
پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ایک احتجاجی کارکن ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے
سعودی عرب کے شمالی شہر قطیف میں ایک مظاہرے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
جمعرات کی رات ہونے والے مظاہرے میں اکیس سالہ منیر المدنی کے سینے میں گولی لگی۔
پولیس نے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے پولیس پر فائرنگ کے بعد جوابی فائرنگ کی گئی تھی۔
اطلاعات ہیں کہ مظاہرین شیعہ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے۔
قطیف میں شیعہ آبادی کی اکثریت ہے جنہیں شکایت ہے کہ وہ السعود خاندان کے سنی حکمرانوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں۔
سعودی حزبِ اختلاف کی ویب سائٹ کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں چھ افراد زخمی بھی ہوئے۔ ویب سائٹ پر جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک نوجوان جس کی شناخت مدنی کے نام سے کی گئی ہے خون میں لت پت ہے۔
بعدازاں ملک کے شمالی صوبے کے پولیس کے ترجمان نے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کو بتایا کہ ایک احتجاجی کارکن ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے۔

نومبر میں چار روز کے احتجاج کے دوران قطیف میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے
انہوں نے کہا ’گشت کے دوران سکیورٹی فورسز پر مسلح نقاب پوشوں نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور چار قانون شکن افراد زخمی ہوگئے جن میں سے ایک ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔‘
سعودی عرب کے شمالی صوبے میں احتجاج اُس وقت شروع ہوئے جب پڑوسی ملک بحرین میں شیعہ اکثریت نے سنی اقلیتی حکمرانوں کے خلاف احتجاج کیا جسے سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے تعاون سے کچل دیا گیا۔
نومبر میں چار روز کے احتجاج کے دوران قطیف میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ چاروں مسلح تھے اور بیرونی احکامات کی تکمیل کررہے تھے جس کا الزام عام طور پر ایران پر لگایا جاتا ہے۔
گزشتہ ماہ العوامیہ میں بھی احتجاج ہوا تھا جس میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔
سعودی عرب میں مارچ سے شروع ہونے والی احتجاجی مہم کے دوران تقریباً پانچ سو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے اسّی اب تک سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں جن میں ایک مصنف ناظر المجید اور ایک انسانی حقوق کے کارکن فاضل المنصف بھی شامل ہیں۔

















