلی پہاڑی چوٹیاں ایسی ہیں جو دس ہزار فٹ سے بلند ہیں۔

دوسری مغربی ریاستوں کی طرح کولاراڈو میں ہسپانوی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور حالیہ برسوں میں لوگوں کا جھکاؤ ڈیموکریٹس کی جانب رہا ہے۔ جبکہ اس سے قبل یہ ایک مضبوط ریپبلکن ریاست کے طور پر جانی جاتی تھی۔ یہاں سے مسلسل تین انتخابات میں ریپبلکن کے امیدوار کو فتح حاصل ہوئی لیکن 2008 میں ڈیموکریٹس کی جانب سے یہاں سے براک اوباما کامیاب ہوئے۔

لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ یہ ریاست دیموکریٹس کے لیے محفوظ ہے کیوں کہ 2010 کے ایوان نمائندگان کے انتخابات میں ریپبلکن نے دو سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس سال صرف دیگر جماعتوں کے امیداواروں کی جانب سے مقابلے کے سبب ہی ریپبلکنز سینیٹ اور ریاست کے گورنر کی سیٹ نہ جیت سکے۔ ڈیموکریٹ جماعت کے ووٹرز کی بڑی تعداد ڈینور اور بولڈر شہر میں ہے۔ جبکہ ریپبلکنز دیہی کاؤنٹیوں اور کولوراڈو سپرنگ کے علاقے میں حاوی ہیں جہاں سے قدامت پسند مذہبی اور سماجی گروہ ابھرتے ہیں۔

ڈیموگرافکس

  • 70.0%سفید فام
  • 3.8%سیاہ فام
  • 20.7%ہسپانوی
  • 5.4%دیگر

معیشت

  • $56,344 اوسط سالانہ آمدنی
  • 11.2% غربت کی شرح
  • 8.20% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 8.4%
    2000 میں ریپبلکن فاتح
  • 4.7%
    2004 میں ریپبلکن فاتح
  • 8.9%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح
previous next
ریاست پر کلک کریںپروفائل دیکھنے کے لیے

انتخابی میدان

ان ریاستوں میں مقابلہ سخت ہوگا اور کوئی بھی امیدوار جیت سکتا ہے۔یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں انتخاب کا فیصلہ ہوگا

واپس جائیں

کولوراڈو، 9 ووٹ

کولوراڈو سطح سمندر سے اوسطاۙ سب سے زیادہ اونچائی پر واقع ریاست ہے جہاں ایک ہزار سے زائد پتھریلی پہاڑی چوٹیاں ایسی ہیں جو دس ہزار فٹ سے بلند ہیں۔

دوسری مغربی ریاستوں کی طرح کولاراڈو میں ہسپانوی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور حالیہ برسوں میں لوگوں کا جھکاؤ ڈیموکریٹس کی جانب رہا ہے۔ جبکہ اس سے قبل یہ ایک مضبوط ریپبلکن ریاست کے طور پر جانی جاتی تھی۔ یہاں سے مسلسل تین انتخابات میں ریپبلکن کے امیدوار کو فتح حاصل ہوئی لیکن 2008 میں ڈیموکریٹس کی جانب سے یہاں سے براک اوباما کامیاب ہوئے۔

لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ یہ ریاست دیموکریٹس کے لیے محفوظ ہے کیوں کہ 2010 کے ایوان نمائندگان کے انتخابات میں ریپبلکن نے دو سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس سال صرف دیگر جماعتوں کے امیداواروں کی جانب سے مقابلے کے سبب ہی ریپبلکنز سینیٹ اور ریاست کے گورنر کی سیٹ نہ جیت سکے۔ ڈیموکریٹ جماعت کے ووٹرز کی بڑی تعداد ڈینور اور بولڈر شہر میں ہے۔ جبکہ ریپبلکنز دیہی کاؤنٹیوں اور کولوراڈو سپرنگ کے علاقے میں حاوی ہیں جہاں سے قدامت پسند مذہبی اور سماجی گروہ ابھرتے ہیں۔

ڈیموگرافکس

  • 70.0%سفید فام
  • 3.8%سیاہ فام
  • 20.7%ہسپانوی
  • 5.4%دیگر

معیشت

  • $56,344 اوسط سالانہ آمدنی
  • 11.2% غربت کی شرح
  • 8.20% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 8.4%
    2000 میں ریپبلکن فاتح
  • 4.7%
    2004 میں ریپبلکن فاتح
  • 8.9%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

فلوریڈا، 29 ووٹ

فلوریڈا کی ریاست جسے ’سن شائن سٹیٹ‘ بھی کہتے ہیں اپنے ساحلوں اور سیاحتی مقامات جیسا کہ ڈزنی ورلڈ کے لیے مشہور ہے۔

فلوریڈا نے صدارتی انتخاب میں 1996 سے اب تک ہمیشہ جیتنے والے کو ووٹ دیا ہے۔ 2000 میں جارج ڈبلیو بش اور ال گور کے درمیان مقابلہ اتنا سخت تھا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک متنازع حکم کے نتیجے میں یہ مطالبہ ختم ہوا۔

اس ریاست میں اعداد و شمار کے مطابق بہت تنوع پایا جاتا ہے۔ شمال میں سفید فام پروٹیسٹنٹ اور جنوب میں کیوبن نژاد امریکیوں کا جھکاؤ ریپبلکن جماعت کی جانب ہے۔ جبکہ شہری علاقوں میامی اور ٹامپا کے ووٹروں، پام بیچ میں ریٹائرڈ یہودیوں اور کیوبا سے تعلق نہ رکھنے والے ہسپانویوں کا جھکاؤ ڈیموکریٹ جماعت کی جانب ہے۔ ہسپانویوں کے لیے امیگریشن ایک اہم مسئلہ ہے اور ریٹائرڈ یہودی افراد کے لیے اسرائیل اور صحت کی سہولیات۔ ایک ایسی ریاست میں جو ہاؤسنگ مارکیٹ میں مندی سے بہت متاثر ہوئی تھی، بہت سے لوگوں کے لیے اب بھی معیشت کا مسئلہ اہم ہوگا۔

ڈیموگرافکس

  • 57.9%سفید فام
  • 15.2%سیاہ فام
  • 22.5%ہسپانوی
  • 4.3%دیگر

معیشت

  • $47,051 اوسط سالانہ آمدنی
  • 13.1% غربت کی شرح
  • 8.8% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 0.0%
    2000 میں ریپبلکن فاتح
  • 5.0%
    2004 میں ریپبلکن فاتح
  • 2.8%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

آئیوا، 6 ووٹ

آئیوا ریاست کا نام امریکی انڈین فبیلے کے آئیوے افراد کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس ریاست کو ’ہاک آئی سٹیٹ‘ کا نام دے کر اس قبیلے کے لیڈر چیف بلیک ہاک کو خراج پیش کیا گیا ہے۔

سن دو ہزار دو اور دو ہزار چار میں آئیوا ریاست کا جھکاؤ کبھی ریپبلکنز اور کبھی ڈیموکریٹس کی جانب رہا لیکن 2008 میں براک اوباما کو یہاں سے بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔

مغرب میں واقع کشادہ فارم لینڈ جو کہ آئیوا کی مکئی کی مشہور فصلوں کا گھر ہیں ریپبلکنز کے حق میں ہیں۔ جبکہ ریاست کے وسط اور مشرق میں واقع شہر جن میں ریاستی دارالحکومت دس موئنز اور کالج ٹاؤن آئیوا سٹی شامل ہیں ڈیموکریٹس کے علاقے ہیں۔ آئیوا کے لیے زراعت کی اہمیت، سور کے کئی فارم اور مکئی لابی کا مطلب ہے کہ کسانوں کے لیے مراعات یہاں پر مقبولیت کا باعث ہیں۔

ڈیموگرافکس

  • 88.7%سفید فام
  • 2.9%سیاہ فام
  • 5.0%ہسپانوی
  • 3.5%دیگر

معیشت

  • $48,457 اوسط سالانہ آمدنی
  • 12.4% غربت کی شرح
  • 5.4% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 0.3%
    2000 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 0.7%
    2004 میں ریپبلکن فاتح
  • 9.5%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

مشی گن، 16 ووٹ

مشی گن کو ’گریٹ لیک سٹیٹ‘ بھی کہتے ہیں۔ مشی گن امریکی گاڑیوں کی انڈسٹری کا گھر ہے۔

اگرچہ ریاست مشی گن 1992 کے بعد سے ہر صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹس کے حصہ میں رہی ہے۔ 2000 اور 2004 میں یہاں جارج ڈبلیو بش بہت ہی کم فرق سے ناکام ہوئے تھے۔ یہاں ہونے والے ریاستی انتخابات میں ریپبلیکنز کی کامیابیوں کی ایک تاریخ ہے۔

مشی گن کی ریاست ’رسٹ بیلٹ‘ میں آتی ہے جو کہ ایک دور میں ملک میں مینوفیکچرنگ کا گڑھ تھی لیکن 1980 میں بھاری انڈسٹری کے زوال کے باعث یہاں بیروزگاری میں سنگین نوعیت کا اضافہ ہوا۔ مشی گن میں ایک بڑا مسئلہ معیشت ہوگا۔ خاص طور پر 2009 میں گاڑیاں بنانے والی تین بڑی کمپنیوں میں سے دو کو حکومت کی جانب سے قرضہ دیے جانے کا فیصلہ بھی زیر بحث رہے گا۔ اس اقدام کی کئی ریپبلیکنز نے یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ یہ حکومت کی جانب سے مداخلت کی ایک مثال ہے۔

ڈیموگرافکس

  • 76.6%سفید فام
  • 14.0%سیاہ فام
  • 4.4%ہسپانوی
  • 4.9%دیگر

معیشت

  • $47,461 اوسط سالانہ آمدنی
  • 14.1% غربت کی شرح
  • 9.4% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 5.1%
    2000 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 3.4%
    2004 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 16.5%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

مِنیسوٹا، 10 ووٹ

مِنیسوٹا کا موٹو ہے ’سٹار آف دی نارتھ‘ یا شمال کا ستارہ۔ یہ امریکہ میں سکینڈینیوین ثقافت کا مرکز ہے جہاں سویڈش اور نارویجیئن ورثہ بہت مضبوط ہے۔

مِنیسوٹا کے عوام نے 1972 سے ہمیشہ ڈیموکریٹ جماعت کے صدارتی امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ یہاں تک کہ 1984 میں جب ہر ریاست نے دونلڈ ریگن کو ووٹ دیا تب بھی۔ لیکن 2000 اور 2004 میں جارج ڈبلیو بش کو بہت ہی کم فرق سے یہاں شکست ہوئی۔ ریاستی انتخابات میں ریپبلکنز بڑا سخت مقابلہ ثابت ہوتے ہیں یہاں تک کہ 2006 میں گورنر کی سیٹ جیتنے میں کامیاب بھی ہوئے اور 2010 میں صرف دس ہزار سے کم ووٹوں کے فرق سے انہیں شکست ہوئی۔

ملک کے دوسرے حصوں کی طرح مِنیسوٹا میں بھی نوکریاں اور معیشت ایک بڑا سیاسی مسئلہ ہوں گے خاص طور پر صنعتی شہروں مِنیاپولس ، سینٹ پال اور ڈلچ میں۔ لیکن مِنیسوٹا نے ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں ہمیشہ مختلف صورتحال رہی ہے اور یہاں باقاعدگی سے کسی تیسری پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں۔

ڈیموگرافکس

  • 83.1%سفید فام
  • 5.1%سیاہ فام
  • 4.7%ہسپانوی
  • 6.9%دیگر

معیشت

  • $56,704 اوسط سالانہ آمدنی
  • 10.6% غربت کی شرح
  • 5.9% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 2.4%
    2000 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 3.5%
    2004 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 10.2%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

نوادا، 6 ووٹ

نوادا کو اپنی چاندی کی وسیع صنعت کے باعث ’سِلور سٹیٹ‘ یا چاندی کی ریاست کہا جاتا ہے۔ نواڈا کا مقبول ترین شہر لاس ویگاس ہے۔

نوادا کے عوام نے 1980 سے اب تک ہر مرتبہ کامیاب ہونے والے صدارتی امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ 2008 میں براک اوباما یہاں سے بڑی آسانی سے کامیاب ہوگئے تھے اور ڈیموکریٹس 2012 میں دوبارہ ایسا کرنے کے لیے پرامید ہوں گے۔ اس ریاست میں ہسپانوی آبادی بہت زیادہ ہے اور وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے جس کے باعث یہاں امیگریشن کا مسئلہ اہم ہے۔

ریاست نوادا 2008 میں آنے والے معاشی بحران سے بہت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ 2010 میں یہاں بیروزگاری 15 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ معیشت کی صورتحال انتخابات میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔ لاس ویگاس اور رینو میں ڈیموکریٹ حاوی ہیں اور ویگاس کے گردو نواح اور ریاست کے باقی حصوں میں ریپبلکن مقبول ہیں۔

ڈیموگرافکس

  • 54.1%سفید فام
  • 7.7%سیاہ فام
  • 26.5%ہسپانوی
  • 11.5%دیگر

معیشت

  • $55,322 اوسط سالانہ آمدنی
  • 9.4% غربت کی شرح
  • 12.1% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 3.5%
    2000 میں ریپبلکن فاتح
  • 2.6%
    2004 میں ریپبلکن فاتح
  • 12.5%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

نیو ہیمپشائر، 4 ووٹ

اس ریاست کو اس کی بہت زیادہ پتھر کی کانوں کی وجہ سے گرینائٹ سٹیٹ کہا جاتا ہے اور اس کا ریاستی نشان بھی پہاڑوں پر بوڑھے آدمی کی شکل جیسی ترتیب ہے۔ اگرچہ یہ پتھر 2003 میں گر گئے تھے لیکن پھر بھی اسے ریاستی نشان ہی سمجھا جاتا ہے

نیو ہمپشائر ایک ایسی لبرل ریاست ہے جس میں کئی سالوں سے ریپبلیکنز کو ووٹ دینے کا حیرت انگیز رجحان ہے۔ اگرچہ براک اوباما نے نیو ہمپشائر سے بہت زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے لیکن صدر بش یہاں 2000 میں جیتے تھے اور 2010 کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز نے وہاں سے سینیٹ اور کانگریس کی ڈسٹرکٹس سیٹیں حاصل کی تھیں۔ ریپبلیکنز پارٹی کے امیدوار مٹ رومنی ہمسایہ ریاست مساچوسیٹس کا گورنر ہونے کی وجہ سے یہ ریاست دوبارہ ریپبلکنز کے لیے جیت سکتے ہیں۔

اس ریاست کو ’ملک میں سب سے پہلے‘ پرائمری کروانے کی وجہ سے اپنے اوپر بہت فخر ہے۔ یہاں ووٹر مقامی تقاریب میں صدارتی امیدوار کا ذاتی طور پر جائزہ لینا پسند کرتے ہیں۔ یہاں ہمیشہ سے آزاد اور حکومت مخالف رویہ رہا ہے اور یہاں کے کم ریاستی ٹیکس کی وجہ سے بہت سے کامیاب تاجر یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔

ڈیموگرافکس

  • 92.3%سفید فام
  • 1.0%سیاہ فام
  • 2.8%ہسپانوی
  • 3.7%دیگر

معیشت

  • $62,629 اوسط سالانہ آمدنی
  • 8.7% غربت کی شرح
  • 5.7% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 1.3%
    2000 میں ریپبلکن فاتح
  • 1.4%
    2004 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 9.6%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

نیو میکسیکو، 5 ووٹ

سورج کے لیے مقامی امریکی علامت ’دی زیا‘ ریاست کے جھنڈے پر موجود ہے۔ امریکہ میں تناسب کے حساب سے قدیم امریکیوں کی دوسری بڑی آبادی ریاست نیو میکسیکو میں آباد ہے۔

2002 اور 2004 میں نیو میکسیکو میں کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ 2002 میں ایل گور صرف 366 ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے۔ جبکہ 2004 میں صدر بش 6,000 ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے۔ لیکن 2008 میں براک اوباما 15 فیصد کے فرق سے جیتے۔ 2010 میں ریپبلکنز نے گورنر کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی لیکن پولز کے مطابق 2012 میں ڈیموکریٹ کی کارکردگی بہتر رہے گی۔

اس ریاست کے مختلف علاقوں میں مختلف جماعتیں حاوی ہیں اور اس طرح یہ سیاسی طور پر منقسم ہے۔ شمال کے شہروں میں ڈیموکریٹ جماعت مضبوط ہے جبکہ جنوب مشرق میں ٹیکساس کے سرحد سے ملحقہ علاقے میں ریپبلکن حاوی ہیں۔ نیو میکسیکو کی لاطینی آبادی نے 2008 میں براک اوباما کا ساتھ دیا جبکہ وہ امیگریشن کے قانون میں اصلاحات لانے میں ناکام رہے ہیں۔ زیادہ ترلاطینی آبادی امیگریشن کے معاملے پر ریپبلیکنز کے موقف سے اتفاق نہیں کرتی۔

ڈیموگرافکس

  • 40.5%سفید فام
  • 1.7%سیاہ فام
  • 46.3%ہسپانوی
  • 11.3%دیگر

معیشت

  • $42,737 اوسط سالانہ آمدنی
  • 16.2% غربت کی شرح
  • 6.5% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 0.1%
    2000 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 0.8%
    2004 میں ریپبلکن فاتح
  • 15.1%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

شمالی کیرولینا، 15 ووٹ

شمالی کیرولینا ہی وہ ریاست ہے جہاں 1903 میں رائٹ برادرز نے کِٹی ہاک کے مقام پر اپنی پہلی اڑان بھری تھی۔

شمالی کیرولینا کئی سالوں سے ریپبلکنز کا گڑھ تھا لیکن 2008 میں براک اوباما نے بہت ہی کم فرق سے یہاں سے جیت کر ڈیموکریٹس کو کامیابی دلوائی۔ گزشتہ دہائیوں میں سماجی اعداد و شمار میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی 2008 میں براک اوباما کی کامیابی کی وجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

ملک کے جنوب میں شمالی کیرولینا ایک ایسی ریاست ہے جہاں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ ریاست میں بڑھتی ہوئی ہسپانوی آبادی اور پہلے سے آباد سیاہ فام افراد کی ایک بڑی تعداد کے باعث ڈیموکریٹس کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈیموگرافکس

  • 65.3%سفید فام
  • 21.2%سیاہ فام
  • 8.4%ہسپانوی
  • 5.0%دیگر

معیشت

  • $45,131 اوسط سالانہ آمدنی
  • 15.1% غربت کی شرح
  • 9.7% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 12.8%
    2000 میں ریپبلکن فاتح
  • 12.4%
    2004 میں ریپبلکن فاتح
  • 0.3%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

اوہایو، 18 ووٹ

سابقہ سات صدور کا تعلق اس ریاست سے تھا اس لیے اسے بعض اوقات ’ماڈرن مدر آف پریزیڈینٹس‘ یا صدور کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ اس ریاست کا مقبول ترین فرد تھامس ایڈیسن ہے جنہوں نے لائٹ بلب ایجاد کیا تھا۔

اس ریاست نے 1960 سے اب تک ہارنے والے کسی امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔ اس لیے 2012 میں تمام نظریں اس ریاست پر ہوں گی یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا براک اوباما گزشتہ انتخاب میں کم ووٹوں کے فرق سے حاصل کی گئی اپنی برتری قائم رکھ سکیں گے یا نہیں۔ جبکہ 2010 میں یہاں سے گورنر اور سینیٹ کی سیٹیں جیتنے کے بعد ریپبلکن الیکٹورل کالج کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے پرامید ہوں گے۔

اپنے ہمسایوں مشی گن اور پینسلوینیا کی طرح اوہایو بھی کسی دور میں ایک صنعتی ریاست تھی جو اب پستی کا شکار ہے۔ آج بھی یہ ریاست پراکٹر اینڈ گیمبل اور فائرسٹون ٹائرز جیسی عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کا گھر ہے۔ 2007-2009 کے مالی بحران سے یہ ریاست بری طرح متاثر ہوئی تھی اس لیے انتخاب کے دن ووٹ دیتے وقت ووٹروں کے ذہنوں پر معیشت کی صورتحال حاوی ہوگی۔

ڈیموگرافکس

  • 81.1%سفید فام
  • 12.0%سیاہ فام
  • 3.1%ہسپانوی
  • 3.7%دیگر

معیشت

  • $46,838 اوسط سالانہ آمدنی
  • 14.5% غربت کی شرح
  • 7.2% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 3.5%
    2000 میں ریپبلکن فاتح
  • 2.1%
    2004 میں ریپبلکن فاتح
  • 4.6%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

پینسلوینیا، 20 ووٹ

پینسلوینیا کو ’کی سٹون سٹیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں ’ڈیکلیریشن آف انڈیپینڈینس‘ پر دستخط ہوئے تھے اور لبرٹی بیل یا آزادی کی گھنٹی بھی اسی ریاست میں ہے۔

پینسلوینیا نے 1992 سے تمام انتخابات میں ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا ہے لیکن 2000 اور 2004 میں یہاں مقابلہ بہت سخت رہا اور2010 میں ریپبلکنز نے سینیٹ اور گورنز کی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ ریپبلکنز ایک مرتبہ پھر یہاں سخت مقابلے کے لیے بہت پرامید ہیں۔

ڈیموکریٹ جماعت کے سیاسی مشیر جیمز کارویل نے پینسلوینیا کے بارے میں کہا تھا کہ ’فلاڈیلفیا اور پیٹسبرگ اور الاباما درمیان میں‘ جو کہ ریاست کے سیاسی جغرافیے کی وضاحت کرتا ہے۔ مشرق اور مغرب کے صنعتی شہروں میں ڈیموکریٹ حاوی ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں ریپبلیکنز کی کاکردگی بہتر ہوتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں معاشی بحران سے پینسلوینیا کے تمام علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ اس لیے نومبر میں ہونے والی صدارتی دوڑ میں لوگوں کے مالی خدشات اہم کردار ادا کریں گے۔

ڈیموگرافکس

  • 79.5%سفید فام
  • 10.4%سیاہ فام
  • 5.7%ہسپانوی
  • 4.2%دیگر

معیشت

  • $50,028 اوسط سالانہ آمدنی
  • 13.2% غربت کی شرح
  • 8.1% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 4.2%
    2000 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 2.5%
    2004 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 10.3%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

ورجینیا، 13 ووٹ

کئی امریکی صدور کا تعلق ورجینیا سے تھا اس لیے اسے بعض اوقات ’مدر آف پریزیڈینٹس‘ یا صدور کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔ ان صدور میں تھامس جیفیرسن شامل تھے جن کی آبائی اراضی مونٹیسیلو ایک قومی اثاثہ ہے۔

جنوب کے زیادہ تر علاقوں کی طرح ورجینیا خانہ جنگی کے اختتام کے بعد سے ڈیموکریٹ جماعت کا گڑھ تھا۔ لیکن 1960 میں ڈیموکریٹس کی شہری حقوق میں اصلاحات سے ناخوش ہو کر یہ ریپبلیکنز کا گڑھ بن گیا۔

لیکن حال ہی میں واشنگٹن کے گردو و نواح میں آبادی کے اضافے اور بڑھتی ہوئی ہسپانوی آبادی سے ڈیموکریٹس کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ ریاست میں سیاہ فام افراد کی ایک بڑی آبادی بھی ہے۔ 2008 میں یہاں سے براک اوباما کامیاب ہوئے تھے جوکہ 1964 کے بعد سے کسی ڈیموکریٹ کی پہلی کامیابی تھی۔ ریاست کے دونوں سینیٹروں کا تعلق ڈیموکریٹ جماعت سے ہے۔ لیکن 2009 کے آخر میں ریپبلکن گورنر کی سیٹ واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور وہ نومبر میں ہونے والے انتخاب میں سخت مقابلے کے لیے پرامید ہوں گے۔

ڈیموگرافکس

  • 64.8%سفید فام
  • 19.0%سیاہ فام
  • 7.9%ہسپانوی
  • 8.2%دیگر

معیشت

  • $60,539 اوسط سالانہ آمدنی
  • 10.4% غربت کی شرح
  • 5.9% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 8.0%
    2000 میں ریپبلکن فاتح
  • 8.2%
    2004 میں ریپبلکن فاتح
  • 6.3%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

وسکونسن، 10 ووٹ

وسکونسن کو ’بیڈجر سٹیٹ‘ کہا جاتا ہے کیوں کہ بجو نامی یہ جانور نہ صرف ریاست کی مہر اور اس کے پرچم پر بھی موجود ہے بلکہ اس کا ذکر سرکاری نغمے میں بھی ہے۔

ڈیموکریٹس نے وسکونسن میں 1988 سے اب تک ہر صدارتی انتخابت میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن 2000 اور 2004 میں ریپبلکن بہت کم فرق سے ہارے تھے اور 2010 میں سینیٹ اور گورنر کی سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

براک اوباما 2008 میں حاصل کردہ برتری کو قائم رکھنے کے لیے پرامید ہوں گے جس میں ان کو ریاست کی یونینوں کی تحریک کی مدد حاصل ہوگی۔ ریاست کی مختلف یونین نئے ریپبلیکن گورنر سکاٹ والکرز کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ سکاٹ والکرز نے مزدوروں کی اپنے حقوق کے لیے مجموعی کوششوں کو محدود کرنے کے لیے قانون متعارف کروانے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور گورنر کے الیکشن دوبارہ کروانے کی کوشش بھی کامیاب ہوئی۔

ڈیموگرافکس

  • 83.3%سفید فام
  • 6.2%سیاہ فام
  • 5.9%ہسپانوی
  • 4.6%دیگر

معیشت

  • $51,257 اوسط سالانہ آمدنی
  • 11,5% غربت کی شرح
  • 7.5% بےروزگاری کی شرح

پچھلے انتخابات میں مقابلہ کتنا سخت تھا؟

  • 0.2%
    2000 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 0.4%
    2004 میں ڈیموکریٹ فاتح
  • 13.9%
    2008 میں ڈیموکریٹ فاتح

٭نبراسکا اور مین کے سوا جہاں ووٹ کانگریشنل ڈسٹرکٹس اور ریاست میں جیتنی بنیاد پر ووٹ تقسیم ہوتے ہیں

فیصلہ الیکٹورل ووٹ سے

امریکہ میں عوام براہِ راست اپنا صدر منتخب نہیں کرتے

امریکہ میں صدر منتخب ہونے کے لیے دو سو ستر الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں اور صدارتی انتخاب کا فیصلہ الیکٹورل کالج کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخاب میں صدر اوباما نے کل پانچ سو اڑتیس میں سے تین سو پینسٹھ الیکٹورل کالج ووٹوں سے فتح حاصل کی تھی جب کہ ان کے مدِمقابل ری پبلکن جماعت کے امیدوار جان مکین نے ایک سو تہتر ووٹ حاصل کیے تھے۔

امریکہ میں عوام براہِ راست اپنا صدر منتخب نہیں کرتے بلکہ انتخاب کنندگان کی ایک جماعت مِل کر یہ کام کرتی ہے جِسے الیکٹورل کالج کہا جاتا ہے۔

ہر ریاست کو اس کی آبادی کے مطابق ووٹ دیے جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ تمام امریکی ریاستیں آبادی کے لحاظ سے مساوی نہیں ہیں۔ کوئی ریاست کروڑوں کی آبادی رکھتی ہے اور کوئی محض چند لاکھ کی۔ چنانچہ ایوانِ نمائندگان میں کسی ریاست سے صرف چار نمائندے جاتے ہیں اور کسی ریاست سے پچاس نمائندے۔

مثال کے طور پر کیلیفورنیا (آبادی 37.7 ملین) کے پچپن الیکٹورل کالج ووٹ ہیں جبکہ مونٹانا جیسی ریاست کے جس کی آبادی دس لاکھ ہے صرف تین ووٹ ہیں۔ جو صدارتی امیدوار ریاست میں جیت جاتا ہے اس کو اس ریاست کے تمام ووٹ مل جاتے ہیں تاہم میئن اور نبراسکا کی ریاستوں میں الیکٹورل کالج کے ووٹ عام شہریوں کی جانب سے دیے گئے ووٹوں کے تناسب سے بانٹے جاتے ہیں۔

صورتِحال میں توازن پیدا کرنے کے لیے امریکی سینیٹ میں ہر ریاست کی مساوی نمائندگی رکھی گئی ہے یعنی ریاست چھوٹی ہو یا بڑی، اس کے دو نمائندے سینیٹ میں جائیں گے۔گویا پچاس ریاستوں کے کُل ایک سو سینیٹر ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس ایوانِ نمائندگان میں محض آبادی کے تناسب سے نیابتی حلقے مقرر ہوتے ہیں۔ مثلاً کیلیفورنیا جیسی بڑی ریاست میں 53 نیابتی حلقے ہیں تو وہاں سے 53 ارکان اپنی ریاست کی نمائندگی وفاق میں کرتے ہیں لیکن کنسِاس جیسی چھوٹی ریاست میں صرف 4 نیابتی حلقے ہیں تو وہاں سے صرف 4 ارکان وفاق میں نمائندگی کے اہل ہیں۔

ووٹنگ کا عمل:تصاویر

  • امریکہ میں کروڑوں افراد ڈیموکریٹ امیدوار براک اوباما کو دوبارہ صدر منتخب کرنے یا ان کے حریف ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی کو کرسیِ صدارت سنبھالنے کا موقع دینے کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔
  • صدر اوباما
    دونوں امیدواروں نے دن کے وقت اپنے ہمایتیوں سے ملاقاتیں کیں اور ووٹ کے لیے اپیل کی۔ اوہایو میں ایک ریلی کے دوران معیشت کی مایوس کن صورتحال کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی ہمارا کام مکمل نہیں ہوا‘۔
  • امریکہ میں 2012 کے صدارتی انتخاب میں منگل کو دس کروڑ سے زائد شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے نئے صدر کا انتخاب کریں گے۔
  • اس الیکشن میں موجودہ صدر اور ڈیموکریٹ امیدوار براک اوباما اور ان کے حریف ری پبلکن مٹ رومنی مدِ مقابل ہیں
  • امریکہ میں مشرق سے مغرب تک چار مختلف ٹائم زون ہونے کی وجہ سے مختلف اوقات میں ووٹنگ شروع ہوئی
  • امریکہ میں عام ووٹنگ تو منگل کی صبح شروع ہوئی لیکن نیوہمپشائر کے ایک گاؤں ڈکس ویلی نوچ میں رات گئے بارہ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے دس نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا
  • نیو ہمپشائر کے اس گاؤں میں دونوں امیدواروں کو پانچ پانچ ووٹ ملے
  • باقاعدہ ووٹنگ کا آغاز مشرقی امریکہ میں نیویارک، نیوجرسی، ورجینیا اور نیوہمپشائر سمیت دس ریاستوں میں امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے ہوا
  • امریکی شہری جوش و جذبے سے اپنے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ دینے آئے
  • عوامی جائزوں کے مطابق اوباما عورتوں، سیا فاموں، اقلیتوں اور نوجوانوں میں جبکہ مٹ رومنی سفید فام، معمر اور مذہبی لوگوں میں زیادہ مقبول ہیں۔
  • اس الیکشن میں صدر کے انتخاب کے علاوہ ریاستی سطح پر مختلف معاملات کے تعین کے لیے بھی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں
  • ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ میساچوسٹس کے علاقے بیلمونٹ میں اپنا ووٹ ڈالا
  • سمندری طوفان سے متاثرہ نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ ووٹ ڈالنے کے بعد
  • ری پبلکن پارٹی کے نائب صدر کے امیدوار پال رائن اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ حقِ رائے دہی استعمال کرنے پہنچے
  • امریکہ میں الیکشن کے دن تعطیل نہیں ہوتی اور لوگ روزمرہ کے امور کی انجام دہی کے دوران وقت نکال کر ووٹ ڈالتے ہیں
  • دن گزرنے کے ساتھ ووٹنگ مراکز پر عوام کی قطاریں دیکھی گئیں

اوباما اور رومنی کی زندگیاں

  • جب ان دونوں کو علم بھی نہیں تھا کہ ’وائٹ ہاؤس‘ کیا ہے؟ یہ ہیں ننھے براک ہوائی میں اپنی والدہ ماہرِ بشریات این ڈنہم کے ساتھ ہیں۔ جبکہ ننھے مِٹ کو ان کے والد جارج رومنی نے اٹھا رکھا ہے جو امریکین موٹرز کے سربرا اور مِشیگن کے گورنر بھی بنے۔
  • اس سے زیادہ امریکی ہونے کا ثبوت کیا ہوگا، اوباما ہوائی میں بیس بال کا بلا گھما رہے ہیں ادھر چھ برس کے رومنی ڈیٹرائٹ میں ضرب لگانے کو تیار ہیں۔
  • رومنی اپنے والد سے زیادہ قریب تھے، ان کی یہ تصویر نیویارک میں ورلڈ فیئر کے موقع پر لی گئی اس کے فوراً بعد جارج رومنی مشیگن کے گورنر بنے۔ براک اوباما کے والد کینیا کے ماہر اقتصادیات تھے، لیکن وہ باراک کی زندگی سے زیادہ تر دور ہی رہے۔ ہوائی کے دورے پر لی گئی اس نایاب تصویر میں دونوں ایک ساتھ ہیں۔
  • رومنی اور این ڈیوس ایک دوسرے کو سکول کے زمانے سے جانتے تھے۔ ادھر ہارورڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک لاء فرم میں اوباما کی ملاقات مشعل رابنسن سے ہوئی۔
  • دو سال فرانس میں گزار کر جب رومنی لوٹے تو انہوں نے این سے شادی کر لی۔ جبکہ اوباما اور مشعل کی شادی انیس سو بانوے میں شکاگو میں ہوئی۔
  • رومنی ’بین کیپیٹل‘ نامی کمپنی میں مینجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے۔ انہوں نے سینیٹ کے انتخاب کے لیے انیس سو چورانوے میں حصہ لیا تاہم ٹیڈ کینیڈی سے ہار گئے۔ اوباما نے انیس سو بانوے میں یونیورسٹی آف شکاگو سکول لا میں کام کے دوران ووٹر رجسٹریشن میں حصہ لیا۔
  • دونوں صدارتی امیدواروں کے لیے خاندان بہت اہم ہے۔ رومنی کے پانچ بیٹے ہیں جو اب بڑے ہو چکے ہیں۔ مٹ رومنی کے ان کے اٹھارہ پوتے پوتیاں ہیں۔
  • اوباما کی زندگی بحیثیت صدر بہت مصروف ہے لیکن وہ رات کا کھانا اپنی اہلیہ مشعل اور بیٹیوں ساشا اور مالیا کے ساتھ کھانا پسند کرتے ہیں۔ تیس برس قبل امریکہ کے صدر بننے والے جمی کارٹر کے بعد وہ پہلے صدر ہیں جو کم سن بچوں کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں۔
  • دو ہزار دو کے سرما کے اولمپکس کے بعد رومنی کے لیے حالات بدلے اور وہ میساچوسٹس کے گورنر بنے۔ دو ہزار چار میں اوباما ڈیمو کریٹ نیشنل کنونشن کے لیے اپنی تقریر تیار کر رہے ہیں، اس تقریر نے انہیں قومی سطح پر متعارف کروایا۔
  • دونوں ہی چاق و چوبند رہنا پسند کرتے ہیں۔ اوباما کو باسکٹ بال کھیلنا پسند ہے اور وہ اس میں کافی ماہر ہیں۔ جبکہ رومنی بھی اسی کھیل کے ماہر ہیں تاہم وہ دوسرے کھیلوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
  • رومنی کو آزاد فضا اور کھلا پانی پسند ہے، یہاں وہ نیو ہیمپشائر میں ایک جھیل میں تیرا رہے ہیں۔صدور اور گولف کا رشتہ، اوباما بھی یہ کھیل کھیلتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میں کچھ خاص اچھے نہیں ہیں، انہیں صرف اس کے دوران کھلی فضا میں رہنا پسند ہے۔
  • اس انتخابی مہم کے دوران دونوں کی بیویوں کو اہم مقام حاصل رہا، دونوں نے ہی اپنے شہوروں کے لیے تقریبات میں تقاریر کیں۔ خاتونِ اوّل مشعل اوباما نے بچوں کی صحت کے حوالے سے مہم چلائی جبکہ رومنی کی بیگم نے اعصابی بیماریوں اور چھاتی کے کینسر کے باعث اپنی مشکلات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بچوں کے کئی خیراتی اداروں کے ساتھ کام کیا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔