
ارجنٹائن کو فاکلینڈ کے جزیروں پر برطانیہ کی جانب سے ’فوجی تعیناتی میں اضافہ‘ پر تشویش ہے
ارجنٹائن کے وزیرِ خارجہ نے برطانیہ پر جوہری ہتھیاروں سے مسلح آبدوز جنوبی بحرِ اوقیانوس بھیجنے کا الزام عائد کیا ہے اور اس سلسلے میں فاک لینڈ کے تنازع پر اقوامِ متحدہ سے باضابطہ شکایت بھی کی ہے۔
وزیرِ خارجہ ہیکٹر ٹِمرمین نے کہا ہے کہ برطانیہ خطے میں اپنی آبدوز کے جائے وقوع کی تصدیق کرے۔
تاہم برطانوی حکام نے جنگی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فریقین سے اپیل کی تھی کہ وہ فاک لینڈ کے جزیروں کے تنازع پر کشیدگی کو ہوا نہ دیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان سنہ انیس سو بیاسی میں ان جزیروں پر جنگ چھڑ چکی ہے۔
ٹمرمین نے نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے دفتر میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ برطانیہ خطے میں جنگ کو ہوا دے رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے یہ ہی الزام ارجنٹائن کی صدر کرسٹینا فرنینڈز نے بھی لگایا تھا۔
ٹمرمین نے کہا ’ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ فاکلینڈ میں برطانیہ کی حالیہ تعیناتی میں جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوز بھی شامل ہے جس میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی ترسیل بھی کر سکے۔‘
برطانوی موقف
"سنہ انیس سو بیاسی میں ارجنٹائن نے فاکلینڈ کے جزیروں پر حملہ کیا تھا اور ہمیں اس وقت وہاں اپنے دفاع کو مضبوط بنانا پڑا تھا۔ اس وقت دفاع کے لیے ہم نے جتنی فوج تعینات کی تھی اس میں حالیہ مہینوں یا برسوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے"
مارک لیال گرانٹ
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ اطلاعات کیسے حاصل ہوئیں تاہم انہوں نے کہا کہ آبدوز جوہری میزائلوں کی ترسیل کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔
ارجنٹائن کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انہوں نے بان کی مون سے بات کی ہے انہوں نے برطانیہ سے ارجنٹائن کی شکایت کے بارے میں بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
لاطینی امریکہ اور کیریبیئن کا خطہ سنہ انیس سو ساٹھ کے معاہدے کے تحت جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دیا گیا ہے۔
ردعمل میں برطانیہ کے ایلچی مارک لیال گرانٹ نے ارجنٹائن کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی۔
’سنہ انیس سو بیاسی میں ارجنٹائن نے فاک لینڈ کے جزیروں پر حملہ کیا تھا اور ہمیں اس وقت وہاں اپنے دفاع کو مضبوط بنانا پڑا تھا۔ اس وقت دفاع کے لیے ہم نے جتنی فوج تعینات کی تھی اس میں حالیہ مہینوں یا برسوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔‘
برطانیہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ خطے میں معمول کا آپریشن کررہا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں یہ تنازع ہر سال شدت اختیار کرتا ہے اور اس میں فریقین کی جانب سے سیکریٹری جنرل کو خطوط ارسال کیے جاتے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس برس یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ارجنٹائن نے اپنی شکایت کے ساتھ لوگوں کی گواہی تفصیلی بیانات بھی مہیّا کیے ہیں۔

















