BBC navigation

کانٹےدارمقابلہ، فیصلہ کن ریاستوں کےطوفانی دورے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 13:06 GMT 18:06 PST

دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ اتنا سخت ہے کہ ابھی کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔

امريکي صدر براک اوباما اور ان کے ری پبلکن حريف مٹ رومنی انتخابی معرکے کے آخري مراحل میں ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کي غرض سے فيصلہ کن رياستوں کے طوفاني دورے کر رہے ہیں۔

صدر براک اوباما اور ان کے ري پبلکن حريف مٹ رومنی ان ریاستوں کا دورہ کر رہے جہاں انتخابی دوڑ سخت ترین ہے اور چند ووٹوں کا فرق ملکی سطح پر فتح یا شکست کا باعث بن سکتا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دونوں کے درمیان مقابلہ اتنا سخت ہے کہ انتخابات کے حتمی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔

ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی آئیووا، اوہائیو، پین سلوینیا اور ورجینیا میں مہم چلا رہے ہیں، جب کہ براک اوباما نے نیو ہمپیشائر، فلوریڈا، اوہایو اور کولوراڈو کا رخ کیا ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن ایک بار پھر صدر اوباما کی حمایت میں نکل آئے ہیں اور صدر اوباما کے ہمراہ انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

نیو ہمپشائر میں ریلی سے خطاب میں براک اوباما نے کہا کہ ’ہم اتنا آگے بڑھ آئے ہیں کہ اب واپس لوٹنے کا امکان ہی نہیں رہا‘۔ ادھر مٹ رومنی نے اوہایو میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم امریکی ہیں اور کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘.

دونوں امیدواروں نے انتخابی مہم کے آخری دنوں میں اہم ’ڈانواں ڈول‘ ریاستوں (سوئنگ سٹیٹس) میں بڑے جلسوں سے خطاب کیا۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں روایتی طور پر کسی بھی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہے۔

اے بی سی اور واشنگٹن پوسٹ کے مشترکہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں امیدواروں کو اڑتالیس اڑتالیس فیصد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہے۔

متذبذب ووٹروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے روزانہ متعدد اہم اور فاتح گر ریاستوں کے دوروں کے باعث صدر اوباما اور مٹ رومنی دونوں پر تھکاوٹ کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔

سابق صدر بل کلنٹن بھی اوباما کی مدد کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں، اور ان پر بھی تھکان کے آثار نمایاں ہیں۔ انھوں نے ورجینیا میں ایک جلسے سے بیٹھی ہوئی آواز میں مخاطب ہو کر کہا: ’میں نے اپنی آواز اپنے صدر کی خاطر قربان کر دی ہے۔‘

صدر اوباما نے ورجینیا کے شہر برسٹوو میں چوبیس ہزار لوگوں کے مجمع کو بتایا کہ اب انتخابی مہم کی منصوبہ بندی کا وقت ختم ہو گیا ہے:

"اب طاقت ہمارے پاس نہیں رہی، اب منصوبہ بندی وغیرہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب سب کچھ آپ پر اور رضاکاروں پر منحصر ہے۔ جمہوریت کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔"

صدر اوباما

’اب طاقت ہمارے پاس نہیں رہی، اب منصوبہ بندی وغیرہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب سب کچھ آپ پر اور رضاکاروں پر منحصر ہے۔ جمہوریت کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘

صدر اوباما نے لوگوں سے کہا کہ وہ مٹ رومنی کو موقع نہ دیں کہ وہ امریکہ کو دوبارہ ایک ایسے دور کی طرف لے جائیں جب وال سٹریٹ جو جی چاہے کرتی تھی۔

دوسری طرف نیو ہیمپشائر میں اپنی مہم کے دوران مٹ رومنی نے صدر اوباما کی اس بات پر تنقید کی کہ ری پبلکن پارٹی سے بہترین انتقام ووٹنگ ہے۔ ’ووٹ انتقام لینے کے لیے؟ میں آپ کو بتاؤں: ووٹ ملک کے لیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم امریکہ کو ایک بہتر مقام پر لے کر جائیں۔‘

اس کے بعد کولوراڈو سپرنگز میں مٹ رومنی نے اپنے حامیوں سے کہا کہ منگل کے انتخابات ’مستقبل میں جھانکنے کا لمحہ ہوں گے، تصور کریں کہ ہم گذشتہ چار برسوں کو بھلانے کے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’ہم اس وقت بہت قریب ہیں۔ روشن مستقبل کا دروازہ ہمارے سامنے ہے۔‘

بی بی سی کی بریجٹ کینڈل اس وقت ریاست اوہائیو میں موجود ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہاں سب سے تند و تیز مہم چلائی جا رہی ہے۔ اب تک کوئی ری پبلکن امیدوار اوہائیو میں جیتے بغیر صدر نہیں بن سکا۔

تاہم وہ پوچھتی ہیں کہ جب لوگوں پر قبل از وقت ووٹ ڈالنے کے لیے اتنا دباؤ ہے، اور جب ممکنہ ووٹروں کی ایک قلیل تعداد نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے تو پھر آخری لمحے میں کی جانے والی اس تمام انتخابی مہم کا فائدہ کیا ہے؟

"’ہم اس وقت بہت قریب ہیں۔ روشن مستقبل کا دروازہ ہمارے سامنے ہے۔"

مٹ رومنی

ہماری نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے دو ووٹروں نے دونوں امیدواروں کے انتخاب پر ملک کے منقسم ہونے کی عکاسی کی۔ دفاعی کنٹریکٹر ڈیرک میڈوکس نے کہا ’میں رومنی کو ووٹ دوں گا۔ کم از کم ان کے پاس معیشت کی حالت بدلنے اور روزگار پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ وہ اس بات کو بہت مرتبہ ثابت کر چکے ہیں۔‘

تاہم ریٹائرڈ استاد انیتا ہلڈیگرن رجسٹرڈ ری پبلکن ہونے کے باوجود کہتی ہیں کہ وہ اوباما کو ووٹ دیں گی: ’ہو سکتا ہے کہ ہر چیز ٹھیک طریقے سے نہ ہوئی ہو لیکن بہت سی چیزیں ٹھیک ہوئی ہیں۔‘

اتوار کے دن اے بی سی نیوز اور واشنگٹن پوسٹ اخبار کے مشترکہ سروے میں دونوں امیدواروں کو اڑتالیس اڑتالیس فیصد حمایت حاصل ہوئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ غیر جانب دار ووٹر بھی چھیالیس چھیالیس فیصد پر منقسم ہیں۔

رومنی سفید فام، معمر اور مذہبی لوگوں میں، جب کہ اوباما عورتوں، غیر سفید فاموں اور نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہیں۔

صدر اوباما کو نو کے لگ بھگ ڈانواں ڈول ریاستوں میں معمولی برتری حاصل ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جو انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔