
شام میں حکومت کے خلاف احتجاج کو کچلنے کے لیے تشدد کا استعمال جاری ہے اور سرکاری فوج کی مبینہ کارروائی کے دوران بدھ کو حمص میں مغربی میڈیا کے دو صحافی ہلاک ہوگئے۔
ہلاک ہونے والے صحافیوں میں فراسیسی فوٹوگرافر ریمی اوشلِک ہیں جن کی ہلاکت کی تصدیق فرانسیسی حکومت نے تصدیق کی ہے۔ دوسری صحافی امریکی شہری میری کولوِن ہیں تاہم ان کے اخبار دی سنڈے ٹائمز نے اب تک تصدیق نہیں کی ہے۔
شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حمص کے ضلع بابا امر کے ایک مکان سے یہ دونوں صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے تھے اور وہ ہی مکان بم لگنے سے تباہ ہوگیا جس میں دونوں ہلاک ہوگئے۔یہ مکان حکومت مخالف مظاہرین میڈیا سینٹر کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
منگل کو میری کولوِن نے رپورٹنگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حمص میں سرکاری فوجیں شہریوں کی پرواہ کیے بغیر بے رحمی سے گولے برسا رہی ہیں۔ اس حملے میں شام کے ایک کارکن رامی السید بھی ہلاک ہوگئے جنہوں نے حمص کی صورتحال کی فوٹیج فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
فرانس کی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ریمی اوشلِک کی ہلاکت کی تحقیقات کریں گے۔
’میں فرانس کے صحافی کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کروں گا کہ یہ قتل کِن حالات میں ہوا۔ شام میں صورتحال کو ابتر کرنے کا یہ ایک اور مظاہرہ ہے اور یہ ایک جبر ہے جو ناقابلِ برداشت ہے۔ مجھے امید ہے کہ تیونس میں جمعہ کو شام کے دوستوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ہم شام کے پرامن حل کی جانب پیش رفت کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔‘
شام میں منتقلیِ اقتدار کی قومی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کی ایک رکن بسمہ قدومی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اِن صحافیوں کو حکومت کے حامیوں نے ہلاک کیا ہے۔
’آج زمین پر گواہ صرف غیر ملکی صحافی ہیں اور یہاں کی آبادی چاہتی ہے کہ غیر ملکی صحافی یہاں کی صورتحال کو دنیا تک پہنچائیں۔ تو اس لیے صحافیوں کو مارنے کی کوئی اور وجہ نہیں۔ لہٰذا عین ممکن ہے کہ ایسے لوگ جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ حمص میں صحافیوں کو کام کرنے سے باز رکھنا چاہتے ہیں۔‘
بسمہ قدومی نے کہا کہ شام کے صدر بشارالاسد جان بوجھ کر حمص کو صحافیوں کے لیے غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ قدومی کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد نے غیر ملکی صحافیوں کو آنے کی اس لیے اجازت دی کیونکہ ان پر دباؤ تھا لیکن وہ ان کے لیے صورتحال انتہائی خطرناک بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ صحافیوں کے لیے حمص ممنوعہ قرار دے دیں گے تاکہ وہ حمص میں اپنے مذموم عزائم مکمل کرسکیں۔

















