ترکی کا جواب، شامی طیاروں پر پابندی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 14 اکتوبر 2012 ,‭ 15:19 GMT 20:19 PST
شامی طیارہ

ترکی نے شامی ایئر لاین کے مسافر طیارے کو ماسکو سے دمشق جاتے ہوئے انقرہ میں اتار لیا تھا۔

شام کی جانب سے ترک طیاروں پر پابندی کے جواب میں ترکی نے بھی شامی مسافر طیاروں کے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی۔

ترک وزیرِ خارجہ احمد داؤد اغلو کا کہنا ہے کہ اس پابندی کی وجہ شام کی وزارتِ دفاع کا مسافر پروازوں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔

اتوار کو انقرہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم نے شام کے مسافر طیاروں کے لیے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جیسا کہ پہلے فوجی پروازوں کے لیے کی گئی تھیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ مسافر پروازوں کو شامی وزارتِ دفاع فوجی سازوسامان کی ترسیل کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ہم نے شامی حکام کو گزشتہ روز اس بارے میں ایک نوٹ بھیج دیا ہے‘۔

شام نے سنیچر کی شب سے ترکی کے مسافر طیاروں کو شام کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی تھی۔

یہ فیصلہ بدھ کے روز ترکی کی جانب سے شامی ایئر لائن کے مسافر طیارے کو ماسکو سے دمشق جاتے ہوئے انقرہ میں اترنے پر مجبور کرنے کے بعد کیا گیا۔

ترکی کا دعٰوی ہے کہ اس طیارے میں شامی فوج کے لیے روسی ہتھیار لے جائے جا رہے تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر دو طرفہ فائرنگ کے واقعات کے بعد سے تعلقات کشیدہ ہیں۔

ترکی اور شام کے باہمی تعلقات گزشتہ ہفتے شامی مارٹر گولہ گرنے سے پانچ ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد زیادہ کشیدہ ہوئے ہیں۔ اس حملے کے بعد ترک فوج نے بھی شامی علاقے پرگولہ باری کی تھی۔

ترکی کی حکومت نے شامی حزبِ اختلاف کی حمایت کی ہے اور صدر بشارالاسد کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

شامی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اپنی فضائی حدود میں ترکی کے طیاروں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ انقرہ کی جانب سے ایسے ہی اقدام کے جواب میں کیا گیا ہے۔

ترکی نے کسی طرح کی پابندی کا اعلان تو نہیں کیا تاہم یہ کہا ہے کہ اگر اسے شبہ ہوا تو وہ ایک بار پھر شامی طیاروں کو اترنے پر مجبور کرے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔