bbc.co.uk navigation

شام پر دباؤ ڈالنے کے لیے عالمی کانفرنس

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 فروری 2012 ,‭ 05:36 GMT 10:36 PST

شام کی صورتِ حال پر منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ترکی سمیت دیگر ستر ممالک شرکت کر رہے ہیں

تیونس میں شام کی صورتِ حال پر کسی بڑی پیش رفت کے لیے ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے جس کا مقصد شام پر دباؤ میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

امریکہ، یورپ اور عرب ممالک ایک منصوبے کے تحت شام کے صدر بشار الاسد پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ شام کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امداد کی رسائی کو یقینی بنائیں۔

واضح رہے کہ شام پر حمص میں گزشتہ تین ہفتوں سے پھنسے ہوئے شہریوں تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو تشدد کے واقعات میں پچاس یا ساٹھ مزید افراد ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب روس اور چین نے عرب لیگ کی جانب سے منعقد کی جانے والی ’شام کے دوست‘ نامی کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ان دونوں کو مغربی اور عرب ممالک کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو روکنے پر تنقید کا سامنا ہے۔

شام کی صورتِ حال پر منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ترکی سمیت دیگر ستر ممالک شرکت کر رہے ہیں۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شام سے متعلق اس کانفرنس میں ایک اعلامیہ پیش کیا جائے گا جس میں ملک میں جاری تشدد کو فوری طور پر روکنے اور متاثرہ علاقوں میں امداد کی رسائی کو یقنی بنانے پر اتفاق کیا جائے گا۔

روس اور چین کا انکار

روس اور چین نے عرب لیگ کی جانب سے منعقد کی جانے والی ’شام کے دوست‘ نامی کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ان دونوں کو مغربی اور عرب ممالک کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو روکنے پر تنقید کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ نے اس کانفرنس کے موقعے پر ادارے کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو شام کے لیے اپنا سفیر مقرر کیا ہے۔

واضح رہے کہ کوفی عنان نے حالیہ برسوں میں متعدد بحرانوں کے خاتمے کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوفی عنان شام میں تشدد کے خاتمے اور امن قائم کرنے کے لیے اپنے اچھے تعلقات کو استعمال کریں گے۔

تیونس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ تمام ممالک پہلے سے طے کردہ اقدامات پر عملدرآمد کروانے کے لیے کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم امداد کی رسائی، شام پر دباؤ اور جمہوری تبدیلی پر ٹھوس پیش دیکھنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی برداری کو اکھٹا ہونا ہو گا۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ نے لندن میں ایک بیان میں کہا کہ تیونس کانفرنس کے ذریعے شام اور روس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے حمص میں مغربی میڈیا کے دو صحافیوں کی ہلاکت کو قتل قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسیا کرنے والوں کو اپنے عمل کا حساب دینا ہو گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حمص میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔