bbc.co.uk navigation

ملادچ مقدمہ: سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 مئ 2012 ,‭ 12:26 GMT 17:26 PST

ستر سالہ راتکو ملادچ پر الزام ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے قتل عام میں اہم کردار ادا کیا۔

بوسنیائی سرب فوجی کمانڈر راتکو ملادچ کے خلاف نسل کشی سمیت انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے گیارہ الزامات کے تحت چلنے والا مقدمے کی سماعت آغاز کے دوسرے دن ہی غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

دی ہیگ میں جرائم کی عالمی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے استغاثہ کی جانب سے مقدمے کے بارے میں مکمل وضاحتیں مہیا نہ کرنے پر سماعت ملتوی کی۔

جج الفانس اوری کا کہنا تھا کہ جج استغاثہ کی ان غلطیوں کے مکمل اثرات کا ابھی جائزہ لے رہے ہیں۔

جمعرات کو جب دوسرے دن سماعت شروع ہوئی تو استغاثہ نے سنہ انیس سو پچانوے کے ان حالات کا ذکر کیا ہے جن کے بعد سربنتزا کا قتلِ عام ہوا۔

عدالت میں دکھائی جانے والی ویڈیو میں پریشان اور خوفزدہ شہریوں کو ایسے وقت میں اقوامِ متحدہ کے ٹرکوں میں گھستے دکھایا گیا جب بوسنیائی سرب فوج ان تک پہنچنے والی تھی۔ اس کے بعد ویڈیو میں جنرل ملادچ کو فاتحانہ انداز میں قصبے میں داخل ہوتے دکھایا گیا۔

ویڈیو میں انہیں کہتے دکھایا گیا ’ہم اسے قصبے کو سربوں کو تحفتاً پیش کرتے ہیں‘۔

ملادچ پر سنہ انیس سو پچانوے میں سربرنتزا کے علاقے میں سات ہزار مسلمان لڑکوں اور مردوں کے قتلِ عام میں کلیدی کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ ان پر بوسنیائی دارالحکومت سراجیوو کا چوالیس ماہ تک جاری رہنے والے محاصرہ کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس دوران سراجیوو میں دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق یہ یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد ڈھائے جانے والے سب سے خوفناک مظالم تھے۔

"بوسنیائی سرب فوج ایک بےقابو فوج نہیں تھی اور جنرل ملادچ موقع پر موجود تھے اور اس فوج کا کنٹرول ان کے پاس تھا۔ سربنتزا میں بوسنیائی باشندوں کی نسل کشی ہوئی اور ہمیں سے فراموش نہیں کرنا چاہیے۔"

پیٹر میکلاسکی، وکیل ِ استغاثہ

استغاثہ کے وکیل پیٹر میکلاسکی نے کہا کہ سربنتزا میں ہونے والے جرائم کبھی بھی متنازع نہیں رہے اس لیے استغاثہ کی توجہ کا مرکز جرم کی انفرادی ذمہ داری پر ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بوسنیائی سرب فوج ایک بےقابو فوج نہیں تھی اور جنرل ملادچ موقع پر موجود تھے اور اس فوج کا کنٹرول ان کے پاس تھا۔ استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ ’سربنتزا میں بوسنیائی باشندوں کی نسل کشی ہوئی اور ہمیں سے فراموش نہیں کرنا چاہیے‘۔

خیال رہے کہ ستر سالہ ملادچ پر عائد الزامات میں سے نصف کو ختم کر دیا گیا تاکہ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت جلد سے جلد مکمل کی جا سکے۔

وہ نوے کی دہائی کی بلقان جنگ کے آخری بڑے مجرم ہیں جنہیں نیدرلینڈز کے شہر دا ہیگ میں جنگی جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کی عدالت میں مقدمے کا سامنا ہے۔

ستّر سالہ راتکو ملادچ پندرہ برس تک مفرور رہنے کے بعد گزشتہ برس مئی میں سرب فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے جس کے بعد انہیں دا ہیگ بھیج دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2013 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔