دمشق دھماکے: پچپن ہلاک، یو این کی مذمت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 مئ 2012 ,‭ 00:28 GMT 05:28 PST
شام میں دھماکے کی ایک فائل فوٹو

گزشتہ چند ماہ کے دوران دمشق کو متعدد بار بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے دارالحکومت دمشق میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق دارالحکومت دمشق میں دو بم حملوں کے نتیجے میں کم سے کم پچپن افراد ہلاک اور تین سو بہتر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق بم حملے’ مسلح شدت پسندوں‘ نے کیے۔ سرکاری ٹی وی پر بم دھماکوں کے بعد دکھائے جانے والے مناظر سے ایسا لگتا ہے کہ دھماکوں سے کافی نقصان ہوا ہے۔

شامی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے غیرملکی ہاتھ ملوث ہے۔

سلامتی کونسل نے شام میں فریقین نے کہا ہے وہ اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے چھ نکاتی امن منصوبے پر عمل کریں۔ بطور خاص مسلح تشدد کو ختم کیا جائے۔

اقوامِ متحدہ میں شام کے سفیر نے عرب اور دیگر غیر ملکی طاقتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام میں مسلح گروہوں کی مدد اور پشت پناہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ سے ایسی سرگرمیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

دمشق میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے شام میں حکومت مخالف تحریک کے دوران اب تک ہوئے دھماکوں میں سب سے تباہ کن دھماکے ہیں۔

یہ دھماکے دارالحکومت دمشق کے جنوبی علاقے القزاز میں ہوئے ہیں۔ شام میں جاری حکومت مخالف تحریک کے دوران دمشق کو گزشتہ کچھ مہینوں میں کئی بار بم حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اس سے قبل اپریل کے آخر میں مسجد کے قریب ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح آٹھ بجے اس وقت ہوا جب لوگ گھروں سے کام کے لیے جا رہے تھے۔

ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا دھماکہ اس مقصد سے کیا گیا کہ لوگوں کا ہجوم جمع ہو جائے اور اسی کے تھوڑی دیر بعد دوسرا دھماکہ ہوا جو کہ زور دار دھماکہ تھا۔

ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر میں تباہ ہونے والی گاڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ جس مقام پر یہ دھماکے ہوئے ہیں وہاں انسداد دہشت گردی کی ملٹری انٹیلیجنس کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔

یہ شعبہ حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی میں سرگرم رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسی عمارت کے قریب ملٹری سکیورٹی انٹیلجنس کی ایک اور عمارت ہے جو حملے میں تباہ ہوگئی ہے۔

دریں اثناء شامی فوج نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو حمص شہر پر بمباری کی ہے۔ حزب اختلاف کے کارکنان کا کہنا ہے یہ گزشتہ کئی ہفتوں میں کی جانے والی سب بھاری بمباری ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے امن منصوبے کے تحت گیارہ مبصرین وہاں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کرانے کوشش کے لیے تعینات ہیں لیکن بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ایسا کرنا ناممکن عمل لگتا ہے کیونکہ فریقین جنگ بندی کے ضوابط کے خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں مارچ دو ہزار گیارہ سے اب تک حکومت مخالف مظاہروں میں کم از کم نو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم شامی حکومت کے مطابق اب تک تقریباً چار ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔